گلگت اور کراچی میں پیپلز پارٹی کی واپسی

گلگت اور کراچی میں پیپلز پارٹی کی واپسی

گلگت بلتستان اور سندھ اسمبلی کی ایک ایک نشست پر اتوار 9جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی جیت گئی۔ ان سارے لوگوں اور ان کے پشت بانوں سے دلی تعزیت جو کہتے لکھتے اور فرماتے تھے کہ پیپلز پارٹی وفات پا چکی۔ اب اس کے نام لیوا خال خال دستیاب ہیں۔ پیپلز پارٹی کی '' حلالہ'' سیاست کا ناقد ہونے کے باوجود ان کالموں میں یہ عرض کرتا آرہا ہوں کہ اس جماعت میں زندگی کی رمق اس کے سیکولر لبرل کردار اور منشور کی وجہ سے ہے۔ ابھی ملک گیر سطح پر متبادل لبرل سیکولر جماعت موجود نہیں۔ عوامی ورکرز پارٹی کا حلقہ محدود ہے۔ گلگت میں پی پی پی نے اپنی حریف اسلامی تحریک کو شکست دی جس کے امیدوار 9سو ووٹ بھی نہ لے پائے اور پیپلز پارٹی کے امیدوار جاوید حسین نے تقریباً سات ہزار ووٹ لئے۔ اسلامی تحریک پچھلے قومی انتخابات میں پاکستان کے اندر پیپلز پارٹی کی اتحادی تھی مگر گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں اس نے نون لیگ سے اتحاد کو ترجیح دی۔ تحریک کے بڑے اس اتحاد کو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کہتے رہے مگر زمینی حقیقت اور انتخابی پوسٹرز کچھ اور کہانی سناتے تھے۔ اسلامی تحریک کے متبادل کے طور پر ابھرنے والی ایم ڈبلیو ایم نے گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کیا۔ ان انتخابات کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ عالمگیریت کا تصور پارہ پارہ ہوا اور نون لیگ اپنی حکمت عملی میں کامیاب رہی اور حکومت بنالی۔ ماضی سبق سیکھنے کے لئے ہوتاہے اور جو اس سے رہنمائی کو توہین ذات سمجھتے ہیں وہ اپنے عصر میں شرمندگیوں کے سوا کچھ حاصل نہیں کر پاتے۔ ایک طرح سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ گلگت میں ان کا ضمنی انتخابات میں شکست کا ذائقہ چکھنا پڑا جن کا خیال تھا کہ نون لیگ کی حکومت پانسہ پلٹنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں نون لیگ کو کرپشن کہانیوں کا سامنا ہے۔ ستم بالائے ستم انتخابی وعدوں کا ایفا نہ ہونا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خود اسلامی تحریک اب مقبولیت کی پرانی معراج پر نہیں اسے زوال کا سامنا ہے۔ یہ زوال فقط اس مذہبی جماعت کا مقدر نہیں بلکہ گلگت بلتستان سے باہر بھی مذہبی جماعتوں سے لوگوں کی دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ وجہ پچھلے چالیس برسوں میں مذہبی جماعتوں کی وجہ سے معاشرے کا تقسیم ہونا ہے۔ سماجی اجتماعیت پر ضرب کاری ہے مذہبی سیاست۔ مذہب باعث احترام ہے۔ کسی بھی مذہب کی تعلیمات سے بیر رکھنا کبھی درست نہیں سمجھا گیا مگر جب مذہب کو بنیاد بنا کر سماجی تقسیم کا ڈول ڈالا جائے تو بہر طور ایک دن آتا ہے جب لوگ مزاحمت پرتل جاتے ہیں۔ یہی وقت دستک دے رہا ہے۔ اس دستک کا شعوری انداز میں تجز یہ نہ کرسکنے والوں کو آنے والے ماہ و سال بتائیں گے کہ پاکستان کے عوام اصل میں چاہتے کیا ہیں اور کس چیز کو انسان سازی کے راستے میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ کراچی میں سندھ اسمبلی کی ایک نشست کے ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سعید غنی 23ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ قریب ترین حریف ایم کیو ایم پاکستان تھی جسے ایم کیو ایم لندن اور آفاق احمد کی مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کا تعاون حاصل تھا۔ پیپلز پارٹی کی مضبوط ترین اتحادی اے این پی تھی۔ مصطفیٰ کمال اور جے یو پی نے بھی پی پی کی حمایت کی مگر فیصلہ کن حیثیت اے این پی کو حاصل تھی۔ نون لیگ کی چند ترغیبوں کے باوجود اے این پی کا ثابت قدمی سے پی پی پی کے ساتھ ڈٹے رہنا بھی اس انتخابی نتیجہ کا ایک سبب ہے۔ سعید غنی اس حلقہ انتخاب کے باسی ہیں۔ سفید پوش' پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے سیاسی کارکن کی شہرت رکھنے والے سعید غنی کو اس انتخابی حلقہ کی بڑی برادریوں کی تائید پہلے دن سے حاصل تھی۔ ایم کیو ایم کے ہاتھ سے اس کی مضبوط نشست نکلی اس کے باوجود کہ کچھ قوتیں شد و مد کے ساتھ اس سے تعاون فرما رہی تھیں۔ ایک وجہ ایم کیو ایم کے ہارنے کی اس کے کارکنوں کی نفرت بھری سیاست بھی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ان کے مجاہدین دور کی کوڑیاں لاتے رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے جو کارکنان اتوار کے ضمنی انتخابات سے قبل ایم کیو ایم پاکستان کو طاقتور اداروں کی رکھیل اور نجانے کیا کیا کہہ لکھ رہے تھے اتوار کی شام سے محبت فاروق ستار میں پیپلز پارٹی کو کوس رہے ہیں۔ یہ بجا ہے کہ ضمنی انتخابات میں عموماً حکمران جماعت کا امیدوار بازی جیت لیتا ہے مگر یہ کوئی آسمانی تحریر نہیں ہے۔ خیبر پختونخوا کے متعدد حلقوں میں ضمنی انتخابات حکمران اتحاد کے ہاتھوں سے ایسے نکلے جیسے بند مٹھی سے ریت نکلتی ہے۔ گلگت بلتستان کو لے لیجئے جہاں زیر عتاب پیپلز پارٹی نے حکمران اتحاد کی ایک جماعت کو شکست دی۔ کراچی میں تحریک انصاف کے ارب پتی امیدوار چوتھے نمبر پر آئے اور عالمگیر انقلاب اسلامی کے علمبردار امیدوار کو سولہ سو ووٹ ملے۔ کراچی کے ضمنی انتخابات کے نتائج نے ایک بات کی تصدیق کردی کہ مستقبل کی انتخابی سیاست کے اصل فریق ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی ہیں۔ تحریک انصاف 2017ء والی مقبولیت کے مقام پر فائز نہیں مذہبی جماعتوں کا ووٹ بنک کم ہو رہا ہے۔ ان حالات میں جب مین سٹریم میڈیا سے تھڑوں تک پی پی پی کا فاتحہ پڑھنے والے اتائولے ہوئے جا رہے تھے۔ 9جولائی کے دو ضمنی انتخابات میں اس کی جیت سے بہت سارے لشکریوں کی امیدوں پر ٹھنڈا پانی پڑ گیا۔ پیپلز پارٹی نے دونوں جگہ سفید پوش کارکنوں کو میدان میں اتارا اور فتح حاصل کی۔ سفید پوش کارکنوں کی وجہ سے اس کے کارکن دونوں حلقوں میں فعال ہوئے۔ کراچی میں سعید غنی کو امیدوار بنانے کا فیصلہ خالصتاً محترمہ بے نظیر بھٹو کے بچوں کا تھا۔ وقت نے ان کے فیصلے کے درست ہونے کی تصدیق کردی۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات میں بھی کارکن نوازی کو قائم رکھے گی یا دنگل جیتنے والے پہلوانوں پر صاد کرے گی؟۔

متعلقہ خبریں