نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف امریکی شہروں میں مظاہرے

نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف امریکی شہروں میں مظاہرے

امریکہ میں متعدد شہروں میں ہزاروں افراد نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بطور صدر انتخاب کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔

ان مظاہروں میں شریک افراد 'یہ میرا صدر نہیں' کے نعرے لگا رہے تھے اور انھوں نے ٹرمپ کے پتلے بھی نذرِ آتش کیے۔

٭ امریکہ میں ٹرمپ مخالف مظاہرےے: تصاویر میں

ڈونلڈ ٹرمپ منگل کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں تمام اندازوں کے برعکس ڈیموکریٹ امیدوار ہلیری کلنٹن کو شکست دے کر امریکہ کے 45ویں صدر منتخب ہوئے ہیں۔

وہ جمعرات کو ملک کے موجودہ صدر براک اوباما سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کر رہے ہیں جس کا مقصد انتقالِ اقتدار کے عمل کی ہمواری کو یقینی بنانا ہے۔

صدر اوباما نے ٹرمپ کے خلاف انتہائی سخت انتخابی مہم چلائی تھی اور انھیں صدراتی منصب کے لیے ناموزوں قرار دیا تھا تاہم اب انھوں نے سبھی امریکیوں پر انتخابی نتائج تسلیم کرنے پر زور دیا ہے۔

اوباما نے کہا: 'اب ہم سبھی ان کے امریکہ کو متحد رکھنے اور اس کی قیادت سنبھالنے کی کامیابی کے متمنّی ہیں۔'

اوباما نے لوگوں کو متحد رہنے کی بات کہی ہے جبکہ ہلیری کلنٹن نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ ٹرمپ کو قیادت سنبھالنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔

تاہم ان بیانات اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب کے خلاف امریکہ کی کئی ریاستوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

نیویارک میں ہزاروں افراد نے ٹرمپ ٹاور کی جانب مارچ کیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن، ہم جنس پرستی اور اسقاطِ حمل کے بارے میں پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔

پولیس نے پہلے ہی اس عمارت کے آس پاس سکیورٹی سخت کر دی تھی اور روکاٹیں کھڑی کر دی تھیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اس احتجاج میں شریک 15 افراد کو پولیس نے حراست میں بھی لیا ہے

امریکہ کے دیگر شہروں میں ہونے والے مظاہرے زیادہ تر پرامن رہے تاہم کیلیفورنیا کے علاقے اوکلینڈ میں کچھ مظاہرین نے دکانوں کے شیشے توڑے اور پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس پھینکی۔

لاس اینجلس اور اوریگون کے شہر پورٹ لینڈ میں ٹرمپ مخالف مظاہرین نے اہم شاہراہیں بند کر دیں جبکہ شکاگو میں ہجوم نے ٹرمپ ٹاور کے داخلی دروازے پر دھرنا دے دیا اور 'نو ٹرمپ ، نو کے کے کے، نو فاشسٹ یو ایس اے' کے نعرے لگاتے رہے۔

اس کے علاوہ فلاڈیلفیا، بوسٹن، سیاٹل اور سان فرانسسکو میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں جہاں کچھ علاقوں میں بطور احتجاج لوگوں نے امریکی پرچم بھی جلائے۔

بدھ کے روز جیت کے بعد اپنے پہلے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لوگوں کو متحد رکھنے کی بات کہی تھی اور زور دیا تھا کہ وہ سبھی امریکیوں کے صدر ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا ہے کہ صدر اوباما ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار کی ہموار منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ ہیں تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ جمعرات کو ہونے والی ملاقات 'ایک آسان ملاقات نہیں ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ وائٹ ہاؤس میں ان کی اہلیہ ملانیا بھی ان کے ہمراہ ہوں گی جو مشیل اوباما سے علیحدہ ملاقات کریں گی۔

نومنتخب صدر کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کو براک اوباما کو روزانہ دی جانے والی سکیورٹی بریفنگ تک رسائی کے بھی حقدار بن گئے ہیں۔ اس بریفنگ میں امریکہ کے خفیہ آپریشنز اور ملک کی 17 خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے جمع کردہ دیگر ڈیٹا شامل ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں