قصوری کا ''پلس ون'' فارمولا

قصوری کا ''پلس ون'' فارمولا

ایم کیو ایم پاکستان کے سندھ اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن خواجہ اظہار الحسن کی اس ماہ کے آغاز میں دوبئی میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے بعد سابق صدر کی آل پاکستان مسلم لیگ کے احمد رضا قصوری کا پلس ون فارمولا میڈیا میں زیرِ بحث آ گیا ہے۔ جو احمد رضا قصوری کہتے ہیں کہ انہوں نے اس ملاقات سے پہلے یہ فارمولہ سوشل میڈیا پر نشر کیا تھا۔ احمد رضا قصوری نے تجویز پیش کی تھی کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں کو متحد کرکے پارٹی کی کمان سنبھال لیں۔ احمد رضا قصوری کا استدلال ہے کہ ایک سابق آرمی چیف کے زیر قیادت آنے کے بعد ایم کیو ایم کے لیے بھارتی ایجنٹ ہونے کا طعنہ دھل جائے گا اور ایم کیو ایم کو سارے پاکستان میں رسائی حاصل ہو جائے گی۔ سیاسی فضا میں ایک عرصے سے سابق جنرل پرویز مشرف کے ایم کیو ایم کی قیادت سنبھالنے کے بارے وقفے وقفے سے یہ باتیں آتی رہتی ہیں۔

