مخاصمت کے رویوں سے احتراز کی ضرورت

مخاصمت کے رویوں سے احتراز کی ضرورت

صوبہ پنجاب میں پختونوں کے ساتھ مبینہ غیر مناسب روئیے کے حوالے سے خیبر پختونخوا اور پنجاب کے حکمرانوں کے مابین بیان بازی میں کمی کی بجائے شدت کا عنصر یقینا غیر ضروری ہے اور اگر کوئی بھی مسئلہ باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنے پر توجہ دی جائے تو ابھرنے والی نفرتوں کو محبتوں میں تبدیل کرنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔خیبر پختونخوا کی حکومت نے پنجاب میں پختونوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ' ان کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ بند کرنے کے لئے دس دن کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے خبر دار کیاہے کہ اگر پختونوں کے ساتھ بد سلوکی بند نہ کی گئی تو وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیاجائے گا یاد رہے کہ حکومت خیبر پختونخوا نے محولہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے حکومتی جرگہ پنجاب بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی سربراہی میں یہ جرگہ روانہ کیا تھا۔ جرگے نے پنجاب میں پختون کمیونٹی کے مختلف اجتماعات سے خطاب کیا اور ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کی۔ ادھر پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پر برس پڑے اور ان کے لاہور آنے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ تعصب ابھارنے کے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہوں نے پنجاب کے عوام کو بھیڑ بکریوں سے تشبیہہ دی ہے۔ جہاں تک رانا ثناء اللہ کے الزامات کا تعلق ہے تو ہماری ناقص رائے میں ان کی توجیہہ درست نہیں ہے۔ اس لئے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے کسی بھی باشندے پر ملک کے د وسرے باشندوں کی طرح پاکستان کے کسی بھی حصے میں جانے کی پابندی ہے نہ ہی کاروبار کرنے پر کوئی قدغن ہے۔ اس لئے رانا ثناء اللہ کس آئین اور قانون کی خلاف ورزی کا الزام وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پر لگا کر انہیں مجرم گردان رہے ہیں۔ جہاں تک وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پر پنجاب کے عوام کو بھیڑ بکریوں سے تشبیہہ دینے کے الزام کا تعلق ہے تو معاف کیجئے گا قیام پاکستان کے بعد آج تک ہر سیاسی جماعت نے پاکستان بھر کو بھیڑ بکریوں سے زیادہ کی حیثیت اور اہمیت نہیں دی اور اس حوالے سے اس حمام میں سب لیڈر لباس سے عاری نظر آتے ہیں۔ البتہ اگر رانا ثناء اللہ کو اتنا ہی زعم ہے تو وہ عدالت عظمیٰ سے رجوع کرکے پرویز خٹک کو قانون سکھانے کی کوشش کریں۔ تاہم بہتر یہی ہے کہ وہ گھر کو پہلے درست کرتے ہوئے وہاں کی پولیس کو پختونوں کے ساتھ معاندانہ رویہ رکھنے سے باز رکھنے کے لئے اقدامات اٹھائیں تاکہ نسلی امتیاز نہ پھیل سکے۔
بجلی فراہمی ، چین کے ساتھ معاہدے
واپڈا اور چینی کمپنی کے درمیان داسو پاور پراجیکٹ کے مین سول ورکس کی تعمیر کیلئے دو معاہدوں پر دستخط ہوگئے ہیں ، دونوں معاہدوں کی مجموعی مالیت 180ارب روپے جبکہ تکمیل کا دورانیہ تقریباً 5سال ہے ، اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے کہا کہ داسو پرا جیکٹ دو مراحل میں مکمل ہوگا ۔ وفاقی حکومت پن بجلی کے وسائل کو زیادہ سے زیادہ ترقی دینے کیلئے پر عزم ہے ، تاکہ سستی بجلی کی پیداوار کے ذریعے ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے اور لوگوں کو ریلیف مہیا کیا جائے ، امر واقعہ یہ ہے کہ داسو پاور پراجیکٹ چار ہزار 320میگا واٹ پیداواری صلاحیت کا حامل ہے جو دریائے سندھ پر خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں داسو سوٹان سے بالا ئی جانب تعمیر کیا جارہا ہے اور اس مقصد کیلئے چین کے ادارے چائنا گزویہ گروپ کمپنی (سی جی جی سی ) کے ساتھ دو معاہدوں پر دستخط ہوگئے ہیں ، صورتحال یہ ہے کہ ملک کے اندر لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کیلئے جتنی سستی ترین بجلی پانی کے ذخائر کو روبہ عمل لا کر حاصل کی جاسکتی ہے اس کے مقابلے میں دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی کہیں زیادہ مہنگی پڑتی ہے ، مگر بد قسمتی سے گزشتہ کئی ادوار میں ایک خاص لابی پن بجلی کے منصوبوں کو جان بوجھ کر طاق نسیاں پر رکھنے اور مقابلتاً زیادہ مہنگے کوئلے ، گیس ، فرنس آئل اور دیگر منصوبوں کی تعمیر پر بضد رہی کیونکہ پانی کے وافر ذخائر صرف خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں اور اگر یہ منصوبے یہاں تعمیر ہوں گے تو ان کی رائیلٹی صرف خیبر پختونخوا کومل سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ بھاشا ڈیم منصوبے کو بھی جان بوجھ کر پہلے تعطل کا شکار بنایا گیا اور پھر اس میں گلگت بلتستان کوحصہ دار بنانے کی سازش کی گئی ۔ بہر حال اب جبکہ حکومت ایک جانب مہنگے منصوبوں پر عمل در آمد کر رہی ہے دوسری جانب داسو پاور پراجیکٹ کیلئے چینی کمپنی کے ساتھ معاہدے کا خیر مقدم کیا جا نا چاہیئے۔ اس منصوبے سے یقینا سستی بجلی وافر مقدار میں حاصل کی جا سکے گی ، جو نہ صرف ملک سے تاریکیاں دور کرنے کا باعث ہوگی بلکہ بجلی سستی ہونے کی وجہ سے ملکی صنعتی ترقی میں بھی مدد دے گی اور ملک کے مستقبل پر اس کے گہرے مثبت اثرات مرتب ہوںگے ۔

متعلقہ خبریں