اکیسیویں صدی… ایشیائی معیشت کی صدی

اکیسیویں صدی… ایشیائی معیشت کی صدی

دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو گا جس کو قدرت نے اتنے زبردست محل وقوع سے نوازا ہو مگر ہم آج تک اس محل وقوع کا فائدہ اُٹھانے سے محروم رہے ہیں۔ ایک تجارتی گزرگاہ بنانے کی بجائے پاکستان کو ایک سیکورٹی سٹیٹ بنا دیا گیا۔ اغیارکی منصوبہ بندی میں یقینا ایسا کرنا مشکل تھا مگر اپنے آلہ کار نہ بنتے تو کیا پاکستان سیکورٹی سٹیٹ بن سکتا تھا۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان کی شہادت اور سیکورٹی سٹیٹ بننے کی کڑیاں آپس میں ملتی ہیں۔ امریکا کی کلاسیفائیڈ دستاویزات کے پبلک ہونے کے بعد ایسے بہت سے رازوں سے پردہ اُٹھے گا کہ کون کیسے اور کہاں استعمال ہوا۔ پاکستان سیٹو اور سینٹو کا ممبر کیوں بنا اور پس پردہ وہ کون سی طاقت تھی جس نے پاکستان کو سوویت روس اور امریکہ کی سرد جنگ میں دھکیل دیا۔ سیٹو مشرق بعید کی ریاستوں کے مابین ایک معاہدہ تھا لیکن ہم اس معاہدے کا حصہ بن گئے۔ پاکستانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان ایک مبصر کی حیثیت میں اجلاس میں شریک ہوئے اور جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ مبصر کو معاہدہ دستخط کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا پاکستانی مبصر نے معاہدے پر دستخط کیے جس کوفی الفور منظور کر لیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت ہم نے مشرق بعید کے ممالک کے ساتھ مل کر عوامی جمہوریہ چین کی سمندری ناکہ بندی کرنا تھا ، وہ چین جس کے ساتھ مل کر ہم آج اقتصادی راہداری کے عظیم الشان منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچا رہے ہیں یہ کام اول دن سے کرنے والا تھا مگر لیاقت علی خان کو راستے سے ہٹا کر پاکستان کو ایک بالکل مختلف راہ پر ڈال دیا گیا۔ اس راہ کی تلخیاں سہتے نصف صدی سے زائد وقت بیت گیا ہے مگر ہماری مصیبتوں کا عہد تمام نہیں ہوا۔ رواں ہفتے ہونے والی ایکو ممالک کی سربراہی کانفرنس میں اگرچہ اقتصادی راہداری منصوبے میں شمولیت کی خواہش تمام رکن ممالک نے کی ہے جو نہایت خوش آئند ہے مگر افغانستان کے صدر کا کانفرنس میں شریک نہ ہونا بہت سے خدشات کو جنم دینے کا باعث بن رہا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ گزشتہ سال ایران ' افغانستان اور بھارت ایک تجارتی راہداری منصوبے پر متفق ہوئے تھے جس کا روٹ ایران کی بندرگاہ چاہ بہار کے ذریعے افغانستان جاتا ہے۔ یقینی طور پر بھارت کی خواہش ہوگی کہ وسطی ایشیائی ممالک اس روٹ کے ذریعے اس کے ساتھ باہمی رابطے میں آ جائیں۔ایکو سربراہی کانفرنس نے بھارت کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا ہوگا کیونکہ وسطی ایشیاء کی مسلمان ریاستوں کے سربراہان نے جس خلوص اور جذبے کے ساتھ پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے میں شمولیت کا عندیہ دیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ خوش قسمتی سے ایکو کا اقتصادی بلاک تمام مسلمان ممالک پر مشتمل ہے اور یہ ممالک ثقافتی و تاریخی اعتبار سے آپس میں جُڑے ہوئے ہیں۔ اس اقتصادی بلاک کی کامیابی کا مطلب ہے کہ یہ دائرہ باآسانی دیگر مسلمان ممالک تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ چین نے ایکو کانفرنس میں بطور مبصر شرکت کرکے اس اقتصادی بلاک کی کامیابی پر اپنی مہر ثبت کر دی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ یوں نہ صرف ایکو ممالک کے لیے فائدے کا باعث بنے گا بلکہ پاکستان کی وجہ سے مشرق وسطیٰ اور یورپ اس راہداری سے جُڑ جائیں گے۔ زمینی راستوں کی بحالی تاریخی سلک روٹ کی یاد تازہ کر دے گی جب دنیا کی تمام تجارت کا راستہ یہ ہوا کرتا تھا۔ 1452ء میں قسطنطنیہ کی فتح سے قبل دنیا کی تجارت اس زمینی راستے کے ذریعے ہوا کرتی تھی۔ سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ (استنبول) فتح کیا تو یورپی ممالک زمینی راستوں کی بجائے سمندری راستے کی تلاش میں سرگرداں ہو گئے۔ 1492ء میں واسکوڈے گاما جنوبی افریقا کے ''کیپ آف گڈ ہوپ'' کے اوپر چکر لگا کر ہندوستان پہنچنے میں کامیاب ہوا تو اہالیان یورپ کو اپنی ضرورت کی درآمد اور اپنی مصنوعات کی برآمد کے لیے متبادل راستہ مل گیا۔ عثمانی جب تک برسراقتدار رہے یہ سلک روٹ عملی طور پر بند ہی رہا، اب جب کہ سرحدی سختیوںکے بعد تجارت کے لیے اپنی سرحدیں کھولنے کے دور کا آغاز ہو چکا ہے یوں دکھائی دیتا ہے کہ ہندوستان ،چین، وسطی ایشیائی ریاستوں پاکستان ، ایران ، ترکی اور یورپ کی مارکیٹیں زمینی راستوں سے ہونے والی تجارت کی ڈوری سے بندھ جائیں گی۔ اس ضمن میں انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ معاشی ترقی کے لیے باہمی ربط ایک پیشگی شرط سمجھا جاتا ہے، بدقسمتی سے مسلمان ممالک کی اس حوالے سے کمزور صورت حال رہی ہے۔ایکو ممالک اگر باہمی تجارت کا فروغ چاہتے ہیں تو سڑکوں اور ریلوے کے انفراسٹرکچر کو مثال بنانا ہوگا۔ دیکھا جائے تو ایکو ممالک میں باہمی تجارت کو فروغ دینے کیلئے جس مضبوط کمٹمنٹ کی ضرورت ہے اس کا عملی طور پر ہمیشہ فقدان رہا ہے۔ ترکی اور پاکستان کے درمیان ریل کے ذریعے تجارت کا بہت ذکر ہوتا رہا ہے لیکن ریلوے لائن کو سرحد تک لے جانے میں پاکستان اب تک ناکام رہا ہے، دیگر نوعیت کے مسائل بھی رکاوٹ بنتے آ رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی طاقتوں کے کھیل میں آلہ کار بننے سے گریز کرتے ہوئے ایکو کے تمام رکن ممالک خاص طور پر افغانستان، پاکستان اور ایران مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ تب جا کر ایکو ممالک کا خطہ دنیا کا اقتصادی مرکز بنے گا اور ایرانی صدر کی پیش گوئی درست ثابت ہو گی کہ اکیسویں صدی ایشیاء کی معیشت کی صدی ہے۔

متعلقہ خبریں