انہیں ان پڑھ ہی رکھئے

انہیں ان پڑھ ہی رکھئے

لائوژو نے کہا تھا کہ ''اگر آپ کی سمت درست نہیں ہے تو عین ممکن ہے کہ آپ کے سفر کا اختتام وہیں ہو جہاں سے آپ نے اس کا آغاز کیا تھا۔'' لائوژو کی بات درست تھی۔ اس کا احساس جانے کیوں ہر روز ایک نئی صورت میں ہوتاہے۔ پاکستان کی منزل کیا ہے اس کا فیصلہ تو شاید ہم اب تک نہیں کرسکے۔ ہر پالیسی بنانے والے کے ' حکومت کرنے والے کے اپنے خواب ہیں اور وہ اپنے خوابوں کی مرضی کی ہوا کا رخ اس کشتی کے بادبان کو دینا چاہتا ہے اور پھر اس ملک کے لوگ ہیں۔ ان کے اپنے خواب ہیں' اپنی خواہشات ہیں اور اس سب کا حاصل۔ اک الجھن' بے چینی' سراسیمگی اور کون جانے اس میں ہمارے خواب کہاں دھول میں جا ملتے ہیں۔ ہم کن پریشانیوں کے دھاگوں میں الجھ جاتے ہیں۔ہم نے آج تک اپنا راستہ تلاش نہیں کیا۔ ہم اپنا راستہ تلاش کر نہیں سکتے کیونکہ راستہ تلاش کرنے کے لئے روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ روشنی علم سے حاصل ہوتی ہے اور ہم تو اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔ فیصلہ کرنے والے' حکومت کرنے والے دونوں ہی اس بات کو نظر انداز کئے چلے جاتے ہیں۔ شاید اس لئے کہ لوگوں کا شعور بیدار ہونا شروع ہوگیا تو ان لوگوں کے لئے مشکلات ہونے لگیں گی جو ابھی تک اسی گمراہی کے گھوڑے پر سواری کر رہے ہیں۔ پاکستان ایک ایسا ترقی پذیر ملک ہے جس کی معیشت کی مضبوطی کی داستانیں سناتے حکمران تھکتے نہیں۔ لوڈشیڈنگ آدھی کرنے کا اعلان بھی اس جانب اشارہ کرے گا کہ موجودہ حکمرانوں نے وہ کمال کر دکھایا ہے جو ایک عرصے سے فوجی آمر بھی نہ کرسکے تھے اور ہم بے چارے ان پڑھ لوگ ان کے بتائے ہوئے اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں الجھ کر رہ جائیں گے۔

ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں اعداد و شمار کے مطابق بارہ ہزار فرضی سکول ہیں جن میں سے پانچ ہزار فرضی سکول سندھ میں ہیں جبکہ قریباً ایک سے ڈیڑھ ہزار فرضی سکول بلوچستان میں ہیں۔ بقیہ تعداد پنجاب اور خیبر پختونخوا کے فرضی سکولوں پر مشتمل ہے۔ نحیف اندازے یہ بھی بتاتے ہیں کہ پاکستان میں قریباً 40ہزار فرضی استاد بھی ہیں جن میں سے پندرہ ہزار فرضی استاد تو صرف صوبہ بلوچستان کے اعداد و شمار میں شامل ہیں۔ پورے پاکستان میں 20ملین بچے تعلیم کی سہولتوں سے محروم ہیں جن میں سے ایک ملین سے زائد تو صرف بلوچستان میں ہیں۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کا آئین اپنے باشندوں کے تعلیم کی حق کی بات کرتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 25-A تعلیم تک مفت رسائی کو پاکستان کے ہر شہری کا حق سمجھتا ہے۔ پنجاب میں 460 سکولوں کی عمارتیں ایسی ہیں جو تعلیم کے علاوہ دیگر مقاصد کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔بلوچستان میں 900عمارتیں ایسی ہی ہیں اور تین لاکھ طالب علموں کی جعلی رجسٹریشن ان 900 عمارات کے ضمن میں موجود ہے۔ ملک کے کل بجٹ میں سے 84 بلین تعلیم کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ رقم کل بجٹ کا بمشکل دو فی صد ہے۔ بچے کیسی تعلیم حاصل کرتے ہیں' تعلیم حاصل کرتے بھی ہیں یا نہیں حکومت اس بارے میں چنداں فکر مند نہیں۔ وہ تو اپنے ہی مسائل میں الجھی ہوئی ہے اور عوام کو بھی انہی الجھنوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ وہ اس پریشانی کا شکار ہیں کہ شریف فیملی عدالت عالیہ میں کیا جوابات جمع کروا رہی ہے۔ اپنے اثاثہ جات کی کیا توجیہہ بیان کر رہی ہے۔ عمران خان عدالت میں موجود ہیں تو تسبیح پر کیا پڑھ رہے ہیں اور عدالت کے رد عمل پر کیسا محسوس کرتے ہیں۔ شیخ رشید کی انگریزی میں تقریر کیسی رہی۔ ان سب باتوں میں الجھے لوگوں کو بھلا یہ کون سکھائے گا کہ انہیں اپنے لئے کونسے راستے منتخب کرنے ہیں۔ اپنے مسائل کا حل کیا تلاش کرنا ہے۔ ان کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟ ایک ایسا ملک جہاں تعلیم کے بجٹ کی حیثیت آٹے میں نمک جتنی بھی نہیں وہاں بھلا عوام سے یہ توقعات کیسے وابستہ کی جاسکتی ہیں کہ وہ درست لوگوں کا انتخاب کریں گے۔ اتنا تو میں معلوم ہے کہ بد عنوانوں کو حکمران نہیں ہونا چاہئے لیکن جہاں لوگوں کو ہندسوں کا علم نہ ہو وہاں کتنے ارب کس نے کمائے اور کتنے کروڑ کس کو تحفہ کئے' اس تحفے کی کیا ضرورت تھی یا کیا راستہ تھا یہ سمجھنا ذرا مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے کبھی اپنے ہاتھ میں اکٹھے پچاس ہزار تھامے نہیں ہوتے ان کے لئے اربوں کھربوں کا کھیل سمجھنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔ ان لوگوں کو ان پڑھ ہی رکھنا ضروری ہے تاکہ وہ سمجھ ہی نہ سکیں کہ دراصل معاملہ کیا ہے اور ان کے ساتھ کیا ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔
حکومت کی پالیسی بالکل درست ہے۔ یہ ان پڑھ لوگ ہیں' انہیں ان پڑھ ہی رکھنا ضروری ہے۔ یہ ان پڑھ رہیں گے تو نہ سمجھ سکیں گے کہ منی لانڈرنگ کیا ہے' ان کے لئے کیوں نقصان دہ ہے اور نہ ہی انہیں اس کے احتساب کی اہمیت کا اندازہ ہوگا۔ یہ لوگ تو عمران خان کے جلسوں اور نواز شریف کی جمہوریت بچانے کی کوششوں کو ہی اپنی بصیرت سے تولتے رہیں گے۔ انہیں تو یہ معلوم ہی نہیں ہوگا کہ اصل معاملہ کیا ہے۔ کیوں ہے اور اس کا اصل حل کیا ہونا چاہئے۔ سوچتے ہی رہیں گے اور کچھ سمجھ نہ آئیں گی۔ ان لوگوں کا کچھ نہ سمجھ سکنا ہی بہتر ہے اور وہ وعدے جو سمجھ آتے ہوں ان کا ہاتھ تھام کر پولنگ بوتھ تک آجانا ہی اچھا ہے۔ سو انہیں ان پڑھ ہی رکھا جا رہا ہے اور جب تک یہ حکمران رہیں گے ہم جیسے لوگوں کو' عوام کو ان پڑھ ہی رکھا جائے گا۔ محکمہ تعلیم اتنا ہی بیمار اور نحیف رہے گا' اس کے لئے تیار رہنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں