پاکستان سے لوٹی ہوئی دولت

پاکستان سے لوٹی ہوئی دولت

سینٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ سوئٹزر لینڈ پاکستان سے لوٹی ہوئی دولت کی معلومات فراہم کرنے پر تیارہوگیا ہے۔ سوئٹزر لینڈ نے پاکستان کی شرائط تسلیم کرلی ہیں۔ ہم سوئٹزر لینڈ کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دیں گے نہ ہی ٹیکسوں کی شرح کم کریں گے۔ پاکستان نے 2005ء میں سوئٹزر لینڈ سے معلومات کے تبادلہ کا معاہدہ کیا تھا۔ 2013ء میں سوئٹزر لینڈ سے باقاعدہ معاہدے پر مذاکرات شروع کئے گئے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ سوئس حکومت نے پاکستانی حکومت کی شرائط پر دوبارہ معاہدہ کرنے کیلئے رضا مندی ظاہر کی اور اب سوئٹزر لینڈ لوٹی ہوئی پاکستانی دولت کی معلومات فراہم کرنے کے لئے تیار ہوگیا ہے۔ او ای سی ڈی معاہدے سے پاکستان سے ان ملکوں کو ٹیکس ادا کئے بغیر رقم منتقل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ معلومات کے تبادلے سے پاکستان پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اب تک 89ممالک نے او ای سی ڈی کو آپریشنلائز کرنے کی حامی بھری ہے۔ 7جون کو اس پر دستخط ہوں گے جبکہ پاکستان بھی اس میں شامل ہو نے پر تیار ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جس طرح خود وزیر خزانہ نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان سمیت 98 ممالک نے او ای سی ڈی کو روبہ عمل لانے کی حامی بھری ہے اس لئے یہ دعویٰ محل نظر ہے کہ سوئٹزر لینڈ نے صرف پاکستان سے لوٹی ہوئی دولت کی معلومات فراہم کرنے پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے ۔ جیسا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ سوئٹزر لینڈ مختلف ملکوں سے دولت لوٹنے والوں کے لئے ایک جنت سے کم نہیں ہے۔ لا تعداد ملکوں کے حکمرانوں کے علاوہ غیر قانونی طور پر دولت کے انبار لگانے والوں کے لئے وہاں بنکوں کے خفیہ لاکرز ہمیشہ ''دیدہ دل'' فرش راہ کئے منتظر رہتے ہیں اور سوئٹزر لینڈ کے قوانین کے مطابق ان خزانوں کے بارے میں یہ بنک کسی کو بھی کسی قسم کی معلومات فراہم کرنے کے پابند نہیں تھے۔ اس صورتحال کے ان غریب ملکوں پر خصوصی طور پر منفی اثرات پڑتے رہے ہیں جن کے حکمران نہ صرف ملکی وسائل لوٹنے کے لئے ہر حربہ استعمال کرتے آئے ہیں بلکہ غیر ملکی قرضوں کی رقوم کا غالب حصہ بھی ہڑپ کرتے رہے ہیں جبکہ دفاعی معاہدوں' بڑے بڑے منصوبوں میں کمیشنوں اور کک بیکس سے حاصل ہونے والی دولت بھی سوئٹزر لینڈ کے ان محافظ خانوں میں جمع کرکے اپنے ملکوں کو کنگال کرکے عوام کی آنے والی نسلوں تک کو گروی رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے چلے آئے ہیں۔ اس ضمن میں نہ صرف پاکستان کے حکمران طبقوں پر بھی کرپشن اور بد عنوانی کے الزامات لگتے رہے ہیں بلکہ بعض پر مقدمات بھی چلائے جا چکے ہیں۔ لیکن قانونی موشگافیوں کی وجہ سے یہ اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے ہیں۔ حالانکہ پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ان لوگوں نے یہاں سے دولت کے انبار نہ صرف سوئٹزر لینڈکے بنکوں میں ذخیرہ کر رکھے ہیں بلکہ آف شور کمپنیوں کے ذریعے دیگر ممالک میں بھی جائیدادیں اور محلات خرید کر پاکستان کے عوام کو غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں دفن ہونے پر مجبور کر رکھا ہے۔ اور اب ہماری آنے والی نسلیں بھی ان کی وجہ سے کھربوں کے قرضے آنے والے نہ جانے کتنے سالوں تک چکاتے رہیں گے۔ جہاں تک سوئٹزر لینڈ کے ساتھ لوٹی ہوئی دولت کی معلومات کی فراہمی کے معاہدے کا تعلق ہے توسوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سال 21مارچ کو دستخط ہونے کے بعد اس پر عمل درآمد 2018ء تک التوا میں ڈالنے کا مقصد کہیں یہ تو نہیں کہ جن لوگوں نے یہ دولت لوٹ کر سوئٹزر لینڈ کے بنکوں میں جمع کر رکھی ہے انہیں اگلے سال تک یہ موقع فراہم کیا جائے کہ وہ اس دوران یہ خزانے کہیں اور منتقل کرکے پاکستان کو اسی طرح سے کنگال رکھنے میں کامیاب ہوسکیں وگرنہ کیا وجہ ہے کہ جب کسی معاہدے پر دستخط ہو جائیں تو معلومات کی فراہمی کو اگلے برس تک ٹالنے کی کوشش کی جائے۔ جہاں تک آئندہ پاکستان سے منتقل ہونے والی دولت پر انکم ٹیکس کی ادائیگی کو یقینی بنانے کا تعلق ہے نظر بہ ظاہر تو یہ ایک مثبت اقدام ہے اور اس سے رقوم کی منتقلی کو قانون کے دائرے میں لانے کا عمل ممکن ہوسکے گا تاہم حال ہی میں غیر ملکی کرنسی کا کاروبا ر کرنے والی ایک مشہور کمپنی خانانی اینڈ کالیہ پر امریکی انتظامیہ نے انتہا پسندوں کی رقوم کی ترسیل کے جو الزامات عائد کئے ہیں ان کو روکنے کے لئے ہنڈی اور حوالہ کا کاروبار کرنے والوں پر بھی قابو پانے کی ضرورت ہے کیونکہ بد قسمتی سے غیر ملکی زر مبادلہ کا غیر قانونی طریقوں سے ترسیل کا کاروبار کرنے والے بھی پاکستان کی معیشت کو سخت نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ملک بھر میںپھیلے ہوئے یہ لوگ باہر کے ممالک میں بیٹھے ہوئے پاکستانیوں کو زیادہ ریٹس پر اپنے جال میں پھنساتے ہیں اور ان سے زر مبادلہ وصول کرکے اندرون ملک پاکستانی کرنسی دے دیتے ہیں اور پھرو ہی زر مبادلہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر باہر کے بنکوں میں جمع کرنے والوں کو مزید زیادہ رقم کے عوض فروخت کرتے ہیں۔ جب تک ان عناصر پر قابو نہیں پایا جائے گا صورتحال بہتر نہیں ہوسکتی۔

متعلقہ خبریں