سوچی کا نوبل انعام اور روہنگیا کے مسلمان

سوچی کا نوبل انعام اور روہنگیا کے مسلمان

روہنگیائی مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کروانے والوں میں میانمار کی بڑی شخصیت جسے دنیا بھر میں جمہوریت کے لیے کوششوں کی وجہ سے جانا جاتاہے اور کچھ عرصہ قبل اس کے اعتراف میں اسے امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا۔آنگ سا ن سوچی کو امن کا نوبل انعام پر بات کرنے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے امن کا نوبل انعام آخر کب اور کیسے شروع ہوا؟امن کے نوبل انعام کا بانی الفریڈ نوبل تھا۔ الفریڈ سویڈن میں پیدا ہوا لیکن اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ روس میں گزارا۔ دنیا میں تباہی لانے والی سب سے خطرناک ترین ایجاد بارود ( ڈائنامائٹ) الفریڈ نوبل ہی نے ایجاد کیا۔ اپنی زمینوں اور ڈائنامائٹ سے کمائی گئی دولت کے باعث 1896 اپنے انتقال کے وقت نوبل کے اکاؤنٹ میں 90 لاکھ ڈالر کی رقم تھی۔ الفریڈ نوبل نے موت سے قبل اپنی وصیت میں لکھ دیا تھا کہ اس کی یہ دولت ہر سال ایسے افراد یا اداروں کو انعام کے طور پر دی جائے جنہوں نے گزشتہ سال کے دوران میںطبعیات، کیمیا، طب، ادب اور امن کے میدانوں میں کوئی کارنامہ انجام دیا ہو۔پس اس وصیت کے تحت فوراً ایک فنڈ قائم کر دیا گیا جس سے حاصل ہونے والا منافع نوبل انعام کے حق داروں میں تقسیم کیا جانے لگا۔امن کا نوبل انعام ہر سال مختلف شخصیات کو دیا جاتاہے۔ امریکی صدور جنہوں نے لاکھوں انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگے ہیں ، یہ ان کو بھی مل چکاہے۔ یہ ان کو بھی مل چکاہے جو اپنے ممالک کا سودا کرکے ساری عمر کے لیے غدار کہلائے ، یہ ان کو بھی مل چکا ہے جنہوں نے انسانیت کو شرمندہ کیا۔ آن سانگ سوچی کی طرح لاشوں کے ڈھیروں پر سیاست کرنے والی خاتون کو اگر نوبل کا انعام مل گیا تو اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں۔الفریڈ نے دنیا کو تباہی کا سامان دیا اور پھر اسی تباہی کے سامان کے پیدا کرنے پر اسے خیال آیا کہ دنیا میں امن پیدا ہو جائے گا۔میری نظر میں آن سانگ سوچی سے امن کا نوبل انعام لے بھی لیا جائے تو ہزاروں روہنگیائی مسلمانوں کے خون سے ہاتھ دھونے والی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔کیونکہ اس انعام کی واپسی سے ان ہزاروں سسکتے روہنگیائی مسلمانوں کے پیارے جن کو میانمار آرمی نے حکم کے تحت تہہ تیغ کیا تھا واپس نہیں آئیں گے۔ انعام واپسی کا مطالبہ کرنے کی بجائے ان کو ان کا آبائی وطن واپس کرنے کی مہم چلائی جانی ضروری ہے۔ بدھ مت کے بانی مہاتما بدھ کا قول ہے:''ہزارہا کھوکھلے الفاظ سے بہتر وہ ایک لفظ ہے جو امن لے آئے۔''صد افسوس کہ برما کے انتہا پسند بدھی باشندوں نے مسلمانوں پہ ظلم و ستم ڈھا کر امن و محبت کی تلقین کرنے والے اپنے گرو کو دنیا بھر میں رسوا کرڈالا۔