ہمارا دشمن کون ہے ؟

ہمارا دشمن کون ہے ؟

میں یہاں پر ایک تجزیہ کار یا کالم نگار کے نقطہِ نظر سے نہیں بلکہ اس ملک کے ایک عام شہری کی حیثیت سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک میں دہشت گردی کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کے حوالے سے کوئی بات ایسی ہے جو مجھے پریشان کررہی ہے۔ شاید ہم میں سے کوئی پاکستانی مجھے اس بات کی وضاحت دے سکے کہ ہمارے ملک میںاس وقت کیا ہورہا ہے۔ لاہور میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد سے ملک میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر شروع ہوئی تھی جس کے جواب میں، خبروں کے مطابق، ہماری ایجنسیوں اور سیکورٹی فورسز نے چند دنوں میں 100 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے۔ یہاں پر جو بات مجھے عجیب لگتی ہے وہ یہ ہے کہ اتنی جلدی کس طرح دہشت گردوں کی شناخت کرکے ان کو ٹھکانے لگا دیا گیا ؟ کیا ہمارے ادارے پہلے سے جانتے تھے کہ دہشت گرد کہاں رہتے ہیں ؟ اگر ہم ان کی رہائش سے واقف تھے تو کیا ان کو اس لئے کچھ نہیں کہا جارہا تھا کیونکہ ہمارے پاس ان کے خلاف خاطر خواہ ثبوت نہیں تھے ؟اگر ایسا تھا تو پھر بغیر ثبوتوں کے ان لوگوں کو کیوں مارا گیا ؟ اور اگرہمارے پاس پہلے سے ثبوت موجود تھے اور ہم پھر بھی ان کوگرفتارنہیں کررہے تھے تو اس سے ہمیں کیا فوائد حاصل ہورہے تھے ؟ یہ تمام سوالات ہمیں مخمصے کا شکار کر دیتے ہیں اور ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم سے سچ نہیں بولا جارہا یا پھر ہمارے حکمران حماقت کی اس سطح پر پہنچ چکے ہیں جہاں پر انہیں احساس نہیں ہورہا کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور اپنی قوم کو دھوکا دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات کے بعد ہونے والی کارروائیوں اور ان میں دہشت گردوں کی ہلاکت کی خبروں کے اتنی جلدی منظرِ عام پر آنے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ حکومت دراصل عوامی جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے لئے مزید وقت حاصل کرنا چاہ رہی ہے۔لیکن کون جانتا ہے کہ کتنے معصوم لوگ اس پاگل پن کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ اسی دوران یہ احمقانہ بیانات بھی سامنے آرہے ہیں کہ نئے اسلام آباد ائیر پورٹ کے افتتاح سے دنیا میں پاکستان کا امیج بہتر ہوگا یا پھر لاہور میں سخت سیکورٹی میں ایک میچ کرانے سے ہم دنیا کو یہ پیغام دینے میں کامیاب ہو گئے کہ پاکستان اب ایک محفوظ اور پرُ سکون ملک بن چکا ہے جس کے بعد پوری دنیا کے کرکٹ سپر سٹارز پاکستان کی طرف دوڑ لگا دیں گے۔ مجھے یہ بات سمجھنے میں دشواری کا سامنا ہے کہ کیا غیر ملکی کھلاڑیوں کو لاکھوں ڈالر دے کر اور ایک نیوکلیئر بنکر نما سیکورٹی انتظامات کرکے ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر قسم کے خطرات سے محفوظ ہوچکا ہے ؟ اس کے علاوہ ایک تجارتی کوریڈور کی حفاظت کیلئے 15000 فوجیوں کی تعیناتی سے کیا ہم دنیا بھر کے تاجروں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان سرمایہ کاری کے لئے محفوظ ملک ہے ؟ یہ اقدمات اور ان کے ذریعے دیئے جانے والے پیغامات سے دراصل ہم کسی اور کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں۔مزید برآں، دہشت گردوں کا دوسرے ممالک تک پیچھا کرنے کے بیانات کے ذریعے کیا پیغام دیا جارہا ہے ؟ اگر کوئی اور ملک اس بیان کی بنیاد پر آپ کے اپنے ملک میں آکر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں شروع کردے تو آپ کیا کہیں گے ؟ ایسے بیانات کے ذریعے ہم پہلے سے خانہ جنگی اور کشیدگی کے شکار خطے کی غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ کیا ہمارے صاحبانِ اقتدار کوئی بھی بیان دینے سے پہلے تھوڑی دیر کے لئے سوچتے ہیں ؟ ان بیانات میں سے ایک اور بیان بھی شامل کیا جاسکتا ہے جس کے مطابق ہمارے دشمن ہمارے حالات اس لئے خراب کررہے ہیں کیونکہ وہ ہمیں دنیا میں کامیاب اور ترقی کرتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صرف ایک کرکٹ میچ کے انعقاد کے لئے بھی ہماری راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں۔کیا ہمارے دشمن ہمیں یہ باور کروانا چاہ رہے ہیں کہ کون اصل دہشت گرد ہے اور کون صرف فرقہ وارانہ ہلاکتوں میں ملوث ہے ؟ کیا یہ ہمارے دشمن ہیں جو ہمارے مخیر اداروں اور ان سربراہوں کے خلاف باتیں کررہے ہیں جو سیلابوں اور زلزلوں کے دوران لوگوں کی مدد کرنے کے لئے سب سے آگے ہوتے ہیں اور ریاست کی ذمہ داریاں اپنے ذمے لے لیتے ہیں کیونکہ ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرسکتی ؟ سب سے زیادہ مشکل بات یہ سمجھنا ہے کہ کچھ لوگ ایک ہی ٹائم پہ مخیر اور دہشت گرد کیسے ہوسکتے ہیں ؟ اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ان کے نظریات ان دونوں کاموں سے 'موزوں ' ہوں ؟ یہ سمجھنے کے لئے بھی ہمیں بہت زیادہ محنت کرنی پڑے گی کہ ہم خطے میں امن وامان کے لئے دوسرے راستے استعمال کرنے کی بجائے ریاست سے ریاست کے درمیان رابطہ کیوں نہیں بڑھاتے جو ہمیں خطے سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کی طرف لے جائے گا ۔ لگتا ایسا ہے کہ ہم ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے ، یہی وجہ ہے کہ ہم نے دہشت گردوں کی اچھائیاں اور افادیت جانچنے کے پیمانے مقرر کر رکھے ہیں ۔ اگر واقعی ایسا ہی ہے تو کیا ہمارے اربابِ اختیار میں سے کسی میں اتنا حوصلہ ہے کہ وہ قوم کو اعتماد میں لے کر اس بات کی وضاحت کرسکے کہ کچھ دہشت گرد دوسرے دہشت گردوں سے بہتر کیسے ہیں اور ہم اچھے دہشت گردوں کو پناہ دے کر کیا حاصل کرنا چاہ رہے ہیں ؟ اگر ہم ان سارے سوالات کا جواب نہیں دے سکتے تو اس سے ایک ہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے :اپنے دشمن ہم خود ہیں۔
(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں