کچھ نہ ہونے سے کچھ تو بہتر ہے

کچھ نہ ہونے سے کچھ تو بہتر ہے

فی الوقت پاکستان میں تعلیم اور صحت ایسے شعبے جس پر لوگوں کا سب سے زیادہ خرچہ ہو رہا ہے ۔ اور اس رُحجان کو مد نظر رکھتے ہوئے سرمایہ کار ان دوشعبوں میں بے تحاشا سر مایہ کاری کر رہے ہیں ۔ سکول پہ سکول اور ہسپتال پہ ہسپتال بنائے جا رہے ہیں ۔ مگر بد قسمتی سے یہ دونوں شعبے اب غریب کی دسترس سے باہر ہو تے جا رہے ہیں۔اگر ہم مختلف ممالک کے صحت بجٹ کا تجزیہ کریں تو امریکہ میں حکومت صحت پرفی کس11 ہزا ر ڈالر ، سوئزر لینڈ میں 7 ہزار ڈالراور نا روے میں ساڑھے چھ ہزارڈالر خرچ کر رہی ہے ۔ یہ سب تو ترقی یا فتہ ممالک ہیں ۔آئیے دیکھتے ہیں جنوبی ایشیاء جو غریبوں اور پسماندہ لوگوں کا خطہ ہے ،اس میں مختلف ممالک اپنے عوام کی صحت اور علاج معالجے پر کس طرح خرچ کرتے ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں 8ممالک ہیں ۔ بھارت میں صحت کا فی کس بجٹ 268 ڈالر، بھوٹان میں 290ڈالر، سری لنکا میں 380 ڈالر،مالدیپ میں صحت پر فی کس خرچہ 2 ہزار ڈالر ہے ۔ پاکستان میں صحت پر فی کس خرچہ 129ڈلر ہے۔ جبکہ اسکے بر عکس عالمی اعداد و شمار اور وکی پیڈیا کے مطابق جنگ سے تباہ شدہ اور تباہ حال افغانستان بھی پاکستان سے اچھا ہے جو اپنے عوام کی صحت پر فی کس169 ڈالر خرچ کر رہا ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ جب کوئی پشاور کرنسی تبدیل کرنے کے لئے بوری میں افغانی کرنسی لے جاتا تو اسکے بدلے میں ایک یا دو ہزار پاکستانی روپے ملتے مگر اب وہ بہت سے شعبوں میں ہمارا برابر اور اکثر شعبوں میں ہم سے آگے جا رہا ہے۔ اب اس خطے میں ہم افغانستان سے بھی پیچھے ہیں ۔ کسی زمانے میں ہم صحت ، تعلیم اور دوسری سماجی اقتصادی اعشاریوں کے لحاظ سے کوریا، چین، ڈنمارک اور دوسرے کئی ترقی یافتہ ممالک سے آگے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ہم روبہ زوال ہوگئے ۔ گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختون خوا کی حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے صوبے میں سماجی اور اقتصادی انصاف کو یقینی بنائے اور حکمران اپنی پرو جیکشن اور مشہوری کے بجائے عوامی مسائل حل کرنے پر بھی توجہ دیں۔ کپتان نے کہا کہ اگر ہم عوام پر سرمایہ کاری کریں اُنکو تعلیم یافتہ بنائیں اُنکی صحت اور علاج معالجے کا خیال رکھیں تو پھر ایک وقت آئے گا کہ یہ لوگ خود مو ٹر وے، بلڈنگز اور سڑکیں بنائیں گے۔اُنہوں نے صحت انصاف کا رڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختون خوا حکومت نے اس سکیم کو 537 ملین روپے سے شروع کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ عام لوگوں تک صحت کی بنیادی سہولیات پہنچائی جائیں۔ اس پروگرام سے پو رے صوبے کے تمام 24 اضلا ع کے 18لاکھ خاندانوں کو فائدہ ہوگا جس سے خیبر پختون خوا کی 50 فی صد آبادی مستفید ہو رہی ہے۔ اس سکیم کے تحت ہر خاندان کے آٹھ افراد کے لئے 5لاکھ اور 40ہزار روپے دیئے جائیں گے جو حکومت اور حکومت کی طرف سے منظور شدہ ہسپتال سے علاج معالجہ کر سکیں گے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ اچھا پرو گرام ہے۔ اور غریب لوگ حکومت کے ٹوٹے پھوٹے ہسپتالوں میں مجبو راً علاج کرتے تھے اور ہسپتال کے ڈاکٹروں اور نر سوں کی تلخ باتیں سُنتے تھے۔ اب تو کم از کم وہ اپنی مرضی سے کسی پرائیویٹ ہسپتال سے اچھا علاج معالجہ کر سکتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کی طر ف سے بھی پرائیویٹ اداروں پر سخت نگرانی ہونی چاہئے تاکہ ایسا نہ ہو کہ سادہ لوح مریضوں سے پیسے لیں اور ان ہسپتالوں کا وہ معیار نہ ہو جو ہونا چاہئے۔ جہاں تک صوبے میں ان کا رڈوں کی تقسیم کا تعلق ہے تو نا قدین اس پر تنقید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کا رڈ صرف تحریک انصاف کے لیڈر اپنے ورکروں میں بانٹ رہے ہیں اور یہ دوسری سیاسی جماعتوں کے کارکنوں یا دوسری جماعت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو نہیں دیئے جاتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ خیبر پختون خوا کی حکومت ہسپتالوں کی طر ف توجہ دیتی اور ان حالت زار بہتر بنالیتی۔ موجودہ کے پی کے حکومت اگر ایک طرف انفرا سٹرکچر بہتر بنانے کی طرف توجہ دے رہی ہے مگر یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ خیبر پختون خوا میں ہسپتالوں کی حالت زار کی طرف کیوں توجہ نہیں دی جارہی۔اگر حکومت یہ پیسے ہسپتالوں کی حالت پر خرچ کرتی تو آئندہ دور میں یہ انفرا سٹرکچر عوام کے کام آتا۔مگر پھر بھی کہتے ہیں کہ Some thing is better than nothing ۔نہ ہونے سے کچھ بہتر ہوتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان اور وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک کو چاہیئے کہ وہ اس نظام کو مزید شفاف بنائیں ۔ اور ساتھ ساتھ ہسپتالوں کی حالت زار پر توجہ دیں۔ علاوہ ازیں کے پی کے حکومت کو چاہئے کہ صحت کا رڈ کی طرح تعلیمی کا رڈ کا بھی اجرا کرے کیونکہ تعلیم بھی ایک انتہائی مہنگا شعبہ بنتا جا رہا ہے۔ اسی طر ح خیبر پختون کا سب سے بڑا مسئلہ بے روز گاری ہے اسلئے موجودہ کے پی کے حکومت کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں طالب علموں اور عام لوگوں کو قرضے دے کر تاکہ وہ اپنے لئے روز گار کا بندوبست کر سکیں۔ گو کہ صحت کا رڈ میں مزید بہتری کی گنجائش ہے ۔مگر پھر بھی خیبر پختونخوا حکومت کا صحت انصاف کارڈ دوسرے صوبوں کے لئے ایک ماڈل ہے۔ دوسرے صوبوں کو اس کو شروع کرنا چاہئے اور انکو اپنے صوبوں میں اس قسم کے صحت پروگرام شروع کرنے چاہئیں تاکہ اس قسم کی سکیموں سے زیادہ سے زیادہ سے لوگ مُستفید ہوں۔

متعلقہ خبریں