مشرقیات

مشرقیات

قاضی ابوبکر عبداللہ بن احمد قفال بغداد کے بہت مشہور عالم دین اور قاضی تھے ۔ ان کے ایک شاگرد قاضی حسین کہتے ہیں : ایک دفعہ میں قاضی قفال کے پاس تھا کہ ایک دیہاتی آیا اور شکایت کی کہ سلطان کے کچھ لوگ اس کا گدھا چھین کر لے گئے ہیں ۔ قاضی قفال نے اس شخص سے کہا : جائو غسل کر و ، مسجد میں جا کر دورکعت نماز پڑھواور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تمہار ا گدھا واپس لوٹا دے ۔ دیہاتی بڑا حیران ہوا کہ قاضی مجھے میرا حق دلانے کے بجائے کس طرح کا مشورہ دے رہے ہیں ۔ اگر یہی کرنا تھا تو عدالت میںآنے کی ضرورت کیا تھی ؟ اس نے دوبارہ مطالبہ پیش کیا : مجھے میرا گدھا واپس دلوایا جائے ، امام قفال نے دوبارہ وہی جواب دیا ۔ دیہاتی ان کی تجویز پر عمل کرنے کے لئے چلا گیا ۔ اس کے جانے کے بعد قفال نے اس کا گدھا لانے کے لئے ایک شخص کو بھیج دیا ۔ جب وہ نماز سے فارغ ہو کر مسجد سے نکلنے لگا تو اس نے دیکھا کہ اس کا گدھا بھی مسجد کے دروازے پر موجود ہے ۔ وہ کہنے لگا : اللہ کا شکر ہے ، جس نے میرا گدھا واپس کر دیا ۔ جب وہ دیہاتی چلا گیا توقفال سے پوچھا گیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ قاضی قفال نے جواب دیا : میں اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق مضبوط کرنا چاہتا تھا تا کہ وہ ہمارا شکر یہ ادا کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر بجالائے ۔ (طبقات الشافعیتہ ، الامام السبکی : 55/5)بہادر شاہ کے زمانہ 1121ھ اور اس کے چوتھے سال کا ذکر ہے کہ کسی مذہبی معاملے پر فضلائے لاہور نے شورش کی ۔ بادشاہ نے ان کو بلوایا ، حاجی یار محمد اور محمد مراد تین چار مشہور فاضلوں کے ساتھ بادشاہ کے پاس گئے ۔ بادشاہ نے رعب دکھا کر اور آنکھیں غصہ سے لال پیلی کر کے ایک سوال کیا ۔ دربار کو توقع تھی کہ علمائے لاہوراپنے دعوے سے دست بردار ہو کر عفوتقصیرت کے خواہش مند ہوںگے ۔ لیکن حاجی یار محمد نے بادشاہ کے قول کا ایسارد کیا کہ اس کا جواب نہ ہو سکا ۔ بادشاہ نے بر آشفتہ ہو کر کہا کہ بادشاہوں کے غضب سے نہیں ڈرتا ۔
حاجی یار محمد نے جواب دیا مجھے اپنے خداوند کریم سے ہمیشہ چار چیز وں کی خواہش رہی ، اول تحصیل علم ،دوم حفظ کلام اللہ ، سوم حج ، چہارم شہادت ، الحمد للہ ، اس نے تین عطا کیں ، اب شہادت کی آرزوباقی ہے ۔ بادشاہ کی توجہ سے ممکن ہے اس میں کامیاب ہو جائو ں ۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ حاجی یار محمد کا یہ استقلال اور حوصلہ دیکھ کر تقریباً ایک لاکھ آدمی اس کے ساتھ متفق ہوگئے ۔ واقعہ یہ تھا کہ بہادر شاہ خطبہ میں کچھ الفاظ پڑھانا چاہتا تھا اور علمائے اہل سلطنت اس سے انکار کرتے تھے ۔ آخر بادشاہ کو ہار ماننی پڑی اور خطبہ وہی رہا جو عالمگیر کے زمانے میں پڑھا جاتا تھا ۔ بادشاہ نے دل میں کدورت رکھی اور آخر کسی بہانہ سے حاجی یار محمد اور اس کے دو ہمراہیوں کو قلعہ میں بند کر دیا ، لیکن ان تکلیفوں اور نظر بندیوں پر بھی انہوں نے ضمیر فروشی سے کام نہ لیا ۔
(تاریخ ہند، جلد نہم )

متعلقہ خبریں