حکومت اور تعلیمی اداروں کے لئے لمحہ فکریہ

حکومت اور تعلیمی اداروں کے لئے لمحہ فکریہ

جے آئی ٹی رپورٹ میں مشال قتل کیس کا کچا چھٹا کھول دیا گیا ہے ۔ اس رپورٹ میں حکومت ، تعلیمی اداروں عوام اور والدین و طلبہ کے لئے بہت سے اسباق پوشیدہ ہیں ۔ دنیا بھر میں اس قسم کے حساس ونازک واقعات و معاملات کی تفتیش کے لئے جے آئی ٹی اس لئے بنائی جاتی ہیں تاکہ بلا تعصب معاملہ کا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے اور واقعات کے ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا ملے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں او ر لوگ عبرت پکڑ یں ۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ کمیشن ، کمیٹیاں اور جے آئی ٹی بن جاتی ہیں ، رپورٹیں اور سفارشات تیار ہو کر حکومت کے سامنے پیش ہو جاتی ہیں لیکن سفارشات پر عمل درآمد کا مرحلہ بہت ہی شاذونادر ہی آتا ہے ۔ مشال قتل کیس میں جو نکتہ سب سے زیادہ قابل غور ہے وہ یہ کہ مشال پرشان رسالت میں گستاخی کا جو الزام لگایا گیا تھا وہ بالکل غلط اور بے بنیا دتھا ۔ رپورٹ کا یہ نکتہ جہاں اس لحاظ سے اطمینان بخش ہے کہ شکر ہے پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں اس قسم کا عنصر موجود نہیں ۔ پشتون بہر حال دین ومذہب سے محبت و عقیدت رکھنے والی قوم ہے ۔ مشال خان کے والد بزرگوار بھی یہی دہائی دیتے رہے کہ میرا بیٹا گستاخ رسول ۖ نہیں ہو سکتا ۔ 

جے آئی ٹی کی رپورٹ کا یہ نکتہ کہ رجسٹرارسے لیکر ایڈمن آفیسر تک سب کے سب نالائق اور سفارش پر بھرتی ہوئے ہیں گویا وہ اپنے کام کے لئے اہل ہی نہیں ہیں اسی چیز نے تو پاکستان کا بیڑہ غرق کردیا ہے ۔ ہماری سیاسی جماعتوں کی ، بلا استشنیٰ ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ سرکاری محکموں میں میرٹ کو خاک میں ملاتے ہوئے ،اپنے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ کھپا یا جائے تاکہ اُن کے خاندان کے خاندان اُن کو انتخابات میں ووٹ دیں اور دفاتر میں بوقت ضرورت کام آئیں ۔ سفارش ہر دور حکومت اور دنیا کے سارے ملکوں میں ہوتی ہے اور ہر حکومت کی یہ خواہش ، ضرور اور تھوڑا ساحق بھی ہوتا ہے کہ اہم اور حساس عہدوں پر اپنے لوگوں کو لایا جائے تاکہ حکومتی کام بروقت اور احسن طریقہ سے سر انجام ہوں ، لیکن اچھی حکومتیں اُن عہدوں کے لئے درکار افراد کی قابلیت و صلاحیت اور ضروری کوائف پر سمجھو تا نہیں کرتیں ۔ ہمارے ہاں تو غضب خدا کا میٹرک پاس بندہ اوجی ڈی سی ایل جیسے اہم محکمے کا سربراہ بن جاتا ہے ۔ عبدالولی خان یونیورسٹی تو اس لحاظ سے شاید پختونخوا میں سر فہرست ہے ۔ وائس چانسلر ز اور دیگر افسران بے چارے تو حکومت وقت سے مجبور ہوتے ہیں کہ آخر اُن کی تعیناتی بھی حکومت کی مرہون منت ہی ہوتی ہے ۔ اور اس حمام میں ہم تقریباً سب ہی بے لباس ہیں ۔ تیسرا اہم نکتہ یہ سامنے آیا ہے کہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ توہین رسالت کے حوالے سے قانون کے اُس حصے پر عمل در آمد کو یقینی بنایا جائے جس میں کسی پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانا ثابت ہوجائے تو الزام لگانے والوں کو کڑی سزا دینے کے انتظامات کئے جائیں تاکہ لوگ اپنے ذاتی اختلافات اور عنادو دشمنوں کا حساب کتاب برابر کرنے کیلئے اس حساس معاملے سے ناجائز فائدہ نہ اُٹھا سکیں یہ کوئی بچوں کاکھیل نہیں ہے حکومت ، عوام کو ہر ممکن ذریعے سے یہ بات سمجھائیں کہ ان معاملات میں کسی کوبھی قانون ہاتھ میں لینے اور جھوٹے الزام کے بعد خود ہی گواہ و منصف بننے کی کوشش یقینا قانونِ ناموس رسالت ۖ کی فاش خلاف ورزی ہے ۔
ایک اور اہم بات یہ بھی قابل غور ہے کہ مشال خان ایک طالب علم تھا ۔ طالب علم کی حیثیت سے اُ س کا بنیادی فریضہ حصول علم تھا نہ کہ انتظامیہ اور جامعہ کے دیگر معاملات میں ٹانگ اڑانا ۔ اس لئے کہ بہر حال طلبہ معاملات کی تہہ سے پوری طرح با خبر نہیں ہوتے اور پھر اگر طلبہ کو ایک دفعہ یہ اجازت دی جائے کہ جامعہ کے انتظامی امور کی اصلاح میں بھی کام رکھتے ر ہیں تو پھر یہ معاملہ کہیں بہت پیچیدہ صورت بھی اختیار کر سکتا ہے اس لئے کہ یونیورسٹی میں تو طلبہ کے مختلف گروپس اور تنظیمیں کام کرتی ہیں ۔ البتہ اتنی بات کا شاید جواز ہو کہ اگر کہیں کسی شعبے میں قانون کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہو اور اُس سے طلبہ کے مفادات متاثر ہو رہے ہوں تو طلبہ وائس چانسلر (گورنر) اور وزیر اعلیٰ ، نیب او ردیگر چیک اینڈ بیلنس کے اداروں کو متعلقہ درخواست دے سکتے ہیں اور یوں اپنے قومی فریضے کی ادائیگی سے سبکدوش ہو سکتے ہیں ۔ ورنہ پاکستان میں زور آوروں کو کرپشن ، منافع خوری ، اور ناجائز کاموں سے روکنا جان جوکھوں میں ڈالنا ہو سکتا ہے ۔ اس وقت اہم کام یہ ہے کہ حکومت ، انتظامیہ و عدلیہ ،مشال خان کے والد کی فریاد سنیں اُن کے خاندان کو تحفظ فراہم کریں ۔ اُن کے بچوں کی تعلیم جاری رکھوانے کے انتظامات کریں ۔ اور مقدمے کے لئے لائق ، پروفیشنل اور نڈر وکلاء کی ٹیم فراہم کرے تاکہ متاثرین کو عدل و انصاف کے مطابق اُن کا حق ملے اور مجرموں کو قرار واقعی سزا ملے اگر اس بہمانہ قتل کے مقدمے کو عدل و انصاف کے مطابق منطقی انجام تک پہنچا یا گیا تو عین ممکن ہے کہ اس قسم کے مزید واقعات کا سدباب ہو سکے ۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں کے حوالے سے حکومت وقت اور والدین اور معاشرے کو مل کر ایسے اقدامات کرنے ہوں گے کہ ہماری نوجوان نسل صرف اور صرف تعلیم کے حصول اور اپنے قولی ہدف اور نصب العین پر نظر رکھے ۔

متعلقہ خبریں