کچھ کہہ بھی گئے' کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے

کچھ کہہ بھی گئے' کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے

کچھ کہہ کر بھی نہ کہنا اور کچھ نہ کہہ کر بھی کہہ جانا اکثر سیاسی لیڈر اس فن میں طاق ہونے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسی ہی کوشش اے این پی کے تجربہ کار لیڈر مرکزی صدر اسفندیار ولی نے بھی مشرق ٹی وی سے ایک خصوصی انٹرویو میں کی ہے۔ ان کے انٹرویو کی خبر کی سرخی ہے ''افغانستان پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرناچاہتاتو1971 ء میں کر دیتا''۔ اس طرح وہ افغانستان کے بلاتقررنامہ وکیل صفائی کے روپ میں نظر آتے ہیں اور یہ تاثر ابھرتاہے کہ آج پاکستان کے رہنے والوں کو افغانستان کی موجودہ حکومت سے جو شکایات ہیں وہ بے جا ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں جو کہا جارہا ہے کہ ہزاروں شدت پسند پاکستان سے فرار ہوکر افغانستان میں مقیم ہیں وہ غلط ہے۔ افغا ن حکومت نے پاکستان سے فرار ہوکر جانے والے ان ہزاروں شدت پسندوںکو افغانستان میں داخل ہونے ہی نہیں دیا۔ پاکستان میں سارک ممالک کا جواجلاس منعقد ہونے والا تھا افغانستان نے بھارت کی ایماپر اس میں شریک ہونے سے انکار نہیں کیاتھا۔صدر اشرف غنی میونخ کانفرنس سے خطاب میں پاکستان کا قصیدہ ہی پڑھتے رہے' افغانستان سے پاک فوج کی چوکیوں پر کوئی حملہ نہیںہواجس میں پانچ پاکستانی فوجی شہیدہوئے۔

