سیاحت کے فروغ کے تقاضے

سیاحت کے فروغ کے تقاضے

خیبر پختونخوا میں سیر و سیاحت کے فرغ میں نجی شعبے کو شامل کرنے' سیاحتی مقامات کی ترقی اور سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی کے لئے آزاد اور با اختیار بورڈ بنانے کی تجاویز اور تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی صوبے میں سیاحت کے فروغ میں خصوصی دلچسپی سے اس توقع کا اظہار غلط نہ ہوگا کہ سال رواں صوبے میں سیاحت کی بھرپور ترقی کا سال ہوگا۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے باعث سیاحت کا شعبہ دیگر شعبوں سے زیادہ متاثر ہونے والا شعبہ ہے۔ گزشتہ دہائی سے صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت سوات کی حسین وادی میں کم ہی غیر ملکی سیاح دیکھے گئے اب تو پھر بھی صورتحال بہتر ہونے لگی ایک وقت میں غیر ملکی سیاح تو در کنار ملکی سیاح بھی پشاور اور سوات کا نام لینے سے گھبراتے تھے۔ تخت بھائی اور ہنڈ کے تاریخی مقامات کی سیر اور تحقیق کا عمل خواب بن چکا تھا مگر اب حالات میں تبدیلی کے ساتھ یہ امید ہو چلی ہے کہ صوبے میں سیاحت کے تباہ شدہ شعبے کا ایک مرتبہ پھر احیاء ہو جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب بھی صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لئے سیاحوں کو تحفظ کا اطمینان دلانا بنیادی مسئلہ ہے ۔ جب تک اس امر کا اطمینان نہ ہو سیاحوں کو متوجہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس مقصد کے لئے ضروری ہوگا کہ صوبے میں سیاحوں کے قافلوں اور ٹولیوں کو مراکز سیاحت اور ہوٹلوں میں خصوصی تحفظ دیاجائے۔ تاریخی مقامات کی سیر کرنے والوں کو دورے کے موقع پر معلومات کی فراہمی اور رہنمائی کے ساتھ ساتھ ان کی حفاظت کا بھی بندوبست ہونا چاہئے تاکہ طلباء محققین اور عام سیاح بلا خوف و خطر ان مقامات کا دورہ کرسکیں۔ صوبے میں سیاحوں کی آمد و رفت میں آسانی کے لئے خصوصی ٹرانسپورٹ اور گائیڈز کا بندوبست ہونا چاہئے۔ اس ضمن میں موجود سہولیات میں بہتری لائی جائے۔ صوبے میں لواری ٹاپ' کمراٹ اور اس جیسے دیگر دور دراز اور دشوار گزار مقامات کی سیاحت پر ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو خاص طور پر راغب کیا جائے ۔ چترال میں نسبتاً پر امن ماحول سیاحوں کے لئے خاص طور پر کشش کا باعث ہے مگر آمد و رفت کی سہولتوں اور بود و باش کے مسائل کے باعث سیاح آنے سے کتراتے ہیں۔ شندور پولو ٹورنامنٹ کے موقع پر شندور میں انتظامات کی بہتری کے لئے اگر نجی و سرکاری شعبہ مل کر کام کرے تو یہ دنیا بھر کے سیاحوں کے لئے مزید پرکشش ہوگا۔ سوات و کالام ' ایبٹ آباد' ٹھنڈیانی اور ایوبیہ ' کاغان' ناران اور ان جیسے دیگر مقامات کی تشہیر کے ذریعے سیاحوں کو متوجہ کرنے کی باقاعدہ مہم چلائی جائے تاکہ صوبے میں سیاحت کو ترقی ملے۔ اس امر کی بھی منصوبہ بندی ہونی چاہئے کہ لواری ٹنل اور سوات ایکسپریس وے کی تعمیر کے بعد مزید علاقوں کو سیاحوںکے لئے کھولا جاسکے اور نئے مقامات کا اضافہ کیا جاسکے۔
سیاستدانوں بارے منفی خیالات بلا وجہ نہیں
پانامہ کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں آرٹیکل 62 اور 63 کے نفاذ پر پوری پارلیمنٹ کے گھر جانے اور اس خدشے کا اظہار کہ کیس کہیں سب کو نہ لے ڈوبے۔ معزز جسٹس صاحبان کی طرف سے عوام کے جذبات و احساسات کی ترجمانی ہے۔ اگر ججوں کے ریمارکس عدالتی فیصلوں کا حصہ ہوتے تو ان ریمارکس کے بعد واقعی کچھ نہ بچتا تھا۔یہ امر قابل توجہ ہے کہ آخر ایک عام آدمی سے لے کر عدلیہ کے معزز ارکان کی سوچ سیاستدانوں اور حکمرانوں کے حوالے سے یکساں کیوں ہے۔ سیاستدانوں اور حکمرانوں کو آخر بد عنوان اور اہلیت کے قوانین کی زد میں کیوں سمجھا جا رہا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس اجماع کی وجہ وہ مشاہدات و تجربات اور سیاستدانوں کے کرتوتوں کے وہ مظاہر ہیں جس کی انتہا ہونے کے باعث اب صریح طور پر لوگ سیاستدانوں اور حکمرانوں کو خائن سمجھنے لگے ہیں۔ پانامہ کیس کا فیصلہ جو بھی آئے وہ اپنی جگہ لیکن من حیث المجموع عوام کا سیاستدانوں کو بد عنوان سمجھنے کا رجحان خطرے کی بات ہے۔ عوام اگر اس نظام اور اس نظام کے چلانے والوں سے مایوس ہونے لگیں تو اس نظام اور اس کے چلانے والوں کی بقاء کو خطرات لاحق ہوں گے اور عوام انتہا پسندی اور بغاوت پر آمادہ ہوں گے جس کے لئے فضاء پہلے سے ساز گار دکھائی دیتی ہے۔ سیاسی عناصر کے حوالے سے من حیث المجموع منفی فضا لمحہ فکریہ ہے۔ پانامہ لیکس جیسے واقعات سے معاملات عوام سے عدالت تک چلے گئے۔ اگر اب بھی سیاستدانوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور اپنی اصلاح نہ کی تو عوام کے پاس معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کا رجحان پیدا ہوگا۔ حقائق جاننے کے باوجود ہر مرتبہ عوام کاایک ہی سوراخ سے ڈسا جانا بھی خرابی کی وہ بنیاد ہے جس کے باعث خرابی دور نہیں ہوتی۔توقع کی جانی چاہئے کہ اس طرح کے چشم کشا نوعیت کے حالات سے سیاستدان اور عوام دونوں سبق سیکھیں گے اور آئندہ اپنی ذمہ داریوں اور رائے کے اظہار کے سلسلے میں سنجیدگی اختیار کریں گے۔

متعلقہ خبریں