تنگ آمدبہ جنگ آمد

تنگ آمدبہ جنگ آمد

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے نیپرا میں سماعت کے بعد بڑے جذباتی انداز میں صوبے میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا رد عمل دیا ہے جب بھی صوبے کے عوام کیلئے آئین کے مطابق بجلی کی پیداوار میں صوبے کی ضروریات کے مطابق بجلی کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو وفاقی وزیر بجلی و پانی اور واپڈا کے وزیر مملکت کی جانب سے بجلی چوری کا کھلم کھلا طعنہ دیا جاتا ہے ۔ گویا سارے صوبے کے عوام بجلی چورہوں یا بلوں کی ادائیگی سے انکاری ہوں ۔ بد قسمتی سے ہمارے سیاسی قائدین اور حکمران اور میڈیا بھی کبھی اعداد و شمار کی روشنی میں ان الزامات کا جواب دینے کی سعی نہیں کرتے۔ سب سے زیاد ہ بجلی چوری پنجاب میں ہوتی ہے اوریہ اعداد وشمار سے ظاہر ہے مگر اس کا چرچا نہیں اور نہ ہی تذکرہ ہے ۔ بجلی چوری خواہ خیبرپختونخوا میں ہو یا پنجاب ،سندھ اور بلوچستان میں ہوتی ہے لیکن خیبر پختونخوا بد اچھا بدنام بر ا کے مصداق سبھی کی زبان پر ہے ۔ واپڈا کے وفاقی وزیر اور وزیر مملکت کے پی کے عوام کو بجلی چور قرار دیتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ اس صوبے میں ایسے صارفین کی کمی نہیں جو باقاعدگی کے ساتھ بلوں کی ادائیگی کرتے ہیں۔ اس کے باوجود کہ صوبے کی پن بجلی کی پیداوار اس صوبے کی ضروریات کیلئے کافی بلکہ فاضل ہے اور چونکہ ہم پن بجلی استعمال کرتے ہیں اس لئے صوبے کے عوام سے بجلی کے بلوں کی وصولی پن بجلی کی پیداوار کی لاگت اور سپلائی کی نسبت ہونی چاہیئے ۔ ہمیں خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں بجلی چوری اور بلوں کی ادائیگی سے ہر گز انکار نہیں مگر اس کا طریقہ یہ نہیں کہ واپڈا کے کرتا دھرتا الزام لگا کر چھوڑ دیں ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس وفاقی وزیر اور وزیر مملکت کی وزارت میں یہ سب کچھ ہوتا ہے تو یہ ان کی عملداری کو چیلنج کرنے کا حامل معاملہ ہے ۔ اس کا حل ممکن ہے بشرطیکہ چوڑیاں اتار دی جائیں اور حکومتی طاقت کے ساتھ ان عناصر کے خلاف بھر پور مہم چلائی جائے ۔کیا ریاست اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ وہ لوگوں سے بجلی کے بلوں کی وصولی نہیں کرسکتی۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک بجلی چوروں کے خلاف مہم کیلئے قبل ازیں بھی پولیس فور س فراہم کرتے آئے ہیں اب بھی انہوں نے پیشکش کا اعادہ کیا ہے۔ بالفرض محال اگر بجلی چوروں کے خلاف کے پی حکومت اور کے پی پولیس تعاون نہیں کرتی تو وفاق فرنٹیر کانسٹبلری سے مدد لے سکتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں سے مدد لی جا سکتی ہے اس کا فیصلہ تو کرلیا جائے۔ اگر واپڈا اس امر کی ٹھان لے کہ ایک یونٹ کی بجلی کسی کو چوری کرنے نہیں دی جائے گی اور اس کیلئے صرف اپنے ادارے اور عملے سے کام لے تو نوے فیصد بجلی چوری کی روک تھام با آسانی ممکن ہوگی ۔ جہاں تک بجلی کے صوبے کی پیدا وار اور نیشنل گرڈ سے تقسیم کا تعلق ہے چونکہ ہم وفاق کی ایک اکائی ہیں اس لئے دستور کے مطابق حق نہ ملنے اور عدالتوں اور دیگر فورمز کی جانب سے بجلی کے خالص منافع کی رقم کی ادائیگی کی ہدایت اور فیصلوں کی خلاف ورزیوں کے باوجودبرداشت سے کام لینا ہی مصلحت ہے لیکن الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے عین مصداق عمل پر آخر کب تک تحمل کا مظاہر ہ کیا جاتا رہے گا۔ صوبے میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کے دوران اسی عشرے میں ہی دو قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے۔ مظاہروں کی شدت اور عوام کے بپھرے جذبات کا نجانے کیا عالم ہوتا کہ مالک کائنات نے ابر رحمت بھیج کر گرمی کو قابل برداشت بنا دیا۔ واپڈا کے وفاقی وزیر اور وزیر مملکت شاید ان مظاہروں کو بھی حریف جماعت کی حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرنے کا ایک ذریعہ جان کر مطمئن ہو رہے ہو ں گے وگرنہ کم از کم عوام کو تسلی تو دی جا سکتی تھی اور ان کو یہ مشکل سمجھائی جا سکتی تھی کہ ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی مجبوری کے اسباب وعلل کیا ہیں۔ کہنے کو تو لوڈ شیڈنگ کے مکمل خاتمے کی بڑی تاریخیں اور ماہ و سال دیئے گئے اور بار بار دعوے کئے گئے مگر اب رخت سفر باندھنے کا وقت آیا چاہتا ہے تو بھی پرنالہ وہیں کا وہیں گر رہا ہے۔ آخر وفاقی حکومت اپنے وعدوں کی تکمیل اور عوام کو لوڈ شیڈنگ سے نجات کا وعدہ کب پورا کرے گی۔ یہاں پر صوبائی حکومت کی کار کردگی اور اقدامات بھی کافی نہیں صوبائی حکومت گرڈسٹیشنز کیلئے اراضی دینے اور پوری طرح تعاون کی ذمہ داری پوری کرنے میں تساہل برت رہی ہے بلکہ صوبائی حکومت اپنے صوبے میں صوبائی وسائل سے 350چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کا جو دعویٰ کرتی رہی وقت رخصت اس کی پٹاری میں بھی بجلی کے منصوبوں کی تیزی کے ساتھ تکمیل اور عوام کو اپنے حصے کی سہولت کی فراہمی میں کامیابی نہیں ۔ بجلی کے خالص منافع کی رقم سے صوبے کے حصے کی ادائیگی اور بقایاجات کا بے باق کیا جانا اگر صدر و وزیر اعظم کی ہدایت اور عدالت عظمیٰ کے احکامات اوررضامندی کے اظہار اور وعدہ کے باوجود بھی ممکن نہیں تو واحد راستہ بزور بازو ہی رہ جاتا ہے مگر یہ ممکن نہیں کہ اس پر بغاوت پر اتر آیا جائے ۔ جہاں تک صوبائی حکومتوں اور سیاسی عمائد ین کی جدوجہد اور باہم تعاون کا سوال ہے موزوں فورمز پر ایسا نظر تو آتا ہے مگر مئوثر کیوں نہیں اس کے عواقب کیا ہیں یہ اپنی جگہ قابل غور امر ہے ۔ ہر معاملے پر سخت احتجاج کرنے والی حکمران جماعت اس خالص عوامی مسئلے پر اس طرز کا احتجاج کیوں نہیں کرتی۔ عوام کے ذہنوں پر طاری اس سوال کا جواب ملنا چاہیئے ۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک جذبات پر مبنی بیان بازی کی بجائے ان ممکنہ اقدامات پر غور کریں جن سے صوبے میں لوڈ شیڈنگ میں کمی لائی جا سکے اور واپڈا سے صوبے کے حصے کی بجلی کی وصولی ممکن بنائی جا سکے ۔نیز بجلی کے خالص منافع کی رقم اور بقایا جات کی وصولی ممکن ہو۔ اگر ارکان اسمبلی کا اسلام آباد میں احتجاج وزیر اعظم سے ملاقات ، قومی اسمبلی و سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹیوں میں جدوجہد اور دیگر ذرائع سے ناکامی ہی کی صورت دکھائی دیتی ہے تو عوام نے جو راستہ اختیار کیا ہوا ہے حکمران اور سیاستدان بھی اسی میں شامل ہو جائیں ۔ عوام کا تویہی خیال ہے لیکن بہر حال جذبات کی رو میں بہہ جانے کی حمایت نہیں کی جاسکتی مگر دوسری جانب جس طرح حالات چل رہے ہیں یہ بھی تو قابل برداشت امر نہیں جس کا وفاقی حکومت کو احساس ہو نا چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں