بھارت کی جانب سے بار بار سرحدی خلاف ورزیاں

بھارت کی جانب سے بار بار سرحدی خلاف ورزیاں

بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ فطری امر ہے۔ گزشتہ روز بھی لائن آف کنٹرول پر آزاد جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں ماں بیٹی سمیت تین افراد شہید اور تین زخمی ہوگئے۔ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ جموں و کشمیر کی جنگ بندی لائن اور سیالکوٹ سیکٹر میں پاکستان کے ساتھ ورکنگ بائونڈری پر بھارت نے جو اشتعال انگیز کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں ان میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں چار ماہ سے جاری تحریک آزادی کے نئے اور پر جوش مرحلے پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد بھارت پاکستان کے خلاف باقاعدہ محاذ کھولنے کے لئے سرگرم ہوگیا ہے۔ اگرچہ بھارت کی ہر گولہ باری کا پاکستانی افواج جو مسکت جواب دیتی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ امرنہیں تاہم پاکستان اور بھارت دونوں ہی جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے اور نہ ہی جنگ کوئی آسان کام ہے۔دونوں ممالک کے لیے جنگ کوئی آپشن نہیں ہے۔ اگر جنگ ہوتی ہے تو انڈیا کے مقابلے پاکستان کو کم نقصان ہوگا۔خطے میں کشیدگی کی صورتحال کی ایک اور وجہ مبصرین یہ بتاتے ہیں کہ انڈیا سلامتی کونسل کی نشست حاصل کرنا چاہتاہے۔ وہ نیوکلیئر سپلائر گروپ کا حصہ بننا چاہتاہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر سامنے نہیں لانا چاہتا۔ آج اگر جنگ ہوتی ہے تو سب کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کشمیر پر قابض ہے۔اس وقت دونوں جانب سے تند و تیز جملے توضرور سنائی دے رہے ہیں لیکن یہ صرف عوام کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں یہ تسلی دی جاسکے کہ آپ محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر کوئی ملک اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ اس نئے محاذ کی حمایت کرسکے۔بھارت کی بظاہر جنگ اور بباطن جنگ سے احترازظاہر کرنا اس کی مجبوری ضرور ہوگی لیکن یہ کوئی دیر پا پالیسی نہیں ہو سکتی جسے جاری رکھ کر بھارت اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوجائے کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں حریت تحریک روزبروز بڑھتی جارہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں آئے روز مظاہرے اوراحتجاج اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے جہاں کشمیری انتفادہ دنیا کے سامنے پوری طرح سے آرہا ہے وہاں دوسری جانب بھارت کا چہرہ بھی بے نقاب ہورہا ہے۔ یہی انتفادہ کی کامیابی اور بھارت کی ناکامی ہے۔ بھارت کو چاہئے کہ وہ خطے میں کشیدگی اور تنائو کی فضا قائم کرنے سے گریز کرے اور اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا سیکھے۔پاکستان کی جانب سے عالمی اداروں کو بھارتی جارحیت سے آگاہ کرنے اور ان کی توجہ مبذول کروانے کے باوجود اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں بھارت سے اس ضمن میں تعرض نہیں رکھتیں جس سے بھارت کو شہ ملتی ہے اور وہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے ساتھ کنٹرول لائن کی خلاف وزی سے باز نہیں آتا۔ اقوام متحدہ کو مقبوضہ کشمیر میںبھارتی مظالم کا نوٹس لینا چاہئے اور کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لئے اپنا کردار اداکرنا چاہئے۔
یوم اقبال پر چھٹی کا مخمصہ
شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے یوم ولادت کے موقع پر سرکاری تعطیل کے موقع پر قومی یا صوبائی سطح پر تعطیل ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے جس غیر یقینی اور اضطراب کی صورتحال رہی اس کی سوائے اس کے کوئی اور وجہ نہ تھی کہ اس ضمن میں حکومتی سطح پر دن بھر گومگو کی کیفیت طاری رکھی گئی۔ ایک مرحلے پر تو یہ تک اطلاعات آئیں کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک تعطیل کی سمری پر دستخط کرچکے ہیں لیکن نوٹیفیکیشن جاری نہ ہوسکا۔ یہ اتنا اہم اور بڑا معاملہ نہ تھا جس پر فوری طور پر کوئی فیصلہ کرنا ممکن نہ تھا۔ سرکاری طور پر تعطیل کا اعلان اگر ماہ رواں کے اوائل میں جاری کیاجاتا یا پھر تعطیل کی منسوخی کا اعلان کیاجاتا تو سرکاری ملازمین اور عوام کو یوں یقینی اور غیر یقینی کی کیفیت سے نہ گزرنا پڑتا۔ اس حوالے سے صرف صوبائی سطح پر نہیں مرکزی سطح پر بھی ابہام رہا۔ علامہ اقبال کے یوم ولادت پر تعطیل ہونی چاہئے یا نہیں اور اس بارے میں عدالتی فیصلے کااحترام ضروری ہے اس سے قطع نظر متعلقہ با اختیار افراد کم از کم اس طرح کے مواقع پر بروقت فیصلے کی زحمت کریں تو لوگ ابہام کا شکار ہونے سے بچ جائیں گے۔ دفتروں میں حاضری اور تعلیمی اداروں میں طلباء کی تعلیم اور کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثر تو نہیں پڑے گا۔

متعلقہ خبریں