پولیس کا قابل تحسین اقدام

پولیس کا قابل تحسین اقدام


حیات آباد فیز تھری میں پولیس کی عوامی شکایات پر تین عورتوں سمیت بارہ مردوں کی فحاشی کے الزام میں گاڑیوں سمیت گرفتاری جیسی کامیاب کارروائیوں سے ہی حیات آباد کو فحاشی کے مراکز سے پاک کیا جاسکتا ہے۔ حیات آباد میں پولیس فحاشی کے مراکز اور اس کے انتظام کاروں کے خلاف ان دنوں جس فعالیت کا مظاہرہ کر رہی ہے اس کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔ حیات آباد میں اس سنگین مسئلے سے لوگوں کا وہاں رہنا دشوار ہونا کوئی راز کی بات نہیں۔ اس ضمن میں صرف پولیس کو ذمہ دار قرار دینا بھی قرین انصاف نہیں کیونکہ حیات آباد کے شہری ظلم تو سہتے ہیں بغاوت نہیں کرتے کے مصداق اس طرح کے مراکز کی پولیس کے پاس شکایت نہیں کرتے جبکہ پولیس کی ان مراکز کے خلاف کارروائی کی راہ میں رکاوٹیں بھی کم نہیں لیکن بہر حال اگر پولیس حکام یہ فیصلہ کریں کہ ان مراکز کا ہر قیمت پر صفایا کرنا ہے تو ایسا کرنا نا ممکن نہیں۔ علمائے حیات آباد کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھی اس جہاد میں اپنا کردار ادا کرنے میں تساہل کامظاہرہ نہ کریں اور نہ کسی مصلحت کا شکار ہوں۔ اگر علماء اور عوام مل جل کر برائی کے مراکز کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور پولیس اپنے حصے کاکردار اسی طرح ادا کرے تو حیات آباد کو ان مراکز سے پاک کیاجاسکتا ہے۔ پولیس کو ان مراکز کے خلاف مہم صرف ایک سرکاری فریضے کے طور پر ہی نہیں چلانی چاہئے بلکہ یہ اس کا دینی اور اخلاقی فریضہ ہے کہ اس جہاں کہیں بھی منکرات کی اطلاع ملے ان کے خلاف فوری' بروقت اور موثر کارروائی کرے۔

متعلقہ خبریں