قصوری فارمولا ایک خواب ہے جو ایم کیو ایم کے تینوں دھڑوں کی حساسیت سے ناواقفیت پر مبنی نظر آتا ہے۔ پہلی قابلِ غور بات یہ ہے کہ آیا سابق صدر پرویز مشرف آل پاکستان مسلم لیگ سے ''آل کراچی ایم کیو ایم''کے قائد بننے کو تیار ہو گئے ہیں۔ ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے جہاں یہ بتایا ہے کہ عہدہ صدارت سے دستبردار ہوکر لندن جانے کے بعد سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے ان کی خطیر رقم کے ذریعے مالی امداد کی تھی اور یہ کہ وہ چالیس منٹ کے لیکچر کے لاکھ ڈیڑھ لاکھ ڈالر کما لیتے ہیں۔ وہاں انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان آنے اور یہاں کی سیاست میں کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں صدر یا وزیر اعظم بننے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ وہ صرف قومی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں بشرطیکہ اُن کے خلاف مقدمات واپس لے لیے جائیں۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پلس ون فارمولے کی تجویز پر ان سے کسی نہ کسی سطح پر بات ہوئی ہوگی۔ اس خیال کو اس بات سے بھی تقویت پہنچتی ہے کہ خواجہ اظہار الحسن اور سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی ملاقات میں بلدیاتی اداروں کے ارکان کے اختیارات ' کراچی کی ترقی اور ملک کی سیاسی صورت حال پر بات ہوئی۔ ممکن ہے خواجہ اظہار الحسن نے سابق صدر سے بلدیاتی اداروں کے اختیارات سے متعلق اپنا اثر ورسوخ استعمال کرنے کی بات کی ہو۔ ایم کیو ایم لندن کے استرداد ' ایم کیو ایم پاکستان کی طرف سے شائستہ انکار اور پاک سرزمین پارٹی کی خاموشی سے اس اندازے کو تقویت پہنچتی ہے کہ پلس ون فارمولہ قبول نہیں کیا گیا۔ تاہم کوئی بھی فارمولہ اسی وقت زیرِ غور آ سکتا ہے جب یہ یقین کرلیا جائے کہ ایم کیو ایم میں مائنس ون فارمولے پر عمل درآمد مکمل ہو گیا ہے۔ کیا ایم کیو ایم پاکستان کے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے سے کمیونٹی کاوہ رویہ تبدیل ہو گیا ہے جو الطاف حسین کی مورد اعتراض تقریروں کے سننے والوں کے خشوع و خضوع میں نظر آتا تھا۔ ایم کیو ایم لندن کے لوگوں نے پریس کانفرنس کی اور اس دوران کراچی پریس کلب کے باہر لوگوں کا جو اجتماع ہوا اس سے کیا نتیجہ اخذ کیا گیا، یہ لندن کے نمائندوں کی گرفتاری سے سامنے آیا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کہتے ہیں کہ ان کی ایم کیو ایم کا پارٹی کے متشدد عنصر سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے احکام براہِ راست لندن سے آتے تھے۔ ٹارگٹ کلنگ' بھتہ خوری اور آتشزدگی وغیرہ کے ملزم زیرِ حراست ہیں' کراچی میں بڑی حد تک امن واپس آ گیا ہے۔ لیکن کیا جو ملزم زیرِ حراست ہیں ان کے علاوہ کوئی اور متشدد ونگ کے لوگ نہیں ہیں؟ کیا ان میں سے کوئی روپوش یا زیرِ زمین چلے گئے ہیں؟ عزیز آباد سے اسلحہ کا جو بڑا دفینہ ملا ہے کیا اس کے علاوہ کوئی اور ذخیرے کراچی میں نہیں ہیں؟ ان سوالوں کا حتمی جواب نہیں دیا جا سکتا۔ لہٰذا جو امن نظر آتا ہے اسے بھی مستقل نہیں کہا جا سکتا تاآنکہ ایم کیو ایم پاکستان اورپاک سرزمین پارٹی خود اپنے اندر تطہیر پرآمادہ نہ ہو جائیں۔ لیکن ڈاکٹر فاروق ستار کہتے ہیں کہ ہمارے کارکنوں پر بلاوجہ مظالم توڑے جا رہے ہیں۔ اور پاک سرزمین پارٹی والے کہہ رہے ہیں کہ ان تمام لوگوں کو جو روپوش ہیں یا جن پر سنگین الزامات ہیں عام معافی دے دی جائے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چھاپے مارے' بڑی تعداد میں ملزموں اور مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ یہ ہونا چاہیے کہ ان کو پرامن زندگی گزارنے پر آمادہ کیا جائے اور اس کے لیے وسائل مہیا کیے جائیں لیکن یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب کراچی میں نہ صرف ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی بلکہ تمام سیاسی جماعتیں جن کے متشدد ونگز کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ اپنے ملزم اگل دیں اور بحالی اور پرامن زندگی گزارنے کار اگر کوئی فارمولہ ہے اسے قبول کرنے پر تیار ہو جائیں۔ یہ صرف کراچی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان میں تریسٹھ کالعدم تنظیموں کی نشاندہی ہو چکی ہے۔ جو ابھی زیر ِ زمین ہیں ان کی تعداد معلوم نہیں۔ ایک بھرپور پروگرام کی ضرورت ہے جسے زمینداروں' جاگیرداروں' وڈیروں' سرداروں اور کاروباری اداروں کے بااثر لوگوں کی حمایت حاصل ہونی چاہیے جنہوں نے اپنے تحفظ کے لیے ہی سہی متشدد لوگوں اور گروپوں سے رابطے رکھے ہوئے ہیں۔ آغاز ایم کیو ایم پاکستان سے کیا جا سکتا ہے کہ اس کی سیاسی قیادت مہاجر فوقیت اور مہاجر مظلومیت کے بیانیہ سے آگے بڑھ کر پاکستان زندہ باد کے نعرے کے تحت پاکستانیوں کی مظلومیت اور ان کے قومی وقار کی بحالی کی طرف بڑھنے کا ارادہ کرے۔ لیکن نہ تنہا ایم کیو ایم پاکستان یا پاک سرزمین پارٹی یہ کام سرانجام دے سکتی ہے اور نہ ایم کیو ایم کی قیادت میں تبدیلی سے یہ مقصد حاصل ہوسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں