ڈرئیے مت!

ڈرئیے مت!

ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ جو بھی کام کرے اس میں کوئی کمی رہے اور نہ کوتاہی اور ساتھ ساتھ لوگ اس کو پسند بھی کریں۔ یہ بہت اچھی بات ہے مگر ایسا کرنے اور سوچنے سے کچھ لوگ اس قدر محتاط ہوجاتے ہیں کہ پھر وہ کسی بھی کام کرنے میں نہ صرف دقت محسوس کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں بھی ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ یہ انسان کی جبلت ہے کہ وہ اپنے سے منسوب کوئی بھی چیز بہت ہی اچھی حالت میں دیکھنا اور دکھانا چاہتا ہے۔ آپ کے مشاہدے میں اکثر ایسے لوگ آئے ہوںگے جو بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن کچھ بھی نہیں کر پاتے۔ ان کے آئیڈیاز شاندار اور سوچ بے بدل ہوتی ہے مگر صرف سوچ اور خیال تک۔ وہ کچھ شاہکار کرنا چاہتے ہیں مگر کر نہیں پاتے۔ یا تو ان کو ماحول اس طرح میسر نہیں ہوتا اور یا پھرڈر کی وجہ سے دل نہیں کرتے۔ کیونکہ وہ ڈرتے ہیں کہ اگروہ شاہکار سر انجام دینے میں ناکام ہوگئے تو کوئی بہت بڑی ناکامی ہوجائیگی۔ ایسی سوچ اور روئیے کی وجہ سے ہم بہت سے وہ کام جو کر سکتے ہیں، کر نہیں پاتے۔ ایسے لوگ حقیقت میں دوسروں کی تنقید سے ڈرتے ہیں۔کیونکہ کچھ لوگ اتنے تنقیدی مزاج کے ہوتے ہیں کہ آپ ان کو کچھ بھی بہت اچھا دکھائیں وہ آگے سے کہیں گے کہ وہ بات نہیں بنی۔ اب اگر بندہ پوچھے کہ صاحب کون سی بات نہیں بنی تو وہ ٹیڑھا سا منہ بنا کر اور کندھے اچکا کر کہیں گے کہ بھئی جو بھی ہے مگر وہ بات نہیں بنی۔اب بدقسمتی سے اس قماش کے لوگوں کی وجہ سے بھی بہت سے لوگ کسی کام کو ہاتھ لگانے سے ہچکچاتے ہیں۔ جس طرح کائنات کی اپنی مقررہ رفتار میں آگے بڑھنے کیلئے حرکت ضروری ہے بالکل اسی طرح تنقید بھی اصلاح کیلے لازمی ہے مگر تنقید وہ جو تنقید کے رموز پر پورا اترے۔ لیکن ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ تنقید کرنے والے کبھی بھی ایسا کرنے سے باز نہیں آئیں گے۔اس لئے کسی کے ڈر یا تنقید کی وجہ سے کبھی بھی اپنا کام نہیں چھوڑنا چاہئے۔میرے مشاہدے میں آیا ہے کہ بہت سے لوگ صرف اس لئے کوئی کام نہیں کر پاتے کہ ان کو ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں ان سے کوئی غلطی سرزد ہو کر لوگ ان کا مذاق نہ اڑائیں۔ لیکن ایسا سوچ کر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ آج ہمارے سامنے جو بڑے بڑے لکھاری، افسانہ نگار، شاعر ، کالم نگار، کھلاڑی اور سائنسدان موجود ہیں یہ بھی پہلے پہل اتنے ہی نامور نہیں تھے جتنے بعد میں بنے۔یہ سب کچھ لکھ کر آپ کے سامنے لانے کی کوشش اس لئے کر رہا ہوں کہ چند روز پہلے ایک دوست میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں لکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے خوش ہوکر کہا کہ بسم اللہ کرکے شروع کر دیں۔اس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ اس سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو پھر لوگ اس کا مذاق اڑائیں گے۔