فوجی عدالتوں کا متبادل کیوں نہیں ؟

فوجی عدالتوں کا متبادل کیوں نہیں ؟

ملک کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کی فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر اتفاق کے بعد معاملے کوایک مرتبہ پھر پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور اس ضمن میں ممکنہ آئینی ترمیم کی جائے گی ۔ اس ضمن میں حکومت کی جانب سے سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل کرنے کا رجحان خوش آئند ہے ۔ فوجی عدالتوں میں توسیع کی مدت تمام سیاسی جماعتوں کی رضا مندی کے بعد طے کی جائے گی، جبکہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے لیے آئینی ترمیم کے حوالے سے وفاقی حکومت مشاورت کر رہی ہے۔اس بارے دوآراء ممکن نہیں کہ فوجی عدالتوں نے ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ ان سے آپریشن ضرب عضب کے تحت کارروائیوں کو معنی خیز بنانے میں بھی مدد ملی۔واضح رہے کہ ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام کی دو سالہ مدت 2 روز قبل ختم ہوگئی تھی جس کے بعد ان عدالتوں نے کام بند کردیا تھا۔بیان میں کہا گیا کہ فوجی عدالتیں اس وقت آئینی ترمیم کے ذریعے قائم کی گئی تھیں جب ملک میں دہشت گردی عروج پر تھی۔ملک میں خصوصی حالات میںملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے باقاعدہ مشاورت اور اتفاق رائے سے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لا یا تھا گو کہ اس ضمن میں بعض حلقوں کی جانب سے تحفظات کا بھی اظہار کیا گیا مگر اس کے با وجود پارلیمنٹ میں آبدید ہ تقریر کر کے پا رٹی کے فیصلے پر اپنی رائے کو ترجیح دی گئی گویا ایک آدھ کے استشنٰی کے ساتھ فوجی عدالتوں کا متفقہ قیام عمل میں لایا گیا۔ ہمارے ملک میں المیہ ہی یہ ہے کہ ضرورت و اہمیت کا من حیث المجمو ع ادراک کا اظہار ہوتا ہے اجتما عی فیصلے بھی کئے جاتے ہیں اس کے بعد اس فیصلے کے حوالے سے ایک منفی مہم بھی شروع ہو جاتی ہے حالانکہ پارلیمنٹ میں اتفاق رائے ہونے والا کوئی بھی فیصلہ قومی فیصلہ ہوتا ہے جس کے حوالے سے تحفظات کے اظہار کی گنجائش نہیں ہونی چاہیئے خاص طور پر ایسے عناصر کیلئے جو از خود کسی عمل کے حق میں ووٹ دے چکے ہوں جہاں تک دیگر عناصر کا تعلق ہے ان کی جانب سے اپنی رائے کا اظہار معنی رکھتا ہے کیو نکہ وہ کسی فیصلے کی عملی تائید کرنے والوں میں نہیں۔ آزادی رائے پر تنقید مقصود نہیں البتہ سود وزیاں کا حساب لگانے پر اگر نفع کے مقابلے میں نقصان واضح ہوتو اپنی رائے میں نرمی لانے اور مصلحت کی ر دا اوڑھنے میں تامل نہیں ہونا چاہیئے ۔ فوجی عدالتوں کی مدت کے خاتمے کے بعد ایک مرتبہ پھر فوجی عدالتوں کے قیام کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی اس کی سادہ وجہ یہی سمجھ میں آگئی ہے کہ فوجی عدالتوں سے دہشت گردوں کو تیزی سے سزائیں ملنی شروع ہوئیں اور ان پر عملد ر آمد کا آغاز ہو ا تو دہشت گردی کے واقعات میں بھی نمایا ں کمی آتی گئی۔ ان کی توسیع کی ضرورت شاید اس لئے بھی ضروری ہے کہ ابھی مزید دہشت گردوں پر مقدمات قائم کرنے ہیں کچھ دہشت گرد تفتیش اور استفسار کے مر حلے پر ہیں۔ بعض کا سراغ لگا کر ان کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ بہت سے دہشت گرد ایسے بھی ہوں گے جن کے حوالے سے شاید ابتدائی معلومات بھی موجود نہ ہوں مگر توقع ہے کہ مزید دہشت گردوں کی گرفتاری اور فیلڈ رپورٹس کی بنیاد پر ان کی گرفتاری آئندہ ممکن ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر فوجی عدالتوں کی ضرورت کب تک رہے گی ؟ ہمارے تئیں اس وقت تک جب تک دہشت گردی میں ملوث عناصر کو کیفر کر دار تک نہیں پہنچا یا جاتا یا پھر پارلیمنٹ ایسے قوانین وضع کرے۔ قانون شہادت میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں ایسا عدالتی طریقہ کار وضع کیا جائے اور ایسی طرز تفتیش اختیار کی جائے جو فوجی عدالتوں کے متبادل ہو اور آئینی طور پر دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے مئو ثر قوانین ثابت ہوسکتے ہوں ۔ اس طرح کی عدالتوں کا قیام اگر نا خوشگوار یت کا کوئی پہلو بھی رکھتے ہوں تب بھی ان کی افادیت و اہمیت اور حالات کی نزاکت کو مد نظر رکھ کر ان کی مخالفت شدت سے نہیں ہونی چاہیے ۔ہمارے تئیں فوجی عدالتوں کا متبادل نظام جس قدر جلد متعارف کرایا جائے اتنا ہی بہتر ہوگا ۔حکومت اور سیاسی جماعتوں اور ارکان پارلیمنٹ کو اس معاملے کو ترجیحی طور پر نمٹا نے پر توجہ دینی چاہیئے ۔ فوجی عدالتوں کا دوبارہ قیام طویل مدت کی بجائے مختصر مدت سے کیا جائے اور اس دوران حکومت خصوصی قوانین کا مسودہ تیا ر کر کے بل پارلیمنٹ سے منظور کر کے جلد سے جلد نفاذ پر توجہ دے ۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادت کے لئے یہ کسی امتحان سے کم نہیں کہ وہ کتنی جلدی اور سرعت کے ساتھ صورتحال کی نزاکت کے مطابق قانون سازی کرتے ہیں ۔ ہماری تجویز ہوگی کہ قانون سازی میں اس امر کا خاص طور پر خیال رکھا جائے کہ ان قوانین کے تحت ایک خاص مدت کے اندر عدالت فیصلہ سنانے کی پابند ہو۔ ان عدالتوں میں مقدمات کی تعداد اتنی رکھی جائے جتنا ایک جج با آسانی ان مقدمات کو نمٹا سکتا ہو۔ ان عدالتوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے تاکہ مقدمات کے فیصلے میں تاخیرکا سبب نہ بنے ۔ججوں اور وکلاء کی شناخت خفیہ رکھنے اور اُن کے تحفظ کے خصوصی اقدامات اور قانونی گنجائش رکھی جائے تاکہ کوئی خلاء اور کسر باقی نہ رہے ۔

متعلقہ خبریں