قصہ دو افطاریوں کا

قصہ دو افطاریوں کا

رمضان المبارک میں افطار پارٹیاں سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا موجب بن جاتی ہیں۔ رمضان المبارک کے پہلے ہفتے دو اہم افطار تقریبات میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ اسلام آباد کلب میں تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و ترجمان جناب نعیم الحق کی جانب سے سابق وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے اعزاز میں افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔ افطار کے بعد نعیم الحق سے بغل گیر ہوا تو میں نے کان میں سرگوشی کی کہ مستقبل کے وزیر اطلاعات نے سابق وزیر اطلاعات کے اعزاز میں استقبالیہ دیا ہے۔ نعیم الحق نے نفی میں تیز تیز سر ہلایا اور کہنے لگے کہ آپ جانتے ہیں کہ تحریک انصاف میڈیا کو کنٹرول کرنے یا ریگولیٹ کرنے کو سرکاری سطح پر پسند نہیں کرتی لہٰذا تحریک انصاف کی حکومت میں وزیر اطلاعات و نشریات کا عہدہ نہیں ہوگا۔ میرے لبوں سے بے ساختہ ''واہ'' کی صدا نکلی۔ سچ یہ ہے کہ انہی نظریات کی وجہ سے تحریک انصاف میرے لیے ہمیشہ کشش کاباعث رہی ہے۔ تحریک انصاف روایت پرست سیاسی جماعتوں سے ہٹ کر سوچتی ہے جس کا مظہرخیبر پختونخوا میںہمارے سامنے موجود ہے۔ معلومات تک رسائی کاقانون ایک غیر معمولی سوچ کا مظہر ہے جسے خیبرپختونخوا میں نافذ کیا گیا ہے اور جس کی تعریف دوست دشمن سب کرتے ہیں کہ کیسے زبردست انداز میں سرکاری اداروں اور شخصیات کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ عام شہریوں کو معلوما ت تک رسائی دیں۔ لوکل گورنمنٹ کا نظام بھی قابلِ تحسین ہے چونکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے مرتبہ ویلج کونسل کو فنڈز کی فراہمی کی گئی ہے اور اختیارات کو صحیح معنوں میں نچلی سطح پر منتقل کیا گیا ہے۔ مزید برآں 2013ء کے بعد ہم ایک ایسے خیبرپختونخوا سے متعارف ہوئے ہیں جہاں ایف آئی آر کے اندراج کے لیے تھانے جانے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ گھر میں بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے پولیس کی ویب سائٹ پرجرم کی رپورٹ درج کرائی جا سکتی ہے۔ کیا یہ سہولت پنجاب یا دیگر کسی صوبے میں شہریوںکو حاصل ہے؟یوں تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں جو غیر معمولی کام کیے ہیں بلاشبہ ان کا کوئی ثانی نہیں ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تحریک انصاف میں آج تک عمران خان کے علاوہ کسی نے میڈیا پر آ کر صحیح نمائندگی کا حق ادا نہیں کیا۔ اسد عمر کسی حد تک لوگوں کو متاثر کرتے ہیں لیکن زیادہ تر تحریک انصاف کے لوگ بغیر تیاری کے ٹی وی سکرین کے سامنے آ کر بیٹھ جاتے ہیں جس کا فائدے کے بجائے نقصان ہو رہا ہے۔ تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق نے جب میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تیقن سے یہ بات کی تو مجھے خوشی اور اطمینان ہوا کہ آج بھی تحریک انصاف اپنے پہلے دن کے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹی اور اس کی طے شدہ پالیسیوں میں کوئی تبدیلی واقع ہونے کا امکان بھی نہیں ہے۔ جمعہ دو جون کو سعودی سفارت خانے کی جانب سے اسلام آباد کے مقامی پنج ستارہ ہوٹل میں حکومتی زعماء ' اراکین پارلیمنٹ اور سینئر صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کا اہتمام تھا۔ وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور سینیٹ میں قائد ایوان جناب راجہ ظفر الحق کے علاوہ مولانا فضل الرحمان ' ڈپٹی چیئرمین سینیٹ علامہ عبدالغفور حیدری اور بریلوی مسلک کے سربلند قائد علامہ شاہ احمد نورانی کے صاحبزادے اویس نورانی سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد اس افطار ڈنر میں شریک تھی۔ مولانا فضل الرحمان خیر افطار ڈنر سے قبل ہی چلے گئے البتہ مولانا عبدالغفور حیدری وہاں تادیر موجود رہے۔ راجہ ظفر الحق سے میرا آمنا سامنا ہوا تو آپ نے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو ملنے جلنے سے ہی رہ گئے ہیں۔ راجہ صاحب سے میرا ہمیشہ احترام کا رشتہ ہے۔ مؤتمر عالمی اسلامی کے وہ جنرل سیکرٹری ہیں لہٰذا ان کے توسط سے مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میری پہلی کتاب مؤتمر عالم اسلامی نے شائع کی اور یوںاس کتاب کو بین الاقوامی سطح پر تعارف ملا۔ میںحیران رہ گیا کہ میری کتاب امریکہ کی سب سے بڑی ''کانگریس لائبریری'' کے علاوہ امریکہ کی چھ سات بڑی یونیورسٹیوں کی لائبریریوں میں موجود ہے۔مجھے افسوس ہے کہ راجہ صاحب سے وعدہ کے باوجود اس کالم کے لکھنے تک ابھی ملاقات کے لیے نہ جا سکا ہوں۔ افطار ڈنر میں موجود وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے دعوت دی کہ افطاری کے بعد پارلیمنٹ لاجز میںآئیں اور ان کے ساتھ چائے پئیں۔ میں اور برادرم علامہ نوید ہاشمی پارلیمنٹ لاجز میں واقع ان کی رہائش گاہ میں آئے تو میں نے سوچا کی وفاقی وزیر کو ملنے والی سرکاری رہائش گاہ کو چھوڑ کر یہاں رہنے والا شخص کس قدر منکسر المزاج اور سادہ طبیعت ہو گا۔ وزراء کی رہائش گاہوں میں ان کو ملنے والی رہائش گاہ مولانا فضل الرحمن کے گھر کے ساتھ تھی' مجھے کئی مرتبہ وہاں جانے کا اتفاق ہوا میں جب بھی وہاں گیا مجھے سردار صاحب کی باتیں سن کر یوں لگا کہ وہ آج کل یہ رہائش چھوڑ دیں گے اور پھر ایسا ہی ہوا۔ سردار یوسف نواز شریف کی کابینہ کے ان چند وزیروں میں شامل ہیں جو اپنی اچھی کارکردگی کی وجہ سے نواز حکومت کی نیک نامی کا باعث بنے۔ وزارت مذہبی امور کے تحت حج انتظامات میں ہر سال بہتری آئی ۔ گزشتہ سال بہترین حج انتظامات کی تعریف تمام حجاج کرام کرتے رہے۔ خدا کرے کہ اس بار بھی حجاج کرام کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں بہترین سہولتیں دستیاب ہوں۔ یہ معاملہ سیاسی نہیں ہے اور نہ ہی اس پر سیاست ہونی چاہیے۔

متعلقہ خبریں