فاٹا' عبوری نظام کتنے عرصے کا ہوگا؟

فاٹا' عبوری نظام کتنے عرصے کا ہوگا؟


وزیر اعظم کے زیر صدارت قومی کمیٹی کے اجلاس میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو مرکزی دھارے میں لانے کے لئے اقدامات اور قانون سازی کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ فاٹا کے عبوری انتظام کیلئے چیف آپریٹنگ آفیسر کی تعیناتی کا فیصلہ فاٹا ریفارمز پیکج کو عملی شکل دینے کی ایک سنجیدہ سعی ہے۔ فاٹا میں پولیس کی تیزی سے بھرتی اور تربیت کاعمل مکمل کرنے کے لئے اقدامات کا بھی عندیہ دیاگیا ہے۔ گوکہ یہ اقدامات فاٹا اصلاحات کی عملدرآمد کی مد میں عملی اقدامات ضرور دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن چونکہ اس عبوری انتظام کی کوئی معین مدت طے نہیں اس لئے اس انتظام کا طول پکڑنا فطری امر ہوگا۔ اگر پولیس کی بھرتی اور اس کی تربیت اور اس کے انتظام و انصرام سنبھالنے کے عمل ہی کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو اس عمل ہی کے لئے سال بھر کی مدت ضرور درکار ہوگی۔ آسامیوں کے لئے درخواستوں کی طلبی ،پھر ان کی چھان بین، ٹیسٹ و انٹرویو سند تقرری کا اجراء اور تربیت کے لئے طلبی کا خط تحریر کرنے کے بعد پولیس کی تربیت پر مرکز میں مہینوںصرف ہونگے۔ ایسا لگتا ہے کہ فی الوقت حکومت کے ذہن میں فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کاکوئی خاکہ نہیں بلکہ ایک عبوری انتظام کے تحت اس عمل کو ایک تجربے سے گزار کر مشکلات اور پیچیدگیوں کا جائزہ لے کر اسے دور کرنے کے بعد اگلا قدم اٹھانا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ معروضی حالات میں ایسا کرنا مناسب دکھائی دیتا ہے جبکہ حکومت کی دو اتحادی جماعتوں کا منشاء بھی یہی ہے کہ فاٹا خیبر پختونخوا میں اس وقت ضم نہ ہو۔ ان مصلحتوں اور عندیہ کے تناظر میں اگر قرار دیا جائے کہ فاٹا اصلاحات کا عمل 2018 ء کے انتخابات سے قبل مکمل نہ ہوں گے اور فاٹا کے عوام صوبے سے انضمام پر خیبر پختونخوا اسمبلی کے لئے امیدوار کے چنائو کے لئے ووٹ نہیں ڈال سکیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی سیاسی وجوہات جو بھی ہوں ممکن ہے اس کی سیاسی وجوہات ہوں ہی نہیں۔ بہر حال فاٹا اصلاحات کو عملی شکل دینے میں عجلت کی بجائے تاخیر اور حالات کا مکمل جائزہ لے کر آگے بڑھنے کا عمل موزوں ہوگا۔ ہمارے تئیں اس دورانیئے میں فاٹا کے عوام کی رائے بھی معلوم کی جانی چاہئے کہ وہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے خواہاں ہیں اور اس میں مسائل کاحل چاہتے ہیں یا الگ صوبے اور کسی دیگر صورت کو اپنے لئے بہتر گردانتے ہیں۔ فی الوقت وزیر اعظم کے زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے مجوزہ اقدامات کے عملی شکل میں نفاذ کے وقت کا بھی علم نہیں ایسا لگتاہے کہ ان اقدامات کو عملی شکل دینے میں بھی کچھ وقت لگے گا۔ قبائلی علاقوں میں پولیس کے نظام کو رائج کرکے امن و امان اور حالات کو قابو میں رکھنے کا تجربہ بھی احتیاط کا متقاضی ہے۔ فاٹا میں ایف سی کی مزید نفری کی تعیناتی کی صورت میں پولیس کو کس حد تک با اختیار اور ذمہ دار بنایا جائے گا اس بارے بھی فی الوقت تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ جو بھی ہوں کردار و عمل کا واضح تعین ہو نا چاہئے اور نیا نظام آدھا تیتر اور آدھا بٹیر کا نمونہ نہ بن جائیں اور عوام پولیٹیکل نظام سے کسی اور ایسے نظام میں پھر سے گھن چکر کی صورت نہ پسنے لگیں۔ فاٹا میں فی الوقت متاثرین کی مکمل واپسی نہیں ہوسکی ہے۔ ابھی آخری مرحلے پر ڈانڈے درپہ خیل کے متاثرین کی واپسی کا عمل جاری ہے جبکہ جو خاندان افغانستان چلے گئے تھے اور جو بھٹکے ہوئے لوگ سرحد کے اس پار موجود ہیں اس مرحلے پر ان سب کے مسائل و معاملات کا جائزہ لینے اور فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے تئیں اولاً متاثرین کی واپسی کے مرحلے کی سو فیصد تکمیل کو ترجیح ملنی چاہئے اس کے لئے ضروری ہوگا کہ بھٹکے ہوئوں کو اس طرح سے واپس آنے کا موقع دیا جائے کہ وہ خاموشی سے واپس آکر اپنے اپنے علاقوں میں آزادانہ طور پر نہ سہی محدود گزر بسر تو شروع کرسکیں تاکہ جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ دور ہو اور ہمیں صبح کے بھولوں کی شام واپسی کے انتظار کی صورت سے نجات ملے۔ علاوہ ازیں ہمیں اس امر کا بھی اطمینان ہو کہ اس پارہمارا کوئی نہیں رہا۔ اس مرحلے پر حکومت کو اس امر پر بھی سنجیدگی سے اقدامات کی ضرورت ہے کہ جو سرحد کے اس پار ہیں ان کی بھی وطن واپسی کا حتمی بندوبست کیاجائے۔ ہمارے تئیں جب تک سرحد کے دونوں جانب محولہ قسم کے افراد ہوں گے اور وہ ایک ملک کے شہری و باشندے ہو کر دوسرے ملک میں سکونت پذیر رہیں گے قیام امن استحکام امن اور اعتماد سازی کی فضا پیدا نہیں ہوگی جو فاٹا کے انضمام و ادغام یا کسی دیگر حیثیت سے زیادہ ضروری ہے اور اس لئے بھی ضروری ہے کہ جب تک فاٹا کے معاشرے میں خلاء موجود ہے اور معاشرے کے تمام افراد اور طبقات اپنے اپنے مقامات کی طرف مراجعت نہیں کرتے اور دوسرے ملک کے مہاجرین واپس نہیں چلے جاتے ،سرحدی انتظامات اور آمد و رفت کو باقاعدہ نہیں بنایا جاتا، فاٹا میں اصلاحات کا نفاذ اور کامیاب تبدیلی لانا خواب ہی رہے گا اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ فاٹا میں اصلاحات کے عمل کی کامیابی کے لئے فاٹا کے عوام کو ایسا متبادل عملی نظام دے کر اس کی افادیت ثابت کرنے کی ضرورت ہوگی جسے وہ اولاً خود چنیں اور دوئم یہ کہ حکومتی اقدامات سے اسے کامیاب بنایا جاسکے۔

متعلقہ خبریں