کس کا بجٹ اور کیوں ؟

کس کا بجٹ اور کیوں ؟

وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ کی دانست میں تو صوبائی بجٹ سب کا ہے اسے پی ٹی آئی کا بجٹ قرار دینا ان کی دانست میں مناسب نہیں۔ اگر وہ اپنے علاقے اور پارٹی سے تعلق رکھنے والے احتجاجی اراکین اسمبلی سے اس کی گواہی دلوا سکیں تو اس پر دوسرے اراکین اسمبلی بھی غور کریں۔ بجٹ کی دستاویزات کی حد تک اگرفنڈز کی تقسیم کا جائزہ لیا جائے تو ممکن ہے نوشہر ہ اور صوابی کو نہ نوازا گیا ہو ۔ مگر جب فنڈز کے اجراء اور استعمال کا وقت آتا ہے تو پھر خودوز یر خزانہ کے ہم جماعتوں کو بھی احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے ۔ یہ روایت ضرور رہی ہے کہ فرنٹیر ہائوس کا ہر مکین اپنے اپنے علاقے کو پیرس بنانے کے خواب دیکھتا آیا ہے۔ صوابدیدی فنڈز سے لیکر ترقیاتی فنڈ زتک اورنجانے کس کس طرز اور طریقے سے منظور نظر حلقوں کو فنڈ ز دل کھول کر فراہم کئے جاتے رہے ہیں مگر یہ پہلی بار ہے کہ صوبائی وزیر خزانہ پر اپنے علاقے اور جماعت کے ارکان نے عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس صوبے کے وسائل پر پورے صوبے کے عوام کا یکساں حق ہے اور وسائل کی تقسیم میں کسی ضلع اور حلقے کو نظر انداز نہیں کیا جا نا چاہیئے بہر حال صوبائی وزیر خزانہ اگر اپنی یقین دہانی اور دیئے گئے تاثر میں مخلص ہیں تو اس کی آزمائش میں بھی دو ماہ ہی کا عرصہ ہے۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں مختص فنڈز کا ویسے بھی پچاس فیصد اجراء ابتدائی مہینوں میں کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ابھی بجٹ پر اسمبلی میں بحث ہونی ہے اور حزب اختلاف کی تجاویز اور مطالبات بھی آنے ہیں۔ اس مرحلے پر صوبائی وزیر خزانہ اپنی جماعت سمیت دیگر ارکان اسمبلی کی تجاویز اور مطالبات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اور ان کو کس حد تک مطمئن کرنے کی سعی کرتے ہیں اگر وہ اس میں کامیاب ہو گئے تو اسے کوئی بھی پی ٹی آئی کا بجٹ قرار دینے کی غلطی نہیں کرے گا بلکہ اسے یقینا سراہا جائے گا ۔
عید الفطر پر عملہ صفائی کی چھٹیاں
میونسپل ملازمین کو عید الفطر کے موقع پر چار چھٹیوں کی اجازت سے شہر میں پہلے سے خراب صفائی کی صورتحال کا جو بھی عالم ہو سوال یہ ہے کہ کیا میونسپل ملازمین ہی عید پر چھٹی نہیں کرتے اور باقی تمام ملکی اداروں میں تعطیل ہوتی تھی۔ ایساہر گز نہیں بعض محکمے اور ملازمتیں اس نوعیت کی ہوتی ہیں کہ اس میں اجتماعی طور پر چھٹی کی گنجائش نہیں ، فوج ، ائیر پورٹ سیکورٹی ، پولیس ، حساس ادارے ہی نہیں ریڈیو، ٹیلی ویژن ، ریلوے ، محکمہ جیل خانہ جات ، محکمہ ڈاک ، سول ایوی ایشن اتھارٹی غرض کئی ایک محکموں میں کسی بھی حالت میں ملازمین کو چھٹی پر بھیجنا ممکن نہیں ہوتا ۔ بلاشبہ عید الفطر مسلمانوں کا سب سے پر مسرت تہوار ہے اس موقع پر لوگ دو ر دور سے اپنے خاندان کے ساتھ عید منانے آتے ہیں لیکن جہاں فرض کی ادائیگی اور عوام الناس کے مفاد کا تقاضا ہو وہاں پر چھٹی سے زیادہ فرض کی ادائیگی ضروری ہے ۔ بلدیہ کا اکثر عملہ صفائی ایسٹر کے موقع پر تہوار کی چھٹیاں لے چکا ہے ان کی ڈیوٹی لگائی جا سکتی ہے اور ان ملازمین کو عوام کی خدمت پر اعتراض نہ ہوگا لیکن لگتا یہی ہے کہ یا تو یونین اہلکاروں کی ضد ہے یا پھر انتظامیہ اضافی معاوضوں کی ادائیگی سے جان چھڑاناچاہتی ہے عید الفطر پر عملہ صفائی کی چارچھٹیوں کا اگر فیصلہ ہو ہی چکا ہے تو متعلقہ حکام کم از کم اس امر کو تو یقینی بنائیں کہ 29رمضان المبارک تک شہر میں صفائی کی مہم چلائی جائے اور شہر کو عید الفطر کیلئے پوری طرح صاف ستھرا کیا جائے۔ شہریوں کو بھی اس ضمن میں تعاون کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور عید الفطر کے ایام میں اپنے گلی محلے کی صفائی کا خیال رکھنا ہوگا۔ جو علاقے پی ڈی اے کے پاس ہیں ان علاقوں میں پی ڈی اے کو صفائی کے عملے کو حاضر رکھنے کو یقینی بنا کر ڈبلیو ایس ایس پی سے خود کو بہتر اور ذمہ دار ادارہ ثابت کرنے کی سعی کی جائے تاکہ اس کے زیر انتظام علاقے کے شہری کم از کم متاثر ہوں ۔

متعلقہ خبریں