فاٹا اصلاحات کیلئے نیا انتظام

فاٹا اصلاحات کیلئے نیا انتظام

فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے سے متعلق سینیٹر سرتاج عزیز نے بڑی تگ و دو کے بعد فاٹا اصلاحات کی تجاویز تیار کی تھیں۔ گزشتہ 2مارچ کو وفاقی کابینہ نے سرتاج عزیز کمیٹی کی فاٹا اصلاحات کی منظوری بھی دے دی تھی۔ یہ طے پایا تھا کہ ان اصلاحات کو قانونی شکل دینے کے لیے بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جو شاید بعض ٹیکنیکل وجوہ کے باعث پیش نہ ہو سکا۔ سرتاج عزیز سفارشات کی منظوری یونہی نہیں ہو گئی تھی۔ اس کے پیچھے فاٹا کے عوام کی طویل جدوجہد تھی جس کی بنا پر سینیٹر سرتاج عزیز کو اصلاحات تجویز کرنے پر مامور کیا گیا تھا۔فاٹا کے ارکان اسمبلی نے اسلام آباد کے کنونشن ہال میں انضمام کے حق میں ایک احتجاجی جلسہ بھی منعقد کیا تھا اور یہ دھمکی دی گئی تھی کہ اگر ان کا مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو وہ اسلام آباد میں ہزاروں قبائلیوں کے دھرنے کی کال دیں گے۔ لیکن جب سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کابینہ میں منظور ہو گئیں اور یہ نظر آنے لگا کہ اب یہ بل قومی اسمبلی میں پیش ہو جائے گا تو احتجاج کی صورت حال ٹل گئی لیکن فاٹا کے عوام کا خیبر پختونخوا میں انضمام کے ذریعے دیگر علاقوں کے پاکستانی شہریوں ایسے حق کا مطالبہ پورا نہیں ہوا وہاں آج بھی لوگ اس مطالبہ کے پورا ہونے کے بے چینی سے منتظر ہیں۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیاہے کہ فاٹا کے عوام کو پاکستان کے قومی دھارے میں لانے کے لیے تیز رفتار انتظامی اور قانون سازی سے متعلق اقدامات کیے جائیں گے۔ اخبارات میں وزیر اعظم کی ہدایت کے بارے میں جو خبر شائع ہوئی ہے اس سے معلوم نہیں ہوتا کہ اب فاٹا اصلاحات کا بل قومی اسمبلی میں کب پیش کیا جائے گا یا پیش کیا بھی جائے یا نہیں۔ ''قانون سازی سے متعلق تیز تر اقدامات'' سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کابینہ سے منظور شدہ فاٹا اصلاحات کو مکمل حالت میں قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی بجائے اس سے کچھ حصوں کے بارے میں قانون سازی کی جائے گی اور کچھ حصوں کے بارے میں موخر کر دی جائے گی۔ اگر ایسا ہے تو یہ کیوں ضروری سمجھا گیا ہے جب کہ اخبارات میں شائع ہونے والی خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فاٹا اصلاحات کے بارے میں پارلیمنٹ اور فاٹا سے مثبت ردِ عمل سامنے آیا ہے۔ تو اس مثبت ردِ عمل کا تقاضا ہونا چاہیے کہ فاٹا اصلاحات کے مسودے کو جس کی منظوری وفاقی کابینہ دے چکی ہے من و عن قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائے ۔ چونکہ ایک جمعیت العلمائے اسلام اور محمود خان اچکزئی کی خیبر پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی مختصر نمائندگی والی پارٹی کے سوا ساری سیاسی جماعتیں فاٹا اصلاحات پر متفق ہیں جنہیں فاٹا کے رائے عامہ کے قائدین کی بھی حمایت حاصل ہے۔ قانون سازی سے متعلق تیز تر اقدامات کا مطلب یہی ہونا چاہیے۔
جہاں تک انتظامی اقدامات کی بات ہے کمیٹی نے منظوری دے دی ہے کہ فاٹا میں تعینات کرنے کے لیے پولیس کی بھرتی کی جائے اور ایف سی کی چند یونٹوں کو بھی پولیس کے فرائض انجام دینے کی تربیت دینے کے بعدفاٹا میں تعینات کر دیا جائے گا۔ لگتا ہے کہ یہ ایک بالکل نئی پولیس فورس ہو گی جسے نگرانی اور عدالتوں میں مقدمات پیش کرنے کی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی جن کا اس پولیس فورس کوئی تجربہ نہ ہوگا۔ کل کو اگر فاٹا خیبر پختونخوا میں ضم ہونا ہے تو اس پولیس فورس کا خیبر پختونخوا پولیس فورس سے تال میل ہونا بہت ضروری سمجھا جانا چاہیے جس کو پولیس کے فرائض کا طویل تجربہ بھی ہے۔ لیکن اصلاحات کمیٹی کے اجلاس کے بارے میں جو خبر شائع ہوئی ہے اس میں اس حوالے سے کوئی بات نہیں ہے۔ یہ کون طے کرے گا کہ کس ایجنسی میں سے کتنے پولیس اہل کار لیے جائیں گے ، ان کا معیار انتخاب کیا ہو گا اور انہیں تربیت کون فراہم کرے گا؟
ایک بڑی خبر یہ ہے کہ ان انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے ایک چیف آپریٹنگ افسر تعینات کیا جائے گا ۔ فاٹا وفاق کے زیر انتظام علاقہ ہے ۔ گورنر خیبرپختونخوا اس کے چیف ایگزیکٹو ہیں ۔ گورنر ہاؤس میں ایک بھاری بھر کم فاٹا سیکرٹریٹ کام کر رہا ہے۔ یہ سوال تشنہ جواب ہے کہ یہ چیف آپریٹنگ افسر کس سطح کا افسر ہو گا ' اس کے اہداف کیا ہوں گے۔ اس کے فرائض کیا ہوں گے اور ان کی بجاآوری کے لیے اس کے اختیارات کیا ہوں گے۔ کہا گیا ہے کہ یہ عارضی انتظام ہو گا۔ لیکن یہ وضاحت نہیں ہے کہ وہ حتمی انتظام کیا ہو گا جس کے لیے یہ عارضی انتظام کیا گیا ہے۔ یہ عارضی انتظام حالات کو کس سطح سے کس سطح تک لے جانے کے لیے کیا گیا ہے؟
فاٹا کے عوام چاہتے ہیںکہ انہیں پاکستان کے دوسرے علاقوں کے شہریوں کے برابر حقوق اور شناخت حاصل ہو۔ انہیں امتیازی قوانین سے نجات مل جائے۔ اجتماعی ذمہ داری کے قوانین سے نجات مل جائے ۔ پولیٹیکل ایجنٹوں کی مطلق العنان بادشاہت سے نجات مل جائے۔ انہیں پاکستان کے آئین کے مطابق شہری حقوق اور انصاف مل جائے۔ وہ یہ جاننے کے لیے بے چین ہیں کہ یہ سب کچھ انہیں کب مل جائے گا۔ سرتاج عزیز کی فاٹا اصلاحات میں اس کے لیے کچھ مراحل کا ذکر کیاگیا تھا۔ کیا اب جو تیز تر اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے ا ن مراحل کو تیزی سے عبور کرنے پر منتج ہو گا۔ اگر ہو گا تو کب تک یہ ممکن ہو جائے گا؟ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کو پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے۔ اب جو عارضی انتظام کے تحت تیز تر اقدامات کی شروعات کی گئی ہیں ان کے نتیجے میں یہ تاخیر کم سے کم ہونی چاہیے۔ تاکہ فاٹا کے عوام سرحد پار کے لوگوں کی نسبت مختلف معاشری انتظام ' مختلف قانونی نظام یعنی پاکستان کے معاشرے اور قانونی نظام میں زندگی گزارتے ہوئے نظر آئیں اور اس پر فخر کر سکیں۔

متعلقہ خبریں