ایک نئے حکومتی تجربے کی تجویز

ایک نئے حکومتی تجربے کی تجویز

وطن عزیز پر دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک آمریت مسلط رہی۔ صدارتی نظام کا تجربہ بھی آزمایا گیا اور پھر جمہوریت بھی آگئی۔ ان میں سے مگر کوئی نظام بھی ملک کے بنیادی مسائل حل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ صحت' تعلیم اور توانائی جیسے اہم شعبوں میں کوئی بہتری نظر نہ آئی۔ سیاسی حکومت کے 5سال کے لئے اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی خود کو بچانے کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ اپوزیشن انتخابات میں دھاندلی کا نعرہ لے کر میدان میں اتر آتی ہے اور بر سر اقتدار جماعت اپنی صفائیاں پیش کرنے لگتی ہے۔ مسائل جوں کے توں موجود رہتے ہیں۔ ایک بار پھر انتخابات کا ہنگامہ شروع ہوجاتا ہے اور پھر ایک نئی کہانی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ دوسرے شعبوں پر بھی بات ہوگی۔
آج ہم صرف بجلی کی رام کہانی ایک بار پھر سنانا چاہتے ہیں۔ عید سے پہلے توانائی کے نائب وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ عیدالاضحی کے موقع پر تین روز تک لوڈشیڈنگ نہ ہوگی۔ مگر حسب معمول یہ شوشہ ہی ثابت ہوا۔ پنجاب کا ہم نہیں کہہ سکتے یہاں ہمارے صوبے میں عید کے دوران قوم کو مسلسل لوڈشیڈنگ کا سامنا رہا۔ یہاں تک کہ عین عید کے روز تنگی کے عوام نے تنگ آکر گرڈ سٹیشن پر دھاوا بول دیا۔ اس بیان کے ساتھ انہوں نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ہم اکتوبر یا نومبر میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کریں گے کیونکہ ہمارے پاس اب طلب سے زیادہ بجلی موجود ہے۔ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے بعد اپوزیشن اپنا چورن بیچنے کے قابل نہیں رہے گی۔ یہی اعلان وزیر اعظم نے کل میانوالی کے قریب چشمہ ایٹمی بجلی گھر کے افتتاح کے موقع پر بھی کیا۔ یہی بات سابقہ وزیر اعظم نے کچھ ماہ پہلے حویلی بہادر شاہ کے پہلے یونٹ کے کام شروع کرنے پر بھی کہی تھی۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے جب پیپلز پارٹی کے راجہ اشرف بجلی اور پانی کے وفاقی وزیر بنے تو انہوں نے بھی چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا وعدہ کیا۔ چھ ماہ گزرنے کے بعد جب کسی نے یاد دلایا تو موصوف کا جواب تھا۔ میری وزارت نے مجھے غلط اعداد و شمار فراہم کرکے گمراہ کیا تھا۔
بعض اوقات تو ہمیں عابد شیر علی کے بیانات پر سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے۔ سوچتے ہیں وفاقی کابینہ میں اگر وہ پانی اور بجلی کے نائب وزیر ہوتے تو لوڈشیڈنگ کے زمانے میں اپوزیشن کی نا لائقیوں پر روشنی کون ڈالتا۔ اگر آپ کو یاد ہو تو شہباز شریف بھی گزشتہ انتخابی مہم کے دوران بار بار یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ہم نے اگر چھ ماہ کے اندر لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہ کیا تو میرا نام بدل دینا۔ اقتدار میں آئے تو وہ اپنے اس وعدے کو نہ نبھا سکے البتہ انہوں نے اپنا نام بدل کر خادم اعلیٰ رکھ لیا۔ سرکاری اشتہاروں میں اب ان کا یہی نام چھپتا ہے۔ ظاہر ہے اس پر حکومت کو اپوزیشن کے طعنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نوجوان عابد شیر علی سے یہ طعنے برداشت نہیں ہوتے کبھی کبھی تو ان کے صبر کا پیمانہ اتنا لبریز ہو جاتا ہے کہ وہ سچ اور جھوٹ دونوں کو روندتے ہوئے خم ٹھونک کر اپوزیشن کو للکارتے ہیں۔ لوڈشیڈنگ تو کب کی ختم ہوچکی۔ رہی سہی اکتوبر تک ختم ہو جائے گی۔
اور پھر تمہارے پاس بیچنے کے لئے کوئی چورن نہ ہوگا۔ دو سال پہلے تو انہوں نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ حکومت 5ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں داخل کرچکی ہے البتہ انہوں نے وضاحت نہیں کی تھی کہ یہ ڈھیر ساری بجلی جاتی کہاں ہے؟ اگر وہ اس کا پتہ بتا دیتے تو ہوسکتا ہے گرمی' تاریکی اور حبس کی ماری قوم ٹھوکریں اور دھکے کھاتی ہوئی اس جگہ پہنچ جاتی جہاں وہ 5ہزار میگا واٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ جب کوئی حکومت ہسپتالوں کو مسلسل بجلی فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ بجلی اور پانی کے وزیر کو اپنے منصب پر براجمان رہنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ جی ہاں! عید سے چند روز پہلے ہمارے ایک دوست کی والدہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں وینٹی لیشن پر پڑی تھیں۔لوڈشیڈنگ کی وجہ سے سرجیکل آئی سی یو کے آلات بند ہوگئے اور ہمارے دوست کی والدہ دم توڑ گئیں۔ یہ تو ہم نے صرف ایک مثال پیش کی ہے نہ جانے ملک کے دیگر ہسپتالوں میں کتنے مریض لوڈشیڈنگ کی بھینٹ چڑھتے رہے ہوں گے۔
جیسے کہ ہم نے عرض کیا بجلی کی پیداوار میں 5000 میگا واٹ بجلی کے اضافے کی خوشخبری عابد شیر علی نے دو سال پہلے قوم کو دی تھی مگر ہماری قوم بھی کیا نا شکری ہے مہنگائی میں تھوڑا سا اضافہ ہو تو رونے لگتی ہے۔ اغواء برائے تاوان کا شکار ہونے پر بین کرنے بیٹھ جاتی ہے۔ جعلی دوا کھانے سے کوئی مر جائے تو سارا خاندان دہائیاں دینے لگتا ہے۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ مرنے والے نے جعلی دوا کھائی ہی کیوں؟ دو دہائیوں سے زیادہ ملک پر آمر حکمران رہے۔ صدارتی نظام جاری ہوا۔ جمہوریت بھی آزمائی گئی مگر صحت' تعلیم اور بجلی کے شعبوں میں کوئی بہتری نظر نہ آئی۔ چنانچہ اب ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ جب تک وطن عزیز میں پورے پندرہ سے 20سال تک کے عرصے کے لئے دیانتدار اور اپنے اپنے شعبوں میں مہارت رکھنے والے ٹیکنو کریٹس کی حکومت قائم نہ کردی جائے' صحت' تعلیم اور بجلی جیسے شعبوں میں کوئی بہتری نہیں آسکتی۔ ہم تو تجربوں کے عادی ہیں اس لئے ایک نیا تجربہ کرنے میں کیا حرج ہے۔

متعلقہ خبریں