ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی

ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی

امریکہ کے پینتالیسویں صدارتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مد مقابل ہلیری کلنٹن کو شکست دے کر امریکہ کے پینتالیسویں صدر منتخب ہوگئے۔ انہوں نے یہ فتح کئی کلیدی ریاستوں میں یکے بعد دیگرے کامیابی کے بعد حاصل کی حالانکہ گزشتہ کئی ماہ سے رائے عامہ کے جائزوں میں کلنٹن کو ان پر برتری حاصل تھی۔ فلوریڈا' اوہائیو اور شمالی کیرولائنا جیسی اہم سوئنگ سٹیٹس میں ٹرمپ کی کامیابی نے ان کی فتح کا راستہ ہموار کیا۔امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فتح کی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ابھی ابھی ہلیری کلنٹن نے فون کرکے ہم سب کو مبارک باد دی ہے۔ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ہلیری کلنٹن نے بڑا سخت مقابلہ کیا اور میں امریکہ کے لئے ان کی کوششوں کی قدر کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے شروع ہی سے کہا تھا کہ یہ صرف ایک انتخابی مہم نہیں بلکہ تحریک تھی جس میں لاکھوں لوگوں نے حصہ لیا جو چاہتے تھے کہ حکومت لوگوں کی خدمت کرے ۔ انہوں نے کہا کہ مل کر کام کریں گے اور امریکہ کو عظیم بنائیں گے۔اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا کہ ٹرمپ کی صدارتی مہم نے امریکہ کا سیاسی اور سماجی نقشہ تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔سیاسی میدان میں دیکھیں تو ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالفین اور مداحوں دونوں کی کوئی کمی نہیں۔امریکیوں کی بہت بڑی تعداد کو ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی اور اعلانات سے اتفاق نہ تھا بلکہ وہ اسے امریکہ جیسے ملک کے لئے باعث عار تک قرار دے رہے تھے لیکن اس کے باوجود روایتی امریکیوں نے ان کا ساتھ دے کر کامیابی سے ہمکنار کر دیا۔دوسری جانب ٹرمپ کے کروڑوں حامی تھے جن کو بجا طور پر امیدہے کہ وہ امریکہ کو پھر سے عظیم طاقت بنانے کی آخری امیدہیں۔ان دونوں انتہائوں پر موجود دھڑوں میں ایک بات مشترک رہی کہ امریکی صدارتی انتخابات میں ٹرمپ جیسا کوئی امیدوار اب تک نہیں آیا۔ٹرمپ نے تجارت، امیگریشن، بین الاقوامی معاہدوں، اسلحے، جنگ اور روس امریکہ تعلقات کے بارے میں نہ صرف وسیع تر امریکی روایات بلکہ خود اپنی ہی جماعت ری پبلکن پارٹی کی پالیسیوں سے انحراف کیا ہے۔جس پر ان کی جماعت کے سینئر رہنمائوں نے اپنی ہی جماعت کے امیدوار کی کھلم کھلا مخالفت کی ۔بہر حال امریکی انتخابات میں ایک مثبت بات یہ ضرور ہے کہ امریکی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور الزامات لگانے میں کسی دوسرے ملک سے کم نہیں لیکن کم از کم کسی نے نظام پر انگلی نہیں اٹھائی۔ ٹرمپ نے سیاسی اور عدالتی نظام، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ میڈیا تک کو بدعنوان قرار دے کر اپنی راہ الگ نکالی ۔ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم جارحانہ طور پر اور لگی لپٹی رکھے بغیر چلائی۔ٹرمپ نے نسل پرستانہ، اجنبیوں سے نفرت' اسلامو فوبیا پر مبنی، افریقی امریکیوں کے خلاف، میکسیکنز کے خلاف، حتیٰ کہ نظام کے خلاف جو بیانات دئیے ہیں اب وہ ان خیالات سے رجوع کریں گے لیکن اس کے اثرات امریکی فضائوں اور معاشرے پر تادیر محسوس کئے جائیں گے۔گوکہ بطور صدر امریکہ جہاں تک ری پبلکن امیدوار کے صدر منتخب ہونے سے پاک امریکہ تعلقات کا تعلق ہے اگرچہ من حیث المجموع اس میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان تو نہیں لیکن بہر حال اس پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات ازل سے اتار چڑھا کا شکار رہے ہیں اور اس وقت یہ خاص طور پر اتار کا شکار ہیں۔اس بات کا اندازہ ایسے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سال اپریل میں امریکہ نے پاکستان کو رعایتی نرخوں پر ایف 16 طیاروں کی مد میں امداد دینے سے انکار کیا۔اس کے علاوہ امریکہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے معاملے پر بھی سیخ پا ہے جبکہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے سلسلے میںڈو مور کا دائمی مطالبہ بھی بیچ میں حائل ہوتا رہتا ہے۔مگر ان پرانی رنجشوں کے ساتھ ساتھ گزشتہ چند سالوں میں امریکہ کی جانب سے جنوبی ایشیائی پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی بھی دیکھی گئی ہے۔چاہے چین کا مقابلہ کرنے کے لیے یا پھر بھارتی منڈیوں تک رسائی کے لیے، جس بھی وجہ سے امریکہ نے اپنی پالیسی تبدیل کی ہو، یہ بات واضح ہے کہ امریکہ اور بھارت کے روابط میں واضح بہتری آ رہی ہے۔پاکستان اسے امریکہ کا سٹریٹجک شفٹ سمجھے یا بے وفائی، امریکہ اور پاکستان کے تعلقات ایک سرد دور سے گزر رہے ہیں۔اس وقت امریکہ میں مجموعی فضا پاکستان کے لیے ناسازگار ہے۔پاک امریکہ تعلقات میں ہلیری کلنٹن کی جیت کی صورت میں بھی کسی نمایاں بہتری کی توقع نہیں تھی یہ ہلیری ہی تھیں جنہوں نے پاکستان کے حوالے سے کہا تھا کہ پاکستان ٹیکٹیکل ایٹمی میزائل بنا رہا ہے جو انتہائی خطرناک بات ہے۔امریکی خارجہ پالیسی بڑی حد تک غیرجماعتی ہوتی ہے اس بناء پر کہا جاسکتا ہے کہ اقتدار میں چاہے جو بھی ہو اس کا اثر پاکستان امریکہ تعلقات پر کم ہی پڑے گا۔لیکن بہر حال اس امر کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا کہ ٹرمپ کا جھکائو بھارت کی طرف ضرور رہے گا اور امریکہ اور بھارت کے درمیان سفارتی و فوجی تعلقات مزید مضبوط ہوسکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات کی روشنی میں دیکھا جائے تو ان کی جیت سے مسلمانوں سمیت کئی دیگر عناصر بے چینی کاشکار ضرور ہوئے لیکن ٹرمپ کا اپنی انتخابی مہم کے دوران کئے گئے اظہار خیال پر کار بند رہنا ضروری نہیں۔ امریکہ کے صدر کی حیثیت سے ایک طاقتور اور ذمہ دار عہدے کے تقاضوں کے مطابق ان کو اپنے آپ کو ڈھالنا ہی ہوگا۔

متعلقہ خبریں