پاکستان کا چین پر بڑھتا ہوا معاشی انحصار

پاکستان کا چین پر بڑھتا ہوا معاشی انحصار

انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے فوراً بعد ہی پاکستان نے ملکی معیشت کی ترقی کے لئے غیر ملکی امداد پر انحصار کرنا شروع کرد یاتھا۔جس وقت پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو دنیا دو سپر پاورز کے درمیان تقسیم تھی۔ پاکستان نے امداد کے لئے امریکہ کو منتخب کیا اور امریکہ کے اثرورسوخ کی بدولت پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے امداد ملنا شرو ع ہوئی۔امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اونچ نیچ کا شکار ہوتے رہے اور 2000ء کی دہائی میں پاکستان 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' میں امریکی اتحاد کا حصہ بن گیا۔ اس وقت پاکستان امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی تھا اور پاک امریکہ تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے تھے۔ اب 2010ء کی دہائی کے وسط میں امریکہ کی پاکستان میں دلچسپی بہت کم ہو چکی ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد بین الاقوامی تعلقات میں امریکی پالیسی تبدیل ہونے کے آثار واضح نظر آرہے ہیں جس میں 'سب سے پہلے امریکہ' کی روش کو اپنایا جائے گا۔ جہاں تک ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان میں دلچسپی کی بات کی جائے تو اس بات کے بہت کم امکانات ہیں کہ ٹرمپ پاکستان یا جنوبی ایشیاء میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کریں گے۔ ان سب وجوہات کی بناء پر پاکستان کو اپنی معاشی ترقی کے لئے امریکہ کے علاوہ کسی اورسمت میں دیکھنا ہوگا۔ اگر پاکستان موجودہ شرحِ نمو سے ترقی کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی معیشت کی ترقی کے لئے نئے راستے ڈھونڈنے ہوں۔ اس وقت پاکستا ن کی معاشی شرح نمو چار سے پانچ فیصد سالانہ ہے اور اگر اس شرح کو چھ سے سات فیصد سالانہ تک لے کر جانا ہے تو ہمیں نئے تجارتی حلیف ڈھونڈنے ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیںاپنے معاشی ڈھانچے میں تبدیلیاں بھی لانی ہوں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ وسائل کا رُخ معاشی ترقی کی طرف موڑا جاسکے۔لیکن ایسے اقدامات اُٹھانے کے لئے سیاسی عزم کی ضرورت ہے جو بدقسمتی سے ہماری سیاسی قیادت کے پاس نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پالیسی ساز بھی اس حوالے سے کوئی سنجیدہ کوشش کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنی معیشت کا پہیہ چلانے کے لئے بیرونی سرمائے پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اب جبکہ پاکستان کے لئے امریکہ منظر نامے سے غائب ہو تا دکھائی دے رہا ہے تو ہمارے پاس چین کے علاوہ کوئی اور آپشن موجود نہیں ہے۔ چین پہلے ہی سی پیک کے تحت شروع ہونے والے پراجیکٹس میں 45ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رہا ہے جس سے اس کے اپنے سٹریٹجک مفادات بھی وابستہ ہیں۔ چین اب ایک ایسی معاشی طاقت بن چکا ہے جو پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کی امداد کرسکتا ہے۔ چین کی معیشت 1980 ء کے مقابلے میں 32 گُنا زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔ اب جبکہ چین ایک مستند معاشی طاقت بن چکا ہے تو ہمارے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب چین کی اگلی منزل کیا ہے ؟ اور کیا مستقبل میں چین کے معاشی منصو بوں میں پاکستان کا کوئی کردار بھی ہے ؟ چین کے مستقبل کے حوالے سے پیش گوئی کرتے ہوئے فنانشل ٹائمز میں ایک تجزیہ کار نے لکھا ہے 'پچھلے سال جنوری میں جب چین کی سٹاک مارکیٹ اور کرنسی زوال کا شکار ہوئی تھی تو بہت سے سرمایہ کاروں نے فرض کر لیا تھا کہ چینی معیشت کا خاتمہ ہونے والا ہے'۔ چین کی معاشی ترقی کے حوالے سے بہت ابہام اور شکوک پائے جاتے تھے جس کی وجہ تاریخی حوالے تھے۔ دنیا میں آج تک کوئی بھی ملک، خصوصاً چین کے حجم کا ملک ، ایک یا دو عشروں تک مسلسل 10 فیصد معاشی شرح نمو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوپایا ہے لیکن چین نے مسلسل تین عشروں تک دنیا کو ایسا کرکے دکھایا ہے۔بہت سے سنجیدہ معاشی ماہرین کی نظر میں چین کی معاشی ترقی اب اپنے عروج پر پہنچ کر رک چکی ہے اور اس کا اختتا م قریب ہے ۔ اس کے علاوہ چین کے اندر خریداری کے نت نئے رجحانات بھی سامنے آ رہے ہیں ۔ چینی باشندوں کی آمدنی میں اضافے نے ان کی قوتِ خرید میں اضافہ کردیا ہے جس کی وجہ سے صنعت کاری کی نئی اقسام سامنے آرہی ہیں۔ اگلی ایک یا دو دہائیوں میں چین کی صنعت امیر ممالک میں سستی اشیاء فراہم کرنے کی بجائے اپنی اندرونی مارکیٹ کی طلب پوری کرنے میں مصروف ہوجائے گی ۔ چینی صنعت کاری میں یہ تبدیلی پاکستان پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ 

پاکستا ن میں سی پیک کے حوالے سے جتنی بات ہورہی ہے اس سب کا مرکز و محور توانائی کے منصوبے یا ہائی ویز کے راستے ہیں لیکن سی پیک کے اصل مقاصد کچھ اور ہیں۔ بیجنگ اس وقت دو چیزوں پر فوکس کر رہا ہے جو دونوں پاکستان کے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں ۔ ان میں سے پہلا 'زمینی تجارت' ہے جس کے ذریعے چین سمندری راستوں سے ہونے والی تجارت سے بچنا چاہتا ہے ۔ پاکستا ن میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں بڑی سرمایہ کاری کرنے کے علاوہ چین اس وقت قازقستان میں بھی 35 ارب ڈالر کے منصوبے شروع کررہاہے جن میں ہائی ویز اور سڑکو ں کی تعمیر شامل ہے۔ جیسے ہی یہ 'ون روڈ، ون بیلٹ' کا منصوبہ مکمل ہوگا چین کو ایسے علاقوں تک رسائی مل جائے گی جہاں پرآبادی کم ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان میں چینی صنعت کاری کو فروغ دیا جائے گا کیونکہ چینی صنعت کاری کا زیادہ انحصار سستی لیبر پر ہے لیکن اس وقت چین میں لیبر پہلے مہنگی ہوچکی ہے۔پاکستان میں معاشی ترقی نے مزدور کی تنخواہ میں اضافے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا جس کی وجہ سے آج بھی پاکستان ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں پر لیبر سستی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے لئے نہایت خوش آئند ہوگی کیونکہ پاکستان میں سستی لیبر موجود ہے جس سے نہ صرف بے روزگاری کے خاتمے میں مدد ملے گی بلکہ پاکستانی معیشت بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے گی۔
(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں