عقل کھرا سیاستدان ہونا چاہیے

عقل کھرا سیاستدان ہونا چاہیے

مولا نا فضل الرّحما ن زما نہ سازی ، فہم وفراست میں اعلیٰ ادراک رکھتے ہیں ۔وہ مر حوم پیر پگا را کی طر ح ذومعنی پیشن گوئیاں نہیں کر تے ، اکثر اکل کھر ے اند از میں بات آگے بڑھا جا تے ہیں۔ مو صوف نے فرمایا ہے کہ ملک میں دو قسم کی حکومتیں ہیں ، ایک آئینی اور دوسری آئین مخالف ۔ لیکن اچھے بر ے کا م پر گالیا ں صرف آئینی حکو مت کو سننی پڑ تی ہیں ۔مولا نا نے جامعہ حما دیہ میں طلباء کنونشن سے خطاب کے دوران یہ بھی فرما یا کہ اب ڈنڈے کے زور پر خلا فت کا نظام نہیں لا یا جا سکتا جہا ں تک مولا نا کی دو قسم کی حکومت کا تعلق ہے وہ نہ صرف قابل غو ر ہے بلکہ فکر انگیز بھی ہے ۔ ان کی دو قسم کی حکومت سے کیا مر اد ہے ، جب کوئی اس قسم کی بات کر تا ہے تو عو ام کا گما ن اسٹیبلشمنٹ کی طر ف جا تا ہے ، جیسا کہ ماضی قریب کہا جا تا رہا ہے کہ ڈرائیو نگ سیٹ پر جنرل راحیل شریف بیٹھے ہیں ، ایسا ہی احسا س اسٹیبلشمنٹ کے بار ے میںہنو ز پایا جا تا ہے ، مگر دیکھنے کی با ت ہے کہ ایسا کیو ں ہو تا ہے ۔انصاف کی یہ بات ہے کہ اس میں سرا سر قصور سیا ست دانو ں کا ہوتا ہے ، جیسا کہ اب بھی فوجی عدالتو ں کے بارے میں سیاست دانو ں کا طرز عمل ہے ۔ ما ضی میں رضا ربانی فوجی عدالتو ں کے قیا م کے حق میں ووٹ دینے کے بعد یہ کہہ کر جمہو ری چیمپئن بن بیٹھے تھے کہ انہو ں نے جمہو ری اصول کے خلا ف ووٹ پا رٹی کے نظم ونسق کو بر قرار رکھنے کے لیے دیا ، اگر رضا ربانی پا رٹی کے فیصلے کے خلاف ووٹ ڈالتے تو کیا ہوتا اتنا ہی ہوتا کہ ان کی رکنیت پارلیمنٹ ختم ہو جا تی ، لیکن جمہوریت تو جیت جاتی مگر انہو ں نے سینٹ کی ایک نشست کی خاطر اصولو ں کو بالا ئے طاق رکھتے ہوئے فیصلہ کیا۔ اب پھر ایسے ہی حالا ت کا سامنا ہے ، گزشتہ صدی کے رجل عظیم مر شدی مو لا نا مو دی کا یہ قول دہر اتے ہو ئے جماعت اسلامی والے نہیں تھکتے کہ بہترین آمر یت سے بد ترین جمہو ریت بہتر ہو تی ہے ، مگر آج اسی جمہوریت میں چاہے وہ بہترین ہے یا بد تر ین ہے۔ آمر یت کو گڈمڈ کر رہے ہیں ۔ مو لا نا فضل الرّحمان بھی فرما رہے ہیں کہ جمہو ری ملکو ں میں فوجی عدالتیں نہیں ہو تیں لیکن ہم مو جو دہ حالا ت کی وجہ سے مجبوری میں فوجی عدالتوں کی حما یت کر رہے ہیں۔ ایسی کیا مجبو ری ہے قوم کو تو اس مجبوری سے آگا ہ کیا جا نا چاہیے ، کیو ں کہ فوجی عدالتو ں کے دوبارہ قیام کی مولا نا صاحب اور آصف زرداری کی جانب سے شدت کے ساتھ مخالفت سامنے آئی تھی اب مجبو ری کی مجبوری سے مستفید ہو نے کی غرض سے اس کا استیصال کیا جا رہا ہے۔ بر طانیہ کے آنجہا نی وزیر اعظم چرچل دوسری جنگ عظیم کے مو قع پر ایک اعلیٰ سطح اجلا س میں جنگ کی صورت حال اور برطانیہ کی جنگ میںکا میا بیو ں اورنا کامیا بیو ں کا جا ئزہ لے رہے تھے کہ اچانک انہو ں نے استفسار کیا کہ یہ بتایا جا ئے کہ عدالتیں کس طور کا م کر رہی ہیں تو انہیں بتایا گیا کہ درست طورپر آزادانہ کام جا ری ہے ، جس پر چر چل نے کہا کہ جب تک عدالتیں اپنا فرض پو را اور عوام کو انصاف مہیا کر تی رہیں گی بر طانیہ کا کوئی طاقت کچھ نہیں بگا ڑ سکتی۔چرچل کا یہ تاریخی قول ہے جو اس امر کی نشاندہی کر تا ہے کہ عوام کو انصاف پو ری طر ح ملتا رہے گا اس وقت تک ملک کو استحکا م بھی حاصل رہے گا استحکا م میں غیر و ں سے زیادہ اپنو ں خا ص طو رپر سیا ست دانو ں کا دخل ہو ا کر تا ہے ، جس کا شکا ر عدالتیں ہی نہیں پو ر ا نظام ہو جا تا ہے۔ جب 1977ء میں جنر ل ضیا الحق نے ما رشل لا لگایا تو انہو ں نے مر حوم ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کر کے دلا ئی کیمپ یا میا نوالی جیسی سرانڈ جیل میں نہیں ڈالا بلکہ ان کو مر ی کے ریسٹ ہاؤس منتقل کر دیا تھا ، جس کے بعد جنر ل ضیا ء الحق بھٹوسے ملا قات کے لیے مر ی گئے۔ اس ملا قات میں ضیا الحق نے کہا کہ وہ وعدے کے مطا بق تین ما ہ میں نئے انتخابات کر کے حکومت منتخب نما ئند و ں کے حوالے کر دیں گے۔ بھٹو نے اس لمحے ضیا الحق کی طر ف حقارت سے دیکھ کر غصے بھر ے بلکہ چیختے ہو ئے کہا کہ تمہا ری کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں ، تم نے آئین تو ڑا ، تم غداری کے مرتکب ہوئے ، اور اس کی سزا تم جانتے ہو ،اقتدا ر میں آکر تم کو پھانسی دیں گے ، ما رشل لا کے حق میں دی جانے والی کسی دلیل کو تسلیم نہیں کرتا ، جس کے بعد بھی انہوں نے جنرل ضیا الحق کو بر ا بھلا کہا ، جنر ل ضیا الحق ایسے ردعمل کے تصور میں بھی نہیں تھے ، چنا نچہ فوری طورپر کو ر کما نڈر کی میٹنگ طلب کی اور اس میں نئی صورت حال رکھی گئی اور فیصلہ کیا گیاکہ انتخابات سے پہلے احتساب کیا جائے ، جس کی پر زور حما یت خان عبدالولی خان جیسے جمہو ری رہنما نے بھی کی انہوں نے جلسو ں کے ذریعے اس احتساب کے لیے مہم چلا ئی جس میں ان کا مو قف یہ تھا کہ فو ج کو چاہیے کہ وہ پہلے ملک لو ٹنے والو ں کا احتساب کر ے جنہو ں نے قیا م پا کستان سے ہی اس کو لو ٹا ہے ۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ہنو ز فوج کا بو ٹ سانپ کے پھن پرر کھا ہوا ہے اگر اس نے اپنا بو ٹ اٹھا یا تو سب سے پہلے بو ٹ والے کو ہی ڈھسے گا ۔کیا اس کو سیا ست دان اپنی غلطی نہیں ما نتے کہ بھٹو مر حوم ضیا الحق سے ملا قات میں یہ بھول گئے تھے کہ وہ اب مطلق العنان حکمر ان نہیں ہیں بلکہ قیدی ہیں اور ان کا مخاطب کسی آئین ، قانو ن اور اصول کا پا بندبھی نہیں ہے وہ اپنے اختیا ر خود رکھتا ہے اور اختیا رکر سکتا ہے جو اس نے اس ملا قات کے بعد دس سال تک کیا بلکہ کہنا چاہیے کہ مر تے دم تک کیا ۔بھٹو کواپنی اس وقت کی حیثیت سے ہٹ کر بات کر نے کی غلطی نہیں کر نا چاہیے تھی ، خان عبدالو لی خان بھی یہ غلطی کر بیٹھے کہ احتساب منتخب حکومتوں کی ذمہ داری ہو تی ہے فوج کی تو ذمہ داری ملک کی سا لمیت ہو تی ۔ اس ذرا سی غلطی کی وجہ سے قوم پر جنرل ضیا الحق دس سال تک مسلط رہے۔ غلطی کا اعتراف بھی خود کو غلطی سے پاک کرنے کے مترادف ہوتا ہے ۔

متعلقہ خبریں