مجھے اس کی یہ بات سن کر بے حد ہنسی آئی مگر میں نے اپنی ہنسی قابو کرتے ہوئے اس سے کہا کہ جب تک آپ لکھیں گے نہیں تو آپ کو پتہ کیسے چلے گا کہ آپ سے غلطی ہوتی ہے یا نہیں، اور پھر انسان غلطیوں سے ہی تو سیکھتا ہے اوراپنی جہد مسلسل سے وہ مقام حاصل کرتا ہے جس کا وہ متمنی ہوتا ہے۔ کوئی بھی پیدا ہو کر چلنا نہیں سیکھتا، بلکہ چلنے سے پہلے رینگنا اور لڑکھڑانا ہی اٹھ کر کھڑے ہونے اور چلنے کا پیغام لاتا ہے۔ کچھ لوگ اگر ڈر کی وجہ سے کسی کام کے کرنے سے رہ جاتے ہیں تو کچھ لوگوں پر ستائش کا خبط بھی سوار ہوتا ہے۔ ایسے لوگ کوئی بھی کام صرف اس لئے کرنا چاہتے ہیں تا کہ لوگ ان کی ستائش کریں ایسے لوگ خود غرض اور لالچی ہوتے ہیں اور ان کا کام صرف ان کی ذات اور فائدے تک محدود ہوتا ہے۔اگر آپ کاکام اچھا ہے تو لوگ اس کی نہ صرف تعریف کریں گے بلکہ اس کا اثر بھی ہوگا۔ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے لیکن اس میں اس کو اپنی تمام تر توانائیاں یکجا کرکے اپنی منزل حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس کی مثال ہم اس طرح دے سکتے ہیں کہ اگر کوئی شخص گھر سے کہیں دور ہو ، یا کام ختم کرنے کے بعد گھر واپس جانا چاہتا ہو۔ لیکن بارش ہوجائے، ہر طرف پانی ہی پانی ہو، ٹرانسپورٹ بھی رک گئی ہو۔ لیکن اس کو تو گھر پہنچنا ہے۔ اس کیلئے وہ ہر طرح کی کوشش کرتا ہے۔ راستے بدل بدل کر اپنا سفر جاری رکھتا ہے، کہیں سواری پر اور کہیں پیدل۔۔ لیکن وہ ہر صورت سفر جاری رکھتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ گھر ہر حال میں پہنچنا چاہتا ہے۔ اور اس کیلئے وہ بولڈ قدم اٹھاتا ہے، وہ کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا۔ کسی کی باتوں کی پرواہ نہیں کرتا۔ اوروں سے پتہ پوچھنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔ اس کے ذہن میں وقت اور پیسوں کی کوئی قدر اور اہمیت نہیں ہوتی۔ وہ تو بس اپنے گھر پہنچنا چاہتا ہے اور آخر کار وہ اس میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ اس طرح اگر کوئی بھی اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے جہد مسلسل سے کام لینا ہوگا، کوئی بھی ایک دن میں پہلوان نہیں بنتا، اس کے لئے روزانہ کی بنیاد پر ورزش کرنی ہوتی ہے۔کوئی بھی کام چاہے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو مگر نا ممکن نہیں ہوتا۔ہمت اور مسلسل آگے بڑھنے سے اپنا مقصد ضرور حاصل کیا جا سکتاہے۔ لوگ کیا کہیں گے سے کوئی بڑا ڈر نہیں۔ہم میں سے کسی کو بھی کچھ بھی کرنا ہو تو سب سے پہلے یہ ڈر دل سے نکالنا ہوگا۔ ڈر پہ قابو پانا اگر چہ مشکل ہے مگر ڈر سے نکل کر آپ آگے دیکھیں گے تو آپ کے ہاتھ میں آپ کے تراشے ہوئے ہیرے ہونگے۔ وقت کسی کا انتظار کرتا ہے۔ جس نے جو بھی کرنا ہے وہ آج ہی اٹھے ، اپنے ارادے کو وجود دے اور ڈر کو ہرا کر جیت کا مزہ لے۔