کے پی پولیس کی کار کردگی اپنی جگہ مگر عوام پھر بھی مطمئن نہیں

کے پی پولیس کی کار کردگی اپنی جگہ مگر عوام پھر بھی مطمئن نہیں

سنٹرل پولیس آفس پشاور میں انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا صلاح الدین خان محسود کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے 10سالوں میں 2017 کے اب تک سب سے محفوظ اور کامیاب سال رہنے ،دہشت گردی کے واقعات میں مجموعی طور پر 83% کمی واقع ہونے پر اطمینان کا اظہار فطری امر ہے حوصلہ افزاء امر یہ بھی ہے کہ حالات پر قابو پالیا گیا ہے۔خیبر پختونحوا میںرواں سال کے پہلے چھ مہینوں میں دہشت گردی کا ایک بھی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا، بہترامن وامان کی بدولت صوبے میں تجارتی سرگرمیاں اور معمولات زندگی معمول پر آچکے ہیں ۔ دہشت گردی میں نمایاں کمی کے بعد اب کے پی کے پولیس کی توجہ پولیس کے نظام میں شفافیت اور عوامی جواب دہی کے کلچر کو فروغ پر توجہ کا عندیہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ خیبر پختونحوا پولیس ایکٹ 2017 کے نفاذ پر تیز ی سے کام جاری ہے ۔خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی میں فوج اور پولیس کی قربانیوں اور کردار بارے کسی اعتراف کی ضرورت نہیں۔ دہشت گردی کی وارداتوں میں خیبر پختونخوا پولیس نے پولیس کا نہیں بلکہ دشمن ملک کے خلاف اگلے مورچوں پر لڑنے والے دستوں کا کردار ادا کیاہے۔ خصوصی حالات میں خیبر پختونخوا پولیس کی کارکردگی کے برعکس عام حالات میں کے پی پولیس کو داد تحسین کا مستحق اس لئے نہیں گردانا جاسکتا کہ جو پولیس دہشت گردوں اور خود کش حملہ آوروںکے خلاف سینہ سپر رہی وہی پولیس معمول کے حالات میں عام جرائم پیشہ افراد سے نمٹنے کی سعی میں تساہل اور غفلت کی مرتکب دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ دہشت گردی اور خود کش حملوں جیسے سنگین واقعات سے نمٹنے کے لئے جس خصوصی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے ہماری پولیس اس طرح کے اچانک کے حالات کے لئے تربیت یافتہ نہیں جبکہ جن جرائم اور معاملات بارے پولیس نے باقاعدہ تربیت لی ہے اور جہاں اس کی کارکردگی ہونی چاہئے وہاں کے پی پولیس کی کارکردگی تسلی بخش نہیں۔ پولیس کے اعداد و شمار جو بھی ہوں جرائم کی شرح میں پولیس کی کارکردگی سے زیادہ حالات کا عمل دخل زیادہ ہے۔ کیونکہ پولیس عام حالات میں یعنی گزرے سالوں میں وہ اقدامات نہیں اٹھاتی تھی جو حالات سے نمٹنے کی مساعی کے طور پر اب ہو رہے ہیں۔ مضافاتی علاقوں سمیت بندوبستی علاقوں میں وقتاً فوقتاً آپریشن تلاشی کی کارروائیاں' قانون کرایہ داری کا نفاذ اور اس پر عمل درآمد' علاقہ کے رہائشیوں کے کوائف سے آگاہی' حالات کے باعث جرائم پیشہ عناصر کا از خود محتاط ہونا اور آئے روز کی مساعی میں مشکوک افراد کی گرفتاریاں اور مشکوک افراد کوشہر میں ٹھکانے بنانے میں مشکلات جیسے خصوصی امور شامل ہیں گو کہ یہ بیشتر خدمات بھی پولیس ہی انجام دیتی ہے اور یہ پولیس ہی کی کارکردگی شمار ہونی چاہئے۔ مگر جہاں جرائم کی شرح کا تقابلی جائزہ مقصود ہو وہاں وجوہات اور اسباب کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بنا بریں پولیس کے لئے تجربے اور مشاہدے سے موثر ثابت شدہ ان اقدامات کو جاری رکھنے میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ گزشتہ سالوں کی بہ نسبت پولیس کے پاس جدید ٹیکنالوجی' کیمرے' نادرا ریکارڈ اور موبائل سمز سے مشکوک عناصر کی نشاندہی اور گرفتاری میں ممد عوامل بھی جرائم کی شرح میں کمی کے اسباب ہیں۔ بلا شبہ محولہ سہولیات کا جرائم میں اضافے کے لئے بھی استعمال ممکن ہے۔ مگر دیکھا جائے تو یہی غلطی ہی جرائم پیشہ افراد کے گلے پڑ جاتی ہے اور پولیس کے لئے آسانی کاباعث ہے۔ ان تمام معاملات سے قطع نظر خیبر پختونخوا پولیس کو عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لئے زیادہ سے زیادہ مساعی کی ضرورت ہے۔ ہمارے تئیں بعض خصوصی نوعیت کے جرائم کے علاوہ پولیس کے پاس اب اتنی سہولیات اور وسائل آگئے ہیں جن کو بروئے کار لاکر سٹریٹ کرائمز اور چھوٹی موٹی وارداتوں پر بہ آسانی قابو پایا جاسکتاہے اور جرائم پیشہ عناصر کا قلع قمع ممکن ہے۔ صوبے میں دہشت گردی کے بعد بھتہ خوری کے منظم واقعات سب سے سنگین مسئلہ رہا ہے۔ اس ضمن میں پولیس کی کارکردگی بہر حال مثالی نہ رہی اور اسے کے پی پولیس کی کمزوری ہی سے تعبیر کیا جائے گا کہ بالآخر فوج کی مدد سے انسداد بھتہ خوری کے لئے مشترکہ اقدامات و انتظامات کرنے پڑے۔ پاک فوج کی اعانت پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ سوال اپنی جگہ ضرور جواب طلب ہے کہ خصوصی حالات کے تقریباً خاتمے کے باوجود بھی پولیس کو خصوصی نوعیت کی مدد کی ضرورت کیوں پڑی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ پولیس کے انسداد بھتہ خوری اور بھتہ خوروں کے خلاف اقدامات میں ناکامی نہیں بلکہ ہمارے تئیں خیبر پختونخوا پولیس اس ضمن میں عوام کے اعتماد پر پوری نہیں اتر سکی اور بوجوہ متاثرہ خاندان پولیس پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یہ بلا وجہ نہیں آئی جی خیبر پختونخوا اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو اس کمزوری پر قابو پانے اور پولیس پر عوام کے اعتماد کی بحالی کے لئے نظر آنے والے اقدامات کی ضرورت ہے۔ پولیس کی جانب سے نشاندہی اور تھانے کی پولیس کے با خبر ہونے کے باوجود قحبہ خانوں کے خلاف کارروائی سے صرف نظر کی زبان خلق گواہی دیتی ہے۔ منشیات فروشی اور کئی عوامی سطح کے جرائم کے خلاف پولیس کا قدرت رکھنے کے باوجود ہاتھ ڈالنے سے گریز کا رویہ پولیس پر انگشت نمائی کا باعث بن رہا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ بلند و بانگ دعوئوں کے باوجود بھی پولیس اس میں ناکامی کا شکار ہے۔ رشوت خوری کے الزام سے بھی پولیس کو مکمل طور پر پاک قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جرائم پیشہ عناصر کی سر پرستی کا داغ بھی ابھی دھلا نہیں۔ عوام سے پولیس کا رویہ ایف آئی آر کے اندرا ج سے پولیس کا انکار' تھانے سے رجوع کرنے پر شکایت کے ازالے اور فریادی کی داد رسی کی بجائے اس کو الٹا بھول بھلیوں میں الجھانے کے رویے میں بھی تبدیلی نہیں آئی۔ ہمارے تئیں کے پی پولیس کی اب بڑے اور پیچیدہ نوعیت کے معاملات میں کارکردگی بہتر ضرور ہوئی ہے مگر جب تک عوامی سطح کے روز مرہ کے مسائل و معاملات موجود ہیں اور عام آدمی پولیس سے مطمئن نہیں تب تک پولیس اصلاحات اور بہتری کے دعوئوں سے اتفاق ممکن نہیں۔ آئی جی کے پی اور سینئر افسران چاہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ روز مرہ کی ان شکایات میں کمی نہ لائی جاسکے۔ پولیس میں احتساب کا جو عمل سبکدوش آئی جی نے شروع کیا تھا اس کی ضرورت باقی نہیں رہی یا اس پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ اس کا بھی از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں