بینکوں کے خراب اے ٹی ایم

بینکوں کے خراب اے ٹی ایم

سائنسی اور ٹیکنالوجیکل ترقی نے اگر ایک طر ف زندگی سہل کر دی توساتھ ہی ہماری زندگی میںنئے مسائل بھی پیدا کئے۔ سائنس اور میڈیا کو دو دھاری تلوار کہا جاتا ہے ۔ اس کے اگرکچھ فوائد ہیں تو نُقصا نات بھی بُہت ہیں ۔ مگر بد قسمتی سے ہمارے ملک میں سائنس سے فائدہ کم اور ہماری نااہلی کی وجہ سے نُقصان زیادہ ہے۔ سائنس نے ہمارے لئے بجلی بنائی مگر ہماری نااہلی کی وجہ سے لاکھوں میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے صلا حیت کی با وجود اکثر بجلی نہیں ہو تی ۔ سُنا ہے کہ امریکہ میں گزشتہ 50 سال سے ایک منٹ کے لئے بھی بجلی کا بریک ڈائون نہیں ہوا ۔ایک سکالر کہتے ہیں کہ اگر انیسویں اور بیسویں صدی کی سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کو انسانی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کیا گیا ہوتا ،تو افریقہ اور سری لون سے لیکرایک ترقی یا فتہ ملک تک ٦ ارب لوگوں کی زندگی کا معیار امریکہ کے معیار زندگی کے برابر ہو تا۔مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی انسان کی فلاح اور بہبود کے بجائے منفی اور انسان دشمن سر گر میوں کے لیے استعمال ہو تی رہی۔

جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں انسان غُربت ،افلاس ، بے روز گاری اور اس کے نتیجے میں خود کشی کی طرف مائل ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں سردیوں میں گیس اور گر میوں میں پانی اور بجلی کی مسلسل 15 سے 18 گھنٹے لو ڈ شیڈنگ ہو تی رہتی ہے۔ اب تو ہماری نااہلی کی انتہا ہے کہ نہ تو گیس، نہ پانی اور نہ بجلی ہو تی ہے۔ بینکوں نے اے ٹی ایم لگائی تو ہمیں یہ آسرا ہوا کہ چلو ملک کے کسی حصے میں کسی بھی وقت بینک سے پیسے نکالے جا سکیں گے۔ مگر بد قسمتی سے گزشتہ کئی برسوں سے اس ٹیکنالوجی کے متعارف ہو نے کے بعد اس میں بھی وہی مسائل رہتے ہیں۔گزشتہ دنوں صوابی، مردان پشاورسے چند دوستوں نے مجھے فون کیا، کہ یہاں ہمارے متعلقہ علاقوں میں سارے اے ٹی ایم خراب ہیں۔ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید پنڈی اسلام آباد جو ملک کے بڑے جُڑواں شہر ہیں اور وفاقی دارالحکومت بھی ہے، وہاں یہ مسئلہ نہیں ہوگا اور حالت کچھ بہتر ہوگی۔ میں نے اُن کو کچھ نہیں بتا یا ،مگر اس سلسلے میں کئی قومی رو ز ناموں اور الیکٹرانک میڈیا پر ارباب اختیار کے مُردہ ضمیر جگانے کے لیے کچھ خبریں دیں۔ اورمتعلقہ بڑے اہل کاروں نے وعدہ بھی کیا کہ یہ مشینیں جلدی ٹھیک کر دی جائیںگی۔مگر کچھ نہیں کیا گیا گزشتہ جمعہ کو میں اور میر ایک دوست ایک بینک چلے گئے ، سوچ رہے تھے ،کہ جلدی پیسے نکا لیں اور نماز جُمعہ کے لئے پہنچیں گے، مگر بد قسمتی سے کبھی اے ٹی ایم پر ایک اور کبھی دوسرامیسج آتا تھا۔ کبھی میسج آتا تھا کہ آپکا پن کو ڈ ٹھیک نہیں اور کبھی میسج آتا تھا کہ آپکے اکا ئونٹ میں پیسے نہیں۔ بہر حال پیسے بھی تھے اور پن کو ڈ بھی ٹھیک تھا مگر بد قسمتی سے اے ٹی ایم میں خرابی تھی۔ اگلے دن میں دو بارہ ایک اے ٹی ایم پر گیا، تواے ٹی ایم سے پیسے نہیں نکلے، مگر مشین نے ہاتھ میں ایک چٹِ تھما دی"تھینک یوُ ویری مچََ" کہ آپ نے بینک کے اے ٹی ایم سے پیسے نکالے۔
گزشتہ روزہما رے ایک دوست کی والدہ فو ت ہوئی ۔ رات کے دو بجے تھے ہم دونوں کے پا س تھوڑے تھوڑے پیسے تھے مگر ان پیسوں سے اسکا کام چلانا مشکل تھا کیونکہ اس نے اپنی والدہ کی میت کو پنجاب کے دور دراز علاقے لے کے جا نا تھا ۔ میرے پا س اے ٹی ایم کا رڈ تھا ۔ ہم باہر نکلے کہ کا رڈ سے پیسوں کا مسئلہ حل ہو جائے گا ہم تقریباً 10بینکوں کے اے ٹی ایم چیک کئے مگر سب میں کوئی نہ کوئی خرابی پا ئی گئی۔آخر ایک دوست کو جگا کر پیسوں کابندوبست کیا گیا۔میں نے تو یہ کارڈ اس لئے بنایا تھا کہ بوقت ضرورت کام آئے گا مگر جب بھی ہمیں ضرورت پڑی اس میں کوئی نہ کوئی مسئلہ نکلتا رہتا ہے۔ ہمارے بینکوں میں اے ٹی ایم تو لگائے گئے مگر ان مشینوں کو چلانے اور ٹھیک کر نے کے لئے کوئی تکنیکی عملہ نہیں رکھا گیا ۔ مشین میں تھوڑے سے نقص پر صا رفین کو پریشانی کا سا منا کر نا پڑتا ہے۔
یہاں یہ بھی بد قسمتی ہے کہ پنڈی اسلام آباد، لاہور کراچی ، پشاور اور دوسرے بڑے شہروں میں تو پھر بھی لوگوں کے شور اور واویلا سے کچھ نہ کچھ ہو جا تا ہے مگر صوابی یا اس جیسے دوسرے شہروں اور قصبوں میں تو کئی کئی دن تک اس قسم کے مسائل کا کوئی حل نہیں نکلتا ۔ بجلی کی تار تب تبدیل ہو تی ہے کہ جب وہ کسی کے اوپر گر تی ہے اور گٹر کو ڈھکنا تب لگتاہے جب اس میں گر نے سے دو تین اموات واقع ہو تی ہیں۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد کے ایک پارک میں جھولا ٹو ٹنے سے ایک بچے کی موت واقع ہوئی۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اس ملک کا کوئی والی وارث نہیں۔ ہر جگہ بدنظمی اور بے ترتیبی پائی جاتی ہے۔ کوئی کچھ بھی کر لے کوئی پو چھنے والا نہیں۔اگر کوئی 1000 روپے کلو گو شت بیچ رہا ہو تو اس کا کوئی پو چھنے والا نہیں ہو گا ۔ یہ اور بات ہے کہ لو گوں کی قوت خرید میں کمی کی وجہ سے چیزوں کے استعمال میں کمی ہوئی ۔ ورنہ ہمارے حکمرانوں نے تو کوئی کثر چھوڑی نہیں کہ ہم اچھائی کی اُمیدبھی رکھیں۔ میری حکومت اور ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ وہ اچھی حکمرانی کی طرف توجہ دیں اور عید کے دنوں میں اکثر بینکوں کے جو اے ٹی ایم خراب ہوتے ہیں ۔ ان کو ٹھیک کرنے کے لئے ابھی سے اقدامات کئے جائیں۔ کیونکہ اس سے عوام اور بالخصوص تنخواہ دار طبقے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

متعلقہ خبریں