چل ۔گو۔زہ

چل ۔گو۔زہ

کہتے ہیں نام میں کیا رکھا ہے لیکن ہمیں شیکسپیئر کی تمام تر علمی و فنی صداقتوں کو تسلیم کرنے کے بعد بھی ان کی اس بات پر یہ اعتراض ہے کہ نام میں بہت کچھ رکھا ہے ۔یہ عظیم علمی احساس ہمیں اس وقت ہوا جب ہم نے ایک اخباری خبر میں پڑھا کہ چلغوزہ مبلغ 2200روپے کلو فروخت ہورہاہے ۔ یعنی کہ چلغوزے کی قیمت ایک خبر بن گئی ہے ۔اس میں قیمت کا بھی کمال نہیں بلکہ اس میں سارا کمال چلغوزے کے نام میںہے ۔جب سے چلغوزے کی قیمت اور امریکہ کا ویزہ ہماری دسترس سے دور ہوا ہے ہم نے امریکہ جانے اور چلغوزہ کھانے کا شوق چھوڑ دیا ہے ۔ہمیں کچھ کچھ اس کا ذائقہ اب بھی یاد ہے اور ہمیں یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کہ ہم اپنی پاکٹ منی سے چلغوزے خرید کرکھابھی لیا کرتے تھے۔جن قارئین کو یقین نہ آئے تو ہم اس بات کی تصدیق میں اپنے چند لنگوٹیے دوستوں کی گواہی بہم پہنچاسکتے ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمارا بچپن بلاول بھٹوزرداری یا مریم نواز جیسا منہ میں سونے کے چمچ والی کیفیت میں گزراتھابلکہ غلطی سے اس زمانے میں چلغوزے بہت ارزاں تھے ۔اب اس زمانے میں چلغوزے کیوں ارزاں تھے اور اب کیوں گراں ہیں ۔اب سوال یہ ہے کہ ہم زمانے کو کوسیں یا خود کو۔ اگر چہ آج کا موضوع فراق یار میرا مطلب ہے فراق چلغوزہ کی گفتگو نہیں ہے کیوں کہ ہندکومتل کے مصداق ''جب گاؤں ہی چھوڑ دیا تو اس کا مذکور کیا''لیکن کیا کریں صاحب کہ گاؤں ہی تو چھوڑا ہے اس کی محبت تو نہیں چھوڑی ۔اسی بات کو منفی انداز سے سوچیں تو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ چور چوری سے جائے پر ہیراپھیری سے نہ جائے ۔سو اپنے پرانے دوست (چلغوزہ)کی اس قدر پذیرائی کو دیکھ کر دل میں کچھ کچھ حسد سی محسوس ہونے لگی ہے ۔وہ جو کسی شاعر نے کہا تھا نہ کہ کاش میں تیرے ہاتھ کا کنگن ہوتا۔تو ہم بھی یہی سوچنے لگے ہیں کہ ہمارے وطن میں چلغوزے انسانوں سے بھی گراں ہوگئے ہیں ۔ بینظیر کارڈ کے ماہانہ وظیفے سے بھی ایک کلو چلغوزے نہیں خریدے جاسکتے ۔آپ میری ان مایوسی بھری باتوں سے قطعی یہ اندازہ مت لگائیے کہ ہم کہیں بہت زیادہ افلاس کا شکار ہوگئے ہیں ۔دراصل اسے آپ ہماری کفایت شعاری کہیں یا کنجوسی کہ ہم مہنگی چیزیں کھانے میں تامل برتے ہیں ۔اگر ہم نے ماضی میں چلغوزے کو مونگ پھلی کی طرح خوب رَج کے نہ کھایا ہوتا تو شاید ہم کبھی کبھی عیاشی کے موڈمیں آکر ایک آدھ چھٹانک چلغوزے کھابھی لیا کرتے ۔ایک دفعہ ہم سبزی لینے بازار گئے تو شلغم کا ریٹ پوچھا تو دکاندار نے ڈیڑھ سو بتائے ۔ہم نے دکاندار سے کہا کہ جناب ڈیڑھ سو روپے کلو کا انڈکس عبور کرنے کے بعد اس سبزی کو کم ازکم ''ٹیپر ''نہ کہیں بلکہ اس کے ساتھ کوئی معزز لاحقہ لگالیں تاکہ اس کی قیمت کا حق اداہو۔ ہم نے لگے ہاتھوں اس دکاندار کو دو ایک نام بھی تجویز کردیے جیسے ٹیپر خان ،ٹیپر ملک یا چوہدری ٹیپر یا کم از کم ٹیپر صیب تو ضرور کہنا چاہیئے سو آج ہمارا چلغوزے کی گرانی پر اس کے نام کے حوالے سے کچھ تجویزیں دینے کا ارادہ ہے ۔مگر ٹھہریے چلغوزے کے ساتھ کم ازکم شلغم والا مسئلہ نہیں ہے ۔ شلغم کا نام کچھ کچھ غریبوں والا ہے ۔ اس لیے اس کے نام پر دل میں تحفظات ابھرے لیکن چلغوزے کانام تو پہلے سے ہی ہم جیسے مڈل کلاسوں کے لیے حقارت سی رکھتا ہے ۔ یعنی چل، گو اور زا۔اردو ،انگریزی اور پشتو میںکسی کو دھتکارنا ہوہم چل اپنا کام کر یا گواوے یا زہ مڑہ اخپل کار کوہ جیسے جملے بولتے ہیں اور چلغوزے کا نام تو روزاول سے ہی اپنے اندر احساس تفاخر رکھتا ہے ۔ کسی بہت ہی ذہین اور دوراندیش انسان نے اس کمیاب اور نایاب کا نام رکھا ہوگا کہ جس کا ذہن افلاطون یا ارسطو جتنا بڑا ہوگا۔اب چونکہ اس جنس گراں بہا کا سٹیٹس سماج میں بن چکا ہے تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ لوگ اسے سٹیٹس سمبل کے طور پر کیوں نہیں استعمال کرتے ۔ ہر دور کے کچھ سٹیٹس سمبل ہونے ہیں ۔ کسی زمانے میں ریڈیو تھا یا راڈو ڈایا سٹار گھڑی تھی یا شروع کے زمانے موبائل فون سٹیٹس سمبل سمجھا جاتا تھا ۔لیکن ابھی تک امیروں کو یہ احساس کیوں نہیں ہوا کہ وہ یونہی دو کلو چلغوزے اٹھاکر پھر ا کریں ۔ نمائشی قسم کے خیراتی ادارے جو بیواؤ ں میں سلائی مشینیں تقسیم کرنے کے روایتی انداز اپناتے رہتے ہیں انہیں اب اپنے فوٹوسیشنز کے لیے غریبوں میں چلغوزے بانٹنے چاہئیں تاکہ غریبوں کی اگلی نسل تک کم ازکم چلغوزے کا ذائقہ تو منتقل ہوسکے ۔اب حکمرانوں اور سیاسی رہنماؤ ں کو بھی اس عظیم کھاجے کی قدر کرنی چاہیئے ۔ جیسے خیرسگالی کے طور پر اکثر مالدار قسم کے سیاستدان اپنے ہم منصبوں کو آم کا تحفہ بھیجتے ہیں ۔اب آم بھلے سے بہت شیرین پھل ہو لیکن کیا وہ چلغوزے کا نعم البدل ہوسکتے ۔اب مالدار سیاست دان کسی کو چلغوزے بھیجے گا تو عام آدمی کو کتنی حیرت ہوگی کہ یار صاحب نے صاحب کو چلغوزے گفٹ کیے ہیں ۔ ایک شخص کا ایک میلے میں تکیہ گم ہوگیا تھاتو اس نے اس تکیے کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے حجامت بڑھا لی تھی ۔اس شخص کی ایک سردار جی سے ملاقات ہوگئی کہ جس کے ہر جگہ سے بال بڑھے ہوئے تھے تو اس شخص نے سردار سے کہا کہ لگتا ہے کہ تمہارا پورا بستر میلے میں گم ہوگیا ہے ۔ سو ہم بھی سوچتے ہیں کہ اس بار مونگ پھلیوں پر کٹ لگا ہی لیں جو پیسے بچیں گے اس سے سیزن کے آخر میں ایک پاؤ چلغوزے خرید لیں گے تاکہ محفل میں دوستوں کو یقین دلانے کے لیے یہ بات قسم کھاکرکہہ سکیں بھائی ہم نے بھی اس بار سیزن میں خوب چلغوزے کھائے ہیں ۔