پاکستان میں جن خودکش حملہ آوروں نے دھماکے کیے وہ نہ افغانی تھے اور نہ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف کارروائیوں کیلئے استعمال نہیں ہو رہی۔ افغان سرزمین پر پاکستان مخالف دہشت گرد تنظیموں کے کوئی اڈے ہیں نہ تربیتی کیمپ۔ افغانستان میں کوئی غیر ملکی انتہا پسند مقیم نہیں ہیں۔ افغانستان کی خفیہ ایجنسی بھارت کی خفیہ ایجنسی کے تعاون سے افغانستان کی سرزمین پر ہزاروں پاکستان مخالف شدت پسندوں کو نہ سہولت فراہم کر رہی ہے نہ ان کی کفالت کر رہی ہے نہ ان کی مالی معاونت کر رہی ہے اورنہ انہیں اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کررہی ہے کیونکہ افغانستان کی سرزمین پر کوئی غیر ملکی شرپسند موجود ہی نہیں ہیں۔ یہ سب کچھ اسفند یار ولی خان نے نہیں کہا۔ محض یہ کہا کہ'' افغانستان اگر پاکستان کے ٹکڑے کرنا چاہتا تو 1971 ء میں کرسکتاتھا''یعنی افغانستان کی موجودہ حکومت سے پاکستان کے شکوے بے جا ہیں کیونکہ افغانستان نے 1971ء میں پاکستان کے ٹکڑے کرنے کی کوشش نہیں کی۔ لیکن یہ کس نے کہا کہ'' افغانستان پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے'' جس الزام کی صفائی صدر اشرف غنی' چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبد اللہ اور سفیر متعین پاکستان حضرت عمر زاخیل وال کی بجائے پاکستان کی سیاسی جماعت اے این پی کے مرکزی صدر اسفند یار ولی خان پیش کررہے ہیں' جس کیلئے انہوںنے صرف اتناکہا ہے کہ 1971 ء میں افغانستان کیلئے پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا موقع تھا جو اس نے استعمال نہیں کیا۔ آج جو نسل ان کی مخاطب ہے وہ 1971 ء کے واقعات سے باخبر نہیں۔ خود اسفند یار ولی خان بھی 45 سال پہلے کچھ اتنے بزرگ نہیں تھے۔ البتہ1971 ء میں مشرقی پاکستان پر بھارتی فوج کی بھرپور مدد کے ساتھ پاکستان کی باغی تنظیم مکتی باہنی نے مشرقی پاکستان پر چڑھائی کی تھی۔ مکتی باہنی ان عناصر پر مشتمل تھی جوپاکستان کاتختہ الٹنے کیلئے مشرقی پاکستان سے فرار ہوکر بھارت میں مقیم ہوئے تھے۔خود بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے ڈھاکہ میں پبلک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں بھارتی فوج کے اس کردار کاکریڈٹ لیاآج افغانستان میں پاکستان میں عدم استحکام برپاکرنے میں مصروف جماعت الاحرار تحریک طالبان پاکستان داعش اور دیگر کئی تنظیمیں افغانستان میں مقیم ہیں۔ سفیر عمرزاخیل وال نے ان کی تعدادنہیں بتائی ہے ان کے ہزاروں افراد کی کفالت بھی ہوتی ہے اور ان کو اسلحہ گولہ بارودبھی ملتا ہے۔
لیکن یہ آج کی صورت حال ہے1971 ء کی نہیں۔1971 ء میں مغربی پاکستان کی سرحد پر مشرقی سرحد پر جو بھارت سے متصل ہے کوئی قابل ذکر جنگی کارروائی نہیں ہو رہی تھی۔ بھارتی اور پاکستانی فوج اور سیاسی قیادت کی ساری توجہ مشرقی پاکستان پر مرکوز تھی۔ یہاں مکتی باہنی کی طرح کوئی باغی عناصر فرار ہوکر بیرون ملک یعنی افغانستان یا ایران نہیں گئے تھے۔ اب یہ بتانا اسفندیار ولی خان کے ذمے ہے کہ افغانستان کو اس دور میں پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے کون سے مواقع حاصل تھے۔ ان مواقع کو استعمال کرنے کیلئے اگر افغانستان چاہتا تو مکتی باہنی ایسے کونسے عناصر کا سہارا لیکر اپنی فوج کو بھارت کی طرح پاکستان پر حملہ آور ہونے کا محض حکم دیتا اور پاکستان ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔ لیکن افغانستان نے سرحدوں کے احترام کے اصول پر کاربندی کے باعث ایسانہیں کیا۔اسفند یار ولی خان نے اس انٹرویو میں ایک نئی اصلاح جنوبی پختونخوا کی بھی متعارف کرائی ہے جس کا پہلے ذکرنہیں سنائی دیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد اب ''جنوبی پختونخوا ''کو ایک صوبے میں شامل کریں گے۔ ایک صوبے سے ان کی مراد لگتا ہے خیبرپختونخوا ہے جس میں فاٹا کے انضمام کی بات آج کل عام گفتگو کاحصہ ہے۔ خیبرپختونخوا کی اپنی حدود ہیں رقبہ ہے اور صوبائی سرحدیں ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں بتایاکہ یہ جنوبی پختونخوا کہاں واقع ہے جسے وہ ''ایک'' صوبے میں شامل کریں گے۔ اس طرح انہوںنے کچھ کہا لیکن یہ کہہ کر کچھ نہیں کہا۔ کچھ کہہ کر بھی نہ کہنے سے ابہام پیدا ہوتاہے جو عمومی بیانیہ کو گمراہ کرتا ہے اس سے موقف واضح نہیں ہوتا۔ اسفند یار ولی خان ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں جس کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ سیاسی لیڈروں سے توقع یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنی جماعت کاموقف پیش کریں اس کی وضاحت کریں تاکہ عوام اس کے قائل ہوں اور اس جماعت کو عوام کی پذیرائی حاصل ہو ۔

متعلقہ خبریں