یہ کڑیاں جوڑ لیجئے

یہ کڑیاں جوڑ لیجئے

ایک محاورہ ہے چو مکھی لڑنا ۔ ویسے تو ہم جیسے جیسے ترقی کر رہے ہیں اردو کا گلا خود ہی گھونٹ رہے ہیں یہ زبان جسے ہماری شناخت بن جانا تھا ، اسے ہم نے ترقی کی خواہش کے نام پر ایک اندھیری بند گلی کے ایک نیم تاریک کونے میں کھڑا کر دیا اور پھر اسے کبھی وہاں سے باہر نکلنے کا موقع ہی نہیں مل سکا کیونکہ ہم نے انگریزی سیکھنے کی خواہش کو اردو کے ساتھ بے وفائی میں یوں ضم کیا کہ کون کیا ہے اسکی کوئی تمیز ہی باقی نہ رہی لیکن یہ ایک الگ بحث ہے ۔ جس پر پھر کبھی بھی بات ہو سکتی ہے ۔ چو مکھی لڑنے کی بات ہورہی تھی ۔ آج تک چو مکھی صرف لڑی ہی جاتی رہی ہے لیکن اب اپنے حکمرانوں کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ چو مکھی لوٹا بھی جا سکتا ہے ۔ اور چومکھی لوٹنا محاورہ بھی اب لغت میں شامل کیا جانا چاہیئے ۔ یہ قوم پچھلے کئی ماہ سے حکمرانوں کی دولت کا حساب اور راستے کی اُلجھن میں پھنسی ہوئی ہے ۔ ہمیں کوئی کہانی نہیں بھولتی کیونکہ کسی بھی شخص کو اپنی جیب میں کسی دوسرے کا ہاتھ کبھی بھول نہیں سکتا ۔ ہماری زندگیوں کا اضطراب اور جھنجھلاہٹ بھی سب حکمرانوں کی دان کردہ عنایتیں ہیں لیکن ہم اپنی ریڑھ کی ہڈی گنوا چکے ہیں شاید زندگی کی مشقت نے ہی کسی قابل نہیں چھوڑا تبھی تو سب جانتے بوجھتے بھی ہم اپنے راستے نہیں بدلتے ۔ اپنی سمت درست نہیں کرتے ، کبھی چاہتے ہیں عمران خان کے دھرنے سے حکومت اُلٹ جائے ، کبھی چاہتے ہیں کہ عدالت انہیں مجرم گردانے اور قرار واقعی سزا دے ۔ یہ کمال کی بات ہے کہ انسان اپنے مرض کی دوا کسی اور کہ منہ میں ڈالے اور پھر سوچے کہ مجھے شفا ہوگی ۔ اور ہم یہی کررہے ہیں ۔ بحیثیت قوم ہماری نفسیات تباہ ہو رہی ہے لیکن ہم ہلنے کے نہیں ۔ افسوس تو اس بات کا بھی ہے کہ وہ ہمیں جس طور لوٹتے ہیں ، ہمیں ان میں سے آدھی چیزوں کا بھی پتا نہیں ۔ جانے ہمیں اپنے ہی مفاد کا کب احساس ہونے لگے گا ۔ نوے کی دہائی میں واپڈا کی بری کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس کے نظام میں واضح تبدیلیاں لائی جائینگی اور اسے پرائیویٹا ئزیشن کی جانب لایا گیا تھا ۔ 1995ء میں اس فیصلے کی اجازت مشترکہ مفادات کی کونسل سے لی گئی اور 1997میں یہ معاملہ طے پایا گیا ۔اسکے بعد واپڈا کے کام انواع واقسام کی چودہ کمپنیوں میں تقسیم کئے گئے ۔ عوام کو یہ توجیہہ پیش کی گئی کہ واپڈا کے کام میں سیاسی مداخلت بے جا رہتی ہے اور نظم بھی درست نہیں اس لیے یہ کام کیا جا رہا ہے ۔ اس وقت تک واپڈا بجلی پیدا کرتا تھا ، اور اسے صارفین تک پہنچانے اور وصولیوں کا بھی ذمہ دار تھا ۔ واپڈا کے اس کام کے حصے بخرے کئے گئے اور کئی آزاد کمپنیاں بنائی گئیں ۔ جنہیں انکی ذمہ داریوں کے حساب سے نام دیئے گئے ۔ اور انکے فرائض پر کڑی نگاہ رکھنے کے لئے ایک ریگولیٹری اتھارٹی بنائی گئی جس کا نام نیپرا رکھا گیا ۔ یہ اتھارٹی مکمل طور پر آزاد تھی۔ بجلی کی قیمتوں کے تعین سے لے کر ہر قسم کے نظم ونسق کی نگرانی بھی اس اتھارٹی کا کام تھا ۔ چونکہ کام بھی تکنیکی طور پر خاصا مشکل اور پیچیدہ نوعیت کا تھا اس لیے اثرات بھی خاصے کم تھے ۔ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں الگ کردی گئیں ، جن کا کام صرف بجلی پیدا کرنا تھا۔ اس بجلی کو خریدنا ایک الگ کمپنی کا کام تھا اور اسے ان کمپنیوں تک پہنچا نا جو اس بجلی کو صارفین تک پہنچائیں ایک الگ کمپنی کا کام تھا جس کا نام این ٹی سی تھا ۔ این ٹی ڈی سی خریدی ہوئی بجلی کو ڈسکوز (Discos) تک پہنچانے کا ذمہ دار تھا اور یہ Discos پھر بجلی صارفین تک پہنچاتی تھیں ۔ آئی پی پیز اور مختلف بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں سے ایک ادارہ بجلی خریدتا تھا ۔ پھر اس سے وہ ادارہ بجلی حاصل کرتا جو بجلی صارفین تک پہنچا نے والی کمپنیوں تک لے کر جاتا ۔ اور پھر یہ کمپنیاں صارفین تک یہ بجلی پہنچاتیں ، ہر بار اسی بجلی کی قیمت میں اپنے سروس چارجز شامل کرتی جاتی اور جب بجلی صارفین تک پہنچا نے کی بات آتی تو حکومت کو Subsidyبھی دینی پڑتی ۔ ان سب کمپنیوں کو اصولی طور پر آزاد کمپنیاں ہوںتاکہ مارکیٹ اور مقابلے کی طاقتیں مسائل کو احسن طریقے سے حل کرنے میں ممدومعاون ثابت ہوں مقابلے کی اس فضا کے باعث صارفین کو ملنے والی بجلی کی قیمت کم ہو سکے ۔ معاملات چلتے رہے اور بگڑتے بھی رہے جو ہمارا معمول ہے لیکن نیپرا اس حد تک درست کام کرتا رہا کہ اس نے ان کمپنیوں کو لائن لاسز (Line losses)کم کرنے کے بھی سخت ٹارگٹ دیئے اور بجلی بھی ایک حد سے زیادہ مہنگی نہ ہونے دی ۔ لیکن اب ہمارے ملک میں سی پیک کا ہاتھ تھامے کوئلے سے بجلی بنانے والے تیرہ کارخانے داخل ہو رہے ہیں جن کا مالک بظاہر چین ہے درپردہ اس میں ہمارے کئی سیاست دانوں کا اچھا خاصا حصہ موجود ہے ۔ یہ کارخانے کام کرنا شروع کرینگے تو بجلی خریدنے کے نرخ سے لے کر صارفین کو فروخت کرنے تک نیپرا ہر معاملے میں مد خل رہے گی ۔ شاید اسی لیے حال ہی میں وزیر اعظم نے نیپرا کی آزادی ، قیمتوں کے تعین کی حد تک تو سلب کرنے کا اعلان کردیا ہے اور اس کی اجازت بھی مشترکہ مفادات کی کونسل سے لے لی گئی ہے ۔ اس وقت اگر یہ سب ہو رہا ہے ، تو اس کے آپس میں تانے بانے جوڑنا شاید مشکل نہ ہو گا ۔ ذرا سو چیئے ۔ 

متعلقہ خبریں