حادثہ نہیں ، غفلت کا سنگین مظاہرہ 

حادثہ نہیں ، غفلت کا سنگین مظاہرہ 

ضلع چارسدہ کے قریب دریائے کابل پر سردریاب کے مقام پر پل گرنے کے حادثے میں قیمتی جانوں کا اتلاف اور گھائل ہونے کا واقعہ افسوسناک ہونے کے ساتھ ساتھ ارتکاب غفلت کا بھی ثبوت ہے۔واضح رہے کہ پشاور کو ضلع چارسدہ سے منسلک کرنے والا یہ پل 1939 میں قائم ہوا تھا اور اس کی حالت انتہائی مخدوش تھی۔لیکن اس کے باوجود کسی نے نہ تو اس کی خستہ حالی کے باعث گرا کر از سر نو تعمیر کرنے پر توجہ دی نہ ہی اس کی مرمت کی زحمت کی گئی اور نہ ہی اسے بھاری ٹریفک کے لئے بند کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس طرح کی صورتحال میں پندرہ سو بوریوں سے لدے دس پہیوں والے ٹرک کے حادثے کو حادثہ قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ اسے حادثہ کرانا قرار دینا زیادہ مناسب ہوگا۔ ٹرک ڈرائیور لا علمی یا غفلت کے باعث اس حادثے کا ذمہ دار ضرور گردانا جائے گا لیکن خستہ و شکستہ پل کو بھاری ٹریفک کے لئے بند نہ کرنے والے بھی بری الذمہ نہیں جس میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس سبھی کے شامل ہونے کے علاوہ وہ منتخب نمائندے بھی پوری طرح ذمہ دار ہیں جن کو اس پل کی صورتحال کا علم تھا۔ حال ہی میں شانگلہ میں بھی اس طرح کا حادثہ ہوا تھا۔ علاوہ ازیں کہیں چیئر لفٹ کا حادثہ ہوتا ہے تو کہیں سنگین غفلت کے دیگر مظاہر کے باعث لوگوں کی جان چلی جاتی ہے مگر متعلقہ محکموں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ بار بار کے حادثات کی ایک وجہ ہونے کے باوجود اس طرف عدم توجہ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکومت کو عوام کے جان و مال کے تحفظ میں شاید دلچسپی نہیں رہی وگرنہ کیا وجہ ہے کہ پر خطر مقامات پر حادثے کے امکانات میں کمی کی سنجیدہ سعی نہیں کی جاتی۔ پلوں' جھولوں اور عمارتوں کی شکستگی و بوسیدگی کا جائزہ نہیں لیا جاتا اور ان کی مرمت اور عوام کے لئے بند کرنے کی قطعی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔

متعلقہ خبریں