فائدے کی ایک بات

فائدے کی ایک بات

زندگی کی کتاب اپنے اندر کتنی حیرانیاں لیے ہوئے ہے طرح طرح کے عجیب و غریب واقعات سے انسان انگشت بدنداں ہے وہ ہزار کوشش کرتا ہے مگر زندگی کی بو قلمونیاں اسے دم بھر کے لیے بھی سستانے کا موقع نہیں دیتیں اور پھر انہی ہنگاموں میں رخصت کا وہ لمحہ بھی آجاتا ہے جسے ہم ساری زندگی بھلائے رکھتے ہیں آج آپ اپنے چاروں طرف جو ہنگامے دیکھ رہے ہیں یہ آج سے تو نہیں ہیں ہم سے پہلے کتنے ہی لوگ دنیا کے گورکھ دھندