چٹور پن بسیار خوری اور سیاسی چٹخارے

چٹور پن بسیار خوری اور سیاسی چٹخارے

ہماری ماں جی کہا کرتی تھیں بیٹا دہان مزا بھی بہت بڑا عیب ہے ہم نے ان سے اس مشکل ترکیب کے معنی پوچھے تو کہنے لگیں دہان مزا کو عرف عام میں چٹورپن بھی کہتے ہیں یعنی ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہنا' بعد میں جب ہم نے ماں جی کی باتوں پر تحقیق کی تو یقین کیجیے ان کی تشخیص کو سو فیصدی درست پایا۔ چٹورپن ایسی بیماری ہے کہ بندے کو اس پر بے تحاشہ پیار آتا ہے اس بیماری میں مبتلا حضرات اپنی جیب میں کھانے پینے کا کچھ مواد ضرور رکھتے ہیں یہ راستہ چلتے ہوئے آپ کو مونگ پھلی پھانکتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ہم نے ایک مرتبہ اپنی علمیت بگھارتے ہوئے ایک صاحب سے کہا جناب راہ چلتے ہوئے کھانا پینا درست نہیں ہے اسلامی شرعی قوانین کی روشنی میں ایسے بندے کی گواہی جج صاحب قبول نہیں کرتے !انہوں نے ہماری بات سن کر ایک بڑا سا قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ اس طرح تو میں بہت بڑی ذمہ داری سے بچ گیا ہوں میں نے تو بہت سے گواہوں کی مٹی پلید ہوتے دیکھی ہے اس میں تو جان کا خطرہ الگ ہوتا ہے۔ ہم ان کی بات سن کر سکتے میں آگئے کہ کھانے پینے کے شوق میں یہ گواہ اور گواہی کی اہمیت سے کس قدر ناآشنا ہیںویسے ایک بات ذہن میں رہے کہ چٹور پن اور بسیار خوری میں ایک لطیف سا فرق ضرور ہوتا ہے بہت سے مہربان غلط فہمی سے ان دونوں میں کوئی فرق روا نہیں رکھتے بسیار خور وہ ہوتا ہے جو کھانے بیٹھتا ہے تو بس کھاتا ہی چلا جاتا ہے آخری نوالے تک جنگ جاری رکھتا ہے۔ ہم ایک مرتبہ ایک دوست کے بیٹے کاولیمہ اڑا رہے تھے ہمارے سامنے بیٹھے ہوئے صاحب بڑے خشوع و خضوع سے چاولوں کا صفایا کر رہے تھے جب تیسری مرتبہ ہم سے پوچھا گیا کہ جناب اور چاول چاہئیں؟ تو ہم نے شکریہ ادا کرتے ہوئے انکار کردیا بس ہمارے انکار سے سامنے بیٹھے ہوئے صاحب جل بن اٹھے اچانک باآواز بلند کہا زرا گرم گرم چاول تو لانادراصل بسیار خور ایک ہی مرتبہ کھاتا ہے اور خوب پیٹ بھر کر کھاتا ہے جبکہ چٹورپن میں مبتلا شخص کچھ نہ کچھ کھاتا ہی رہتا ہے۔ اب اس کا کیا علاج ؟چٹور پن تو بس ایک لت ہے ایک عادت ہے ایک مشغلہ ہے ایک شوق ہے!لت پر یاد آیا کہ بہت سے لوگوں کو سیاسی گفتگو کی لت ہوتی ہے ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو کبھی ووٹ دینے کے لیے گھر سے باہر بھی نہیں نکلے ہوتے لیکن سیاست پر تبصرہ کرنا فرض نہیں بلکہ قرض سمجھتے ہیںجسے ہر حال میں ادا کرنا ہوتا ہے یہ مخلوق ہر جگہ پائی جاتی ہے سرکاری دفاتر ، نانبائی کی دکان کا تھڑا،پبلک ٹرانسپورٹ ،چونکہ ہم بھی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کا اچھا خاصہ تجربہ رکھتے ہیں اس لیے جب کسی ایسے شخص کو دیکھتے ہیں جو سیاسی اقوال زریں سے بس کے اندر کے ماحول کو گرما رہا ہوتا ہے اور بار بار ہماری طرف دیکھ کر ہمیں بھی شامل گفتگو کرنا چاہتا ہے تو اس وقت ہم اپنے چہرے پر ایک مصنوعی سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ کر نہ صرف حد درجہ سنجیدہ ہوجاتے ہیں بلکہ موصوف کو یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا تعلق کسی خفیہ ایجنسی کے ساتھ ہے۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ ہمیں وہ صاحب مخاطب کرنے سے نہ صرف گریز کرتے ہیں بلکہ حکمران جماعت کے سیاست دانوں کے حق میں ڈنڈی مارنے لگتے ہیں دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہم سیاسی گفتگو سے اپنا دامن بچا کر چین کی بانسری بجاتے ہوئے اپنا سفر مکمل کرتے ہیں۔ایک اور جگہ جو ہمارے خیال میں سیاسی گفتگو کے لیے انتہائی موزوں ہے جہاں اخبار بھی موجود ہوتا ساتھ ہی قہوے کا دور بھی چلتا رہتا ہے اور عہد حاضر کی سیاست پر تبصرے کرنے والے دوچار ماہرین بھی دستیاب ہوتے ہیں۔ اخبار کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اخبار کا مطالعہ کرتے کرتے ایک صاحب اچانک سر اٹھا کر سیلون میں موجود لوگوں کی طرف دیکھتے ہیں اور پھر ایک خبر کو بنیاد بنا کر سیاست دانوں کے بخیے ادھیڑنے لگتے ہیں کچھ لوگ تو خاموش بیٹھے سنتے رہتے ہیں کچھ ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور اگر ایک آدھ ایسا بندہ بھی موجود ہو جس کا تعلق مخالف سیاسی جماعت سے ہو تو پھر وہ گھمسان کا رن پڑتا ہے کہ ہمارے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیںایسے ایسے راز بے نقاب کیے جاتے ہیں کہ الامان الحفیظ! ۔ دراصل ہم یہ کہنا چاہتے تھے کہ لت کوئی بھی اچھی نہیںہوتی چٹورپن ہو' بسیار خوری یا سیاسی گفتگو کی لت ! سب کے اپنے اپنے مضمرات ہیں اور اس میں سب سے بڑی تباہی یہ ہے کہ بندہ اپنی حد میں نہیں رہتا بس تمام حدیں پھلانگتا ہوا اپنی ذات کو نقصان پہنچاتا ہے۔ چٹور پن یا بسیار خوری کا سب سے بڑا نقصان تو یہی ہے کہ بندہ طرح طرح کی پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا کر عضوئے معطل ہو کر رہ جاتا ہے یا پھر جوانی ہی میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملتا ہے۔ آپ نے بہت سے بسیار خور دیکھے ہوں گے جن کے لیے دو قدم پیدل چلنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے اور جہاں تک سیاسی گفتگو کے چٹخارے کا تعلق ہے تو یہ منہ کی وہ بواسیر ہے جس کا علاج عصر حاضرکے انتہائی قابل ڈاکٹروں کے پاس بھی نہیں ہے

متعلقہ خبریں