1947 ء میں اراکان کی 50 فیصد آبادی روہنگیا مسلمانوں پہ مشتمل تھی۔جبکہ بقیہ باشندے مختلف بدھی نسلی گروہوںخصوصاً راخینی سے تعلق رکھتے تھے۔تب مسلمانوں نے یہ تحریک چلائی کہ شمالی اراکان کا علاقہ مشرقی پاکستان میں شامل ہو جائے۔اس ضمن میں قائد اعظم محمد علی جناح سے بھی رابطہ کیا گیا۔تاہم برطانوی اور برمی لیڈروں کی سازباز نے تحریک آزادی کامیاب نہ ہونے دی۔ جب برمی فوج نے بزورطاقت تحریک کو ختم کرنا چاہا ،تو روہنگیا مسلمانوں سے تصادم ہو گیا۔یوں برمی حکمران طبقے (فوج،سیاستدانوں،افسرشاہی اور راہبوں)اور مسلمانوں کے مابین طویل لڑائی کا آغاز ہوا جو اب تک جاری ہے ۔برمی حکومت نے وقفے وقفے سے اسلام پسندوں پہ عسکری حملے کیے۔ان کی وجہ سے سینکڑوں مسلمانوں نے جام ِشہادت نوش کیا۔ دس لاکھ سے زائدبنگلہ دیش،پاکستان،ملائشیا اور سعود ی عرب ہجرت کر گئے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ پچھلے ایک عشرے سے بدھی راہب مسلمانوں کے خلاف سرگرم ہیں۔وجہ یہ کہ برمی بدھیوں کا اعتقاد ہے،مہاتما بدھ کی موت کے پانچ ہزار سال بعد بدھ مت ختم ہو جائے گا۔چونکہ 1956ء میں بدھا کو دنیا سے رخصت ہوئے ڈھائی ہزار سال بیت چکے،سو ان کے نزدیک زوال شروع ہو چکا۔راہب اب اسی زوال سے بچنے کی خاطر برما سے مسلمانوں (اور عیسائیوں کو بھی)نابود کرنا چاہتے ہیں۔ایسے انتہا پسند راہبوں کا لیڈر اشین وراتھو ہے جس نے ایک دہشت گرد تنظیم''669 موومنٹ ''بنا رکھی ہے۔تنظیم کے ارکان مسلمانوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں کرتے ہیں۔ مسلم دشمنی کا معاشی پہلو یہ ہے کہ اراکان میں آباد راخینی بدھی سمجھتے ہیں کہ روہنگیا مقامی وسائل پہ قبضہ کر کے انہیں غربت سے دوچار کیے ہوئے ہیں۔سو ان کی خواہش ہے کہ سبھی روہنگیا بنگلہ دیش چلے جائیں۔پچھلے دنوں تیس برس بعد برما میں مردم شماری ہوئی۔اس موقع پر اراکانی بدھیوں نے دھمکی دی کہ اگر مسلمانوں نے فارم پہ ''روہنگیا ''لکھا ،تو وہ مردم شماری کا بائیکاٹ کر دیں گے۔چنانچہ برمی حکومت نے اعلان کر دیا کہ مسلمان فارم پہ ''بنگالی''لکھیں۔یہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نئی چال ہے۔کیونکہ انہوں نے خود کو بنگالی قرار دیا،تو مخالفین کی یہ بات درست سمجھی جائے گی کہ وہ برما کے شہری نہیں۔ بدھی غنڈے وقتاً فوقتاً مسلمانوں پہ حملے کرتے رہتے ہیں تاکہ ان کی نسل کشی جاری رہے۔برمی حکومت نے دنیا والوں کو مطمئن کرنے کی خاطر مسلم بستیوں پہ فوجی تعینات کر رکھے ہیں مگر بوجوہ اس حفاظت کا کوئی فائدہ نہیں۔اور یہ دیکھ کر رونا آتا ہے کہ حسینہ واجد کی بنگلہ دیشی حکومت ان ستم رسیدہ اسلام پسندوںکی کوئی پروا نہیں کرتی۔اس نے بہاری مسلمانوں کی مانند روہنگیائوں کو بھی حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ رکھا ہے۔دور جدید میں مسلم حکمرانوں کی بے حسی و خودغرضی اور اقتدار و آسائشات سے الفت بھی امت کے زوال کی بڑی وجہ ہے۔

متعلقہ خبریں