اسلامی متحدہ افواج کی تشکیل اور سوالات

اسلامی متحدہ افواج کی تشکیل اور سوالات

عالم اسلام کے مسائل حل نہ ہونے کا بنیادی سبب تو یہ ہے کہ ہم نے نبی کریم ۖ کاا سوہ حسنہ ترک کیا ہے اور اس کا نتیجہ ایک طویل عرصے سے عالم اسلام کے انتشار اور عدم اتحاد و اتفاق کی صورت میں نکلا ہے ۔ عثمانی خلافت کے خاتمے کے بعد ڈیڑھ صدی کا طویل اور صبر آزما استعماری دور مسلمانان عالم کے لئے کر بلا ثابت ہوا لیکن بہر حال پھر ایک جا ن گسل جدوجہد کے بعد مسلمانوں کو آزادی تو مل گئی لیکن اتحاد نصیب نہ ہو سکا ۔ اور کیوں نصیب ہوتا ! کہ استعمار نے امت مسلمہ میںاتنے مختلف النوع افکار و نظریات پروان چڑھائے تھے کہ اُس کے اثرات بلکہ دھچکے آج تک محسوس کئے جاتے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ امت مسلمہ کی پہلی بڑی بد قسمتی اُس وقت پیدا ہوئی جب ایک علمی و فکری اور رائے کے اختلاف کو باقاعدہ فرقہ کی شکل ملی ۔ یوں امت مسلمہ دو حصوںمیں بٹ گئی ۔ اس بڑی تقسیم نے مسلمان امت کو ناقابل تلافی چرکے لگائے اور وہ زخم آج تک امت کے جسم پر ناسور بن کر موجود ہیں جن سے ہر نازک دور میں خون رستا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں امت مسلمہ کمزور سے کمزور اور لا غر سے لا غر تر ہوتی چلی آرہی ہے ۔ اس بڑی اہم اور بنیادی تقسیم کے بعد امت مسلمہ ستاون ملکوں میں تقسیم ہوئی اور ہر ایک ملک کے اندر ایک بڑی تقسیم مذہبی بنیادوں پر اُس وقت ہوئی جب لوگوں نے آئمہ ا ربعہ عوام کی سہولت کی خاطر کسی مسئلے کے بارے میں ایک سے زیادہ آراء پیش کر کے اپنا مئو قف بیان کیا لیکن بعد کے ادوار میں مختلف لوگوں نے اپنے مفادات اور ترجیحات کے پیش نظر ان کو مسالک میں تبدیل کر دیا ۔ جس سے ایک اور بڑی تقسیم مقلد اور غیر مقلد کی صورت میں سامنے آئی جو آج تک چلی آرہی ہے ۔ اس کے علاوہ استعمار نے اپنے طویل دور اقتدار میں دو قسم کے لوگ پیدا کئے جو آج بھی اُن کے بڑے کام آرہے ہیں ۔ ایک و ہ طبقہ پیدا کیا جنہوں نے دین اسلام میں اختر اعات اور آسانیاں پیدا کرنے کے نام پر نئی نئی باتیں داخل کرنے کی کوششیں کیں ۔ ان خطرناک فرقوں میں جسد امت کے لئے زہر قاتل ثابت ہوئے۔ دوسرا طبقہ جو امت کے ہر ملک کے اندر افترق و انتشار کا سبب بنا وہ سیکولر اورلبرل ذہن کا حامل طبقہ تھا جو استعمار کا پیدا کردہ اور پرور دہ تھا اور ہے ۔ اس گروہ نے ترقی اور جدت و تجدید کے نام پر اسلامی ملکوں میں اسلامی قوانین یا نفاذ شریعت کی ہمیشہ مخالفت کر کے اپنے آقائو ں کا حق ادا کیا ، اور آج بھی پاکستان ، مصر ، ترکی ، الجزائر ، تیونس ، افغانستان ، لیبیا اور شام وغیرہ میں یہی کشمکش گزشتہ کتنے عشروں سے جاری ہے اور بڑے دانشور انہ انداز میں سوالات اُٹھائے جاتے ہیں کہ سیاست اور مذہب کا کوئی تعلق ہے کہ نہیں ۔ ریاست میں مذہب کا عمل دخل کتنا ہونا چاہیے ۔ کیا مذہبی ریاستیں ترقی بھی کر سکتی ہیں ، وغیرہ وغیرہ ۔ ان ہی اختلافات اور عدم اتحاد سے فائدہ اُٹھا تے ہوئے جدید استعمار اور اسلام کے دشمنوں نے عالم اسلام کے انتشار کے لئے ایسی منصوبہ بندی کی کہ اس کے نتائج کہیں بیت المقد س کے ایک حصے کو آگ لگانے کی صورت میں نکلے اور کبھی پاکستان ، انڈو نیشیا اور سوڈان جیسے بڑے اسلامی ملکوں سے حصے الگ کر کے کمزور کرنے کی کوششیں کیں ۔ امت مسلمہ کے اسی انتشار کے سبب نقصانات کے ازالے کے اپنے وقت کے مر د درویش شاہ فیصل شہید نے او آئی سی (OIc)کی تشکیل کی ۔ اس پلیٹ فارم کے تحت امت مسلمہ میں اتحاد اور تعلیم ، تجارت اور دفاع کے لئے مشترکہ کوششیں سرفہرست تھا ۔ اس سلسلے میں کچھ کام بھی ہوئے لیکن امت کی صفوں کے اندر سرایت کئے ہوئے مسلکی ، فقہی اور بعض دیگر عقائد وغیرہ سے متعلق اختلافات نے امت کو ایک نہ ہونے دیا ۔ آج نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے معاشی و مالی لحاظ سے مستحکم بعض ممالک خانہ جنگیوں میں مبتلا ہیں اور بعض کو دیدہ و نا دیدہ خطرات درپیش ہیں ۔ عالم اسلام کے کسی بھی ملک میں کوئی نازک مسئلہ ہو تو پاکستان غیر جانبدار رہ سکتا ہے لیکن غیر متعلق نہیں رہ سکتا ۔ عراق ایران جنگ سے لیکر عرب اسرائیل جنگ تک اور آج شام اور یمن سے لیکر لیبیا اور عراق تک پاکستان لگی آگ کی حدت حسوس کرتا ہے اور افغانستان کے حوالے سے تو ایسا ہوا کہ وہاں لگی آگ کے شعلے ہمارے گریبان تک پہنچے ۔ لیکن پاکستان کی ایک کمزوری یا بد قسمتی ملا حظ کرنے کے قابل ہے کہ ایک طرف جائے تو دوسرا اعتراض کرتا ہے دوسری طرف جائے تو پہلا والا یہی گلہ کرتا ہے ۔ دیگر ممالک جہاں دند نا کرپھر ے تو کوئی نام نہیں لیتا پاکستان کو اسٹریٹجک اہمیت کی وجہ سے ہمیشہ سعودی عرب ، ایران ، اور افغانستا ن کی وجہ سے مسائل کا سامنا رہا ہے ۔ پاکستان کے لئے سعودی عرب اور ایران دونوں اہم ہیں ۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ سعودی عرب حرمین الشرفین کے ساتھ عقیدت کے علاوہ بھی ہر مشکل وقت میں پاکستان کے کام آیا ہے اور ایران پڑوسی کی حیثیت سے اپنے مفادات اور مسلک کو ہمیشہ ترجیح دیتا رہا ہے ۔ لہٰذا اب اسلامی اتحاد افواج کے لئے جنرل (ر) راحیل شریف کے حوالے سے ایک دفعہ پھر عجیب و غریب سوالات اُٹھا ئے جارہے ہیں ، حالانکہ اس اتحاد میں 39اسلامی ممالک شامل ہیں ۔ لہٰذا کوشش یہ ہونی چاہیے کہ عراق شام اور ایران کو بھی اس اتحاد میں شامل کر کے دہشت گردوں کے خلاف متحد ہ و متفقہ طور پر نیٹو ، بنائی جائے تاکہ واعتصموبحبل اللہ جمیعاًعملی صورت میں ایک دفعہ پھر سامنے آئے ۔ 

متعلقہ خبریں