''اچھے لوگوں'' کی قومی حکومت

''اچھے لوگوں'' کی قومی حکومت

جتنے منہ اتنی باتیں ۔کوئی کہہ رہا ہے ساری کی ساری حکومت جا رہی ہے،کوئی کہہ رہا ہے نئے الیکشن ہوں گے لیکن یہ تو زبان خلق ہے،عام لوگوں کی باتیں ہیں۔توجہ طلب باتیں وہ ہیں جو میڈیا پر کی جا رہی ہیں۔ واضح طور پر دو گروپوں میں تقسیم میڈیا کے لوگ اپنی اپنی بساط کے مطابق نواز شریف حکومت کو بچانے اور نواز شریف کو گرانے کے لئے زور لگا رہے ہیں۔نواز شریف مخالف اینکرز تو یہ بھی بتا رہے ہوتے ہیں کہ جے آئی ٹی ارکان شریف فیملی کے ممبرز سے کیا کیا سوال کر رہے ہیں۔انہیں یہ باتیں کون بتا رہا ہے کوئی نہیں جانتا لیکن اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ تو جے آئی ٹی کے ارکان نے اس پر توجہ دی اور نہ ہی سپریم کورٹ نے اس کی پرسش کی۔ان تمام قصے کہانیوں کے علی الرغم جو قصہ میڈیا کے بعض سنجیدہ اینکرز اور کچھ گرم و سرد چشیدہ سیاستدان بیان کر رہے ہیں وہ دلچسپ بھی ہے ،دل فگار بھی اورہوشربا بھی۔ایسی اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ اس سارے کھیل میں سے عمران خان جو کچھ نکالنا چاہ رہے ہیں وہ اس لئے نہیں نکلے گا کیونکہ صرف نواز شریف ہی نہیں جائیں گے خان صاحب بھی ان کے ساتھ ہی نا اہل ہو کر گھر جائیں گے۔پیپلز پارٹی بھی ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہوگی اورایک ایسی قومی حکومت قائم ہوگی جس میں نواز لیگ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے'' اچھے لوگ'' ہوں گے۔واللہ اعلم ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ جو قوت نواز شریف سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے وہ عمران خان کو بھی مسترد کر چکی ہے کیونکہ اس کے خیال میں خان صاحب خاصے سر پھرے ہیں اور کسی سے بھی سینگ پھنسا سکتے ہیں۔لہٰذا جس طرح نواز شریف جاتے جاتے غلام اسحاق خان کو بھی ساتھ لے ڈوبے تھے اسی طرح عمران خان کو بھی لے ڈوبیں گے۔اور حکمرانی کا میٹھا پھل شیخ رشید جیسے ''اچھے لوگ'' کھائیں گے۔تحریک انصاف کو مقتدر قوتوں نے بڑی باریکی سے سٹڈی کیا ہے ۔اس پارٹی کے لوگوں میں جو سختی پائی جاتی ہے اور وہ جس طرح بلند آہنگ ہو کر مخالف کی ایسی تیسی کر دیتے ہیں ہمارے بعض دوستوں کا خیال ہے کہ یہ درشتگی،رعونت اور سختی مقتدر قوت کو اس حد تک تو قبول ہے کہ نواز شریف کے خلاف استعمال ہو لیکن ان کے آڑے آئے یہ کسی بھی طور گوارا نہ ہوگا کیونکہ وہ چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی جیسی نرمی کی خوگر ہے اوراتھرے پن کو برداشت کر ہی نہیں سکتی۔نواب اکبر بگٹی کا معاملہ یاد کیجئے۔ اس کا اکھڑ پن ہی اسے لے ڈوبا تھا ورنہ بلوچستان کے کتنے ہی اہم لوگ ہیں جو برسہا برس سے مقتدر قوت کے ساتھ چل رہے ہیں ۔پرویز مشرف کو اس کے اس اکھڑپن سے چڑ تھی سو اس نے بگٹی کا پیچھا کیا اورالمناک موت سے دوچار کیا۔یہی پرویز مشرف کشمیر کے میر واعظ عمر فاروق کے ساتھ خود کو بہت comfortable محسوس کرتا تھا لیکن سید علی شاہ گیلانی کو اس لئے نا پسند کرتا تھا کہ اس میں بھی اکھڑ پن ہے۔سو ہم نے دیکھا کہ مشرف سے پہلے پاکستان جس گیلانی کی بلائیں لیتا تھا مشرف کے دور میں اسے کھڈے لائن لگا کر میر واعظ کو حریت کانفرنس کی چیئر مین شپ دے دی گئی۔ با لآخر پرویز مشرف کا دور ختم ہوا تو گیلانی کی جان چھوٹی ۔لال مسجد سے جڑی کہانی بھی کچھ ملتی جلتی ہے۔غازی عبدالرشید بلوچ تھا اور فطری طور پر اکھڑ اور تند مزاج۔اگر اس کی تند خوئی آڑے نہ آتی تو لال مسجد کا مسئلہ خون خرابے کے بغیر ہی حل ہو گیا ہوتا۔ غازی عبدالرشید اگر پرویز مشرف کے سامنے نرم پڑ گیا ہوتا تو ڈکٹیٹر نے اس سے کوئی تعرض نہیں کرنا تھا۔جرنیلوں کے مزاج کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔وہ کیپٹن سے جنرل تک کے تمام مراحل میں اپنے افسر کی تابعداری کرتے ہیں۔جو بھی کام سونپا جاتا ہے اسے تندہی سے انجام دیتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کوئی بھی شخص ملک کا یا تو وفادار ہے یا نہیں ہے۔وہ درمیان والے کسی معاملے پر یقین نہیں رکھتے۔ان کی اس سوچ پر جو مہر ایوب خان نے لگائی تھی اس کی سیاہی آج بھی تازہ ہے۔اس پہلے مارشل لا کے بعد افواج پاکستان کے ذہنوں میں یہ بات پختہ ہو گئی کہ سیاستدان بھروسے کے قابل نہیں ہوتے۔اللہ بخشے جب کبھی نواب زادہ نصراللہ خان سے یہ بات ہوتی تو اس پر بڑے دلچسپ تبصرے کرتے۔وہ اقدام جو ایوب خان نے کیا اس پر افواج پاکستان کو اور بھی پختہ یقین اس وقت ہوا جب جنرل یحییٰ خان کے دور میں پاکستان دولخت ہوا۔ اس کا الزام بھٹو پر لگا اور فوج اور اس کا منظور نظر رائٹ ونگ اس خیال پر مضبوطی سے جم گیا کہ سانحہ مشرقی پاکستان کا ذمہ دار بھٹو تھا۔یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر دیکھ لیا لیکن قابل قبول نہ بن سکی۔فوج کا سپہ سالار خواہ کوئی بھی ہو اس کی سوچ ایک ہی جگہ قائم رہتی ہے۔سیاستدانوں کو بالعموم ایسے لوگ سمجھا جاتا ہے جو عوام کی سادگی اور کم علمی سے فائدہ اٹھا کر اقتدار میں آ جاتے اور پھر اقتدار کو لوٹ مار کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ان کی خارجہ پالیسی پر بھی زیادہ اعتبار نہیں کیا جاتا اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی خارجہ پالیسی پر ہم نے برسوں میڈیا پر جو تنقید سنی اس میں اسی سوچ کا عکس ہوتا ہے۔سو دو باتیں مانے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔اول یہ کہ پیپلز پارٹی جتنے مرضی ڈرامے کر لے اسے اس کی مرضی کا اقتدار نہیں مل سکتا۔ جب کبھی مجبوری میں ملا بھی تو مشروط ہی ملے گا۔مسلم لیگ ن انتہائی حد تک ناقابل قبول ہو چکی سو یہ کچھ بھی کر لے دوبارہ وہ قدرومنزلت نہیں مل سکتی جو بارہ اکتوبر 1999 سے پہلے تھی۔اور ہاں تیسری بات بھی پتھر پہ لکیر ہے کہ عمران خان کے ہاتھ میں وزارت عظمیٰ کی لکیر ہی نہیں۔وہ کچھ بھی کرلیں انہیں اقتدار نہیں مل سکتا البتہ ان کی پارٹی میں بہت سے لوگ ہیں جو قابل قبول ہیں اور انہیں ان کی جدوجہد کا ثمر ملے گا۔جاننے والوں کو خوب علم ہے کہ اقتدار ملنے کے بعد کپتان نواز شریف اور زرداری سے بھی زیادہ مشکل آدمی ثابت ہوگا ۔

متعلقہ خبریں