جب لاد چلے گا بنجارا

جب لاد چلے گا بنجارا

شنید ہے ایک گائوں میں اچانک سیلاب آگیا۔ گائوں کے خان خوانین اور صاحب ثروت لوگ اپنا مال و اسباب بچانے کے لئے دوڑ دھوپ کرنے لگے۔ اس تردد میں کئی لوگ سیلاب کے پانی کے بھی نذر ہوگئے۔ ہماری طرح ایک قلاش جو اپنے حصے کے آسمان کا مالک بھی نہ تھا اس نے اپنی اکلوتی چٹائی لپیٹ کر پائوں کے انگوٹھے سے باندھی اور گھر میں پڑے مٹکے کو الٹا کر اس پر سینہ ڈالے سیلاب کے پانی میں بے خوف خطر اتر گیا۔ ساتھ نعرے بھی لگا رہا تھا نن د نیستئی پہ خوند پوھ شوم۔ آج اپنی قلاشی کا مزہ آیا۔ یہ ہمیں پانامہ پیپرز میں شامل لوگوں کی پریشانی دیکھ کر یاد آیا۔ آج کل چاروں طرف پانامہ لیکس ہی کے چرچے ہیں۔ آئس لینڈ کے وزیر اعظم کو استعفیٰ دینا پڑا اور برطانیہ کے وزیر اعظم کو پارلیمنٹ کے سامنے اپنی صفائیاں پیش کرنا پڑیں۔ ہمارے یہاں بھی معاملہ کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا اس پر ہم کوئی رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ البتہ یہ کہنے کی ضرور اجازت دیجئے کہ یہ سب ہوس زر کے شاخسانے ہیں۔ کہنا یہ مقصود تھا کہ جب اقتدار کے ساتھ ہوس زر بھی شامل ہو جائے تو اس کے بڑے خطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسی بھوک ہے جس کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس ضمن میں اسلامی ممالک کے بے شمار حکمرانوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ معمر قذافی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا کے دولت مند ترین شخص تھے۔ میکسیکو کے کارلوس سم سے ان کے پاس دگنی دولت تھی اور سعودی عرب کے شاہ عبداللہ کے مقابلے میں وہ دس مرتبہ زیادہ سرمائے کے مالک تھے۔ اقتدار سے محرومی کے وقت ان کو دو سو ارب ڈالرز کا مالک بتایاگیا۔ دنیا کے مختلف یورپی ممالک میں ان کے ذاتی اکائونٹ سے 67 ارب ڈالرز برآمد ہوئے۔ انگلینڈ' فرانس' اٹلی اور جرمنی نے ان کے 30ارب ڈالرز پر قبضہ کیا اور اوبامہ انتظامیہ کو قذافی کے 37ارب ڈالرز ہاتھ لگے۔ یہ سارا سرمایہ انہوں نے ملک کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے منافع سے جمع کیا تھا۔ یاد رہے کہ لیبیا دنیا کو تیل سپلائی کرنے والا دسواں بڑا ملک ہے۔ قذافی کا دور اقتدار جو 42 سال پر محیط ہے ۔اس عرصہ میں انہوں نے دنیا کے بیشتر یورپی ممالک میں مقیم اپنیخاندان کے لوگوں تک دولت پہنچائی۔ سوئس اکائونٹس میں جمع کرتے رہے۔ سرمایہ کاری کی اور دنیا میں جائیدادیں بنائیں۔ اگر وہ چاہتے تو اپنے کم و بیش 62لاکھ آبادی والے ملک کے ہر باشندے کو 30ہزار ڈالرز دے سکتے تھے۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ قذافی کی 700ارب ڈالرز کی دولت' سوئس اکائونٹس میں جمع کیا گیا سرمایہ دنیا کے ہر بڑے شہر میں پھیلے ہوئے پر تعیش محلات ان کے اقتدار کو بچانے میں کس حد تک کام آئے۔ ان کے خلاف جب بغاوت شروع ہوئی تو وہ بھیس بدل کر اپنے آبائی گائوں Sirte جا پہنچے۔ 20اکتوبر 2011ء کو باغیوں کے گروہ نے انہیں اسی قصبے کے نواح میں ایک غلیظ سیوریج پائپ سے بازیاب کیا۔ انہیں ٹانگوں سے کھینچ کر باہر نکالا گیا۔ گھسیٹتے ہوئے سڑک پر لائے۔ ان کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ ان پر پتھر برسائے جا رہے تھے۔ لاتوں اور گھونسوں کی بارش ہو رہی تھی۔ ان کی کمر پر بڑی بے دردی سے بندوق کے بٹ مارے جا رہے تھے۔ آخر کار ایک نوجوان باغی نے ان کے سر کو نشانہ بنا کر پستول چلا دی اور پھر 42 سال سے اپنے ملک پر بلا شرکت غیرے حکومت کرنے والے اس آمر کی لاش کو ایک کھلی جیپ میں پھینک دیا گیا۔ دنیا کے اس امیر ترین شخص کی لاش کہاں دفن کی گئی ' ان کا جنازہ پڑھایا گیا اور اس کو دفن کے لئے دو گز زمین بھی نصیب ہوئی یا نہیں یہ آج تک کسی کو معلوم نہ ہوسکا۔ اب تیونس کے صدر زین العابدین بن علی کاحال ملاحظہ کیجئے۔ وہ 23 سال تک مسند اقتدار پر براجمان رہے ۔ اس دوران وہ صرف سونے چاندی کے ڈھیر کھڑے کرتے رہے۔ جب تیونس کے عوام کا صبر کا پیمانہ چھلک پڑا تو ان کے خلاف تمام ملک میں بغاوت کا طوفان اٹھ کھڑاہوا۔ نتیجتاً عابدین صاحب کو بیوی بچوں سمیت پہلے دبئی اور پھر سعودی عرب میں پناہ لینا پڑی۔ تیونس میں ان کے خلاف مقدمہ چلایاگیا اور 35سال قید کی سزا سنائی گئی۔ تیونس سے فرار کے وقت ایک خبر یہ تھی کہ ان کی بیگم اپنے ساتھ 15ٹن سونا بھی جہاز میں لاد کر لے گئیں جس کی قیمت 37ارب ڈالر بنتی ہے۔ اس سونے کا انہوں نے کیا استعمال کیا یہ آج تک معلوم نہ ہوسکا۔ عبدالصالح نے بھی یمن پر 30سال تک حکومت کی اور اقتدار سے محرومی کے بعد وہ 60ارب ڈالر کے مالک بتائے گئے۔ حسنی مبارک بھی 30سال تک مصر کے صدر رہے۔ اپنے اقتدار میں طوالت کے ساتھ انہیں بھی دولت جمع کرنے کا خبط تھا۔ اس دیوانگی کے نتیجے میں وہ 70ارب ڈالر کا اثاثہ چھوڑ کر مسند اقتدار سے بصد خرابی بسیار اتارے گئے ۔شاہ ایران کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ انقلاب ایران کے بعد جب وہ ملک سے فرار ہوئے تو کسی بھی ملک نے انہیں پناہ دینے سے انکار کردیا اور انہیں دفن ہونے کے لئے اپنے ملک میں دو گز زمین بھی نصیب ہوئی۔ ان تمام عبرت انگیز واقعات کی گردان سے صرف یہ بتانا مقصود تھا کہ یہ بے ثبات دنیا عبرت سرائے ہے۔ یہاں نہ اقتدار کو دوام حاصل ہے اور نہ دولت کسی کام آتی ہے۔ پانامہ پیپرز کا کیا نتیجہ نکلتا ہے یہ تو بعد کی بات ہے فی الوقت یہ حقیقت پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

سب ٹاٹھ پڑا رہ جائے گا
جب لاد چلے گا بنجارا

متعلقہ خبریں