بارہ سال بعد بھی متاثرین بالاکوٹ کی عدم داد رسی

بارہ سال بعد بھی متاثرین بالاکوٹ کی عدم داد رسی

زلزلے سے ہونے والی تباہی کو نئے موقع میں تبدیل کرنے کی دعویدار آمر وقت کی حکومت اور اس کے بعد آنے والی حکومت کا بارہ سال گزرنے کے باوجود بالاکوٹ سٹی کے قیام میں عدم پیشرفت ان حکومتوں کی غفلت ٹھہری مگر بالا کوٹ کے متاثرین زلزلہ کی تو اس میں نہ صرف بد وراں زلزلہ جان و املاک چلی گئی تھیں بلکہ ان کی باقی ماندہ زندگی کے شب و روز ان کی نسل کا مستقبل بھی دائو پر لگ رہا ہے ۔ مگر بڑے بڑے دعوے کرنے والی مرکزی و صوبائی حکومتوں کو اس کی چندا ں پرواہ نہیں ۔ بالاکوٹ میں گرمی کا موسم تو جیسے تیسے گزر تا ہوگا اور یہ مختصر بھی ہوتا ہے باقی سال بھر سردی اور شدید سردی میں شیلٹر ز میں زندگی گزارنا ان کی ہمت و حوصلہ ہی کے باعث ہوگا کم ہمتی ہوتی تو جسم وجان کا رشتہ ہی شاید بر قرار نہ رہتا خیبر پختونخوا کی گزشتہ حکومتوں کا چونکہ دو رنہ رہا ان کے حساب میں تو سرا سر غفلت نا انصافی اور عوام پر جبر ہی لکھا جائے گا مگر موجودہ صوبائی حکومت ضلعی انتظامیہ علاقے کے منتخب نمائندوں ہزارہ سے تعلق رکھنے والے سبکدوش گورنر ، وفاقی وزراء با اثر سیاستدانوں اور منتخب ارکان پارلیمنٹ اور بلدیاتی نمائندوں میں سے کسی کی بھی متا ثرین زلزلہ کے مسائل پر توجہ اور بالا کوٹ سٹی کے قیام میں پیشرفت سے لاتعلقی بے حسی کی انتہا ہے ۔ اراضی کے حصول سے لیکر شہر کی منصوبہ بندی وتعمیر کے مراحل مشکلات و پیچید ہ ضرور ہوں گے مگر بارہ سال کی مدت اور تقریباًپانچ ادوار حکومت میں بھی اگریہ مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس طرف ٹھوس پیشرفت ہی نہیں ہوتی تو اسے سراسر غفلت ہی گردانا جائے گا ۔ اہالیان علاقہ میں اشتعال اور انہتائی اقدام کی دھمکی فطری امر ہے لیکن ان سے ہونے والی بد ترین نا انصافی وحق تلفی کے اعتراف کے باوجود ان سے گزارش ہے کہ وہ شاہراہ قراقرم کی بندش کی بجائے احتجاج کا اس سے کم درجے کا طریقہ کا اپنائیں ۔ ضلعی انتظامیہ کے دفاتر اور منتخب نمائندوں کا گھیرائو کریں یا جو بھی مئو ثر سمجھیں پر امن طریقہ کار اختیار کریں صوبائی حکومت کو مقررہ ڈیڈ لائن سے قبل اس معاملے کا سنجید گی سے نوٹس لینا چاہیئے اور احتجاج کی نوبت نہیں آنے دینا چاہیئے ۔
چترال یونیورسٹی مفت سرکاری زمین پر قائم کیوں نہیں کی جاتی
لاوی ہائیڈل پاور سٹیشن کے افتتاح کا کریڈٹ کس کو جاتا ہے اس سے قطع نظر چترال کے رکن اسمبلی کی جانب سے چترال یونیورسٹی کیلئے زمین کی خریداری اور بندوبست کئے بغیر افتتاح پر تنقید سنجید گی کے زمرے میںآتا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مدت اقتدار کے آخری سال کیا ناموزوں عمارت اور مقام پر چترال یونیورسٹی کا قیام اور اس کا افتتاح کرنے سے علاقے کے عوام مطمئن ہوں گے اور طلبہ کو تعلیمی سہولیات میسر آسکیں گی ۔ چترال یونیورسٹی کے لئے اراضی کی خریداری کیلئے اگر رقم موجود نہیں تو صوبائی حکومت کو پیش کردہ رپورٹ میں قا ق لشٹ میں موزوں سرکاری اراضی کی موجود گی کی نشاندہی کی جا چکی ہے اس کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لیکر وہاں یونیورسٹی کے باقاعدہ قیام کا آغاز ہو سکتا ہے ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور اعلیٰ تعلیم کے وزیر کو اس معاملے کا جائزہ لینا چاہیئے اور چترال میں یونیورسٹی کے قیام کو اپنے ہی دور اقتدار میں حقیقی روپ دینے کی ذمہ داری نبھانی چاہیئے اب ایسا نہ ہو کہ اس کا حشر بھی لا وی پاور سٹیشن کے قیام کے جیسا ہو ۔

متعلقہ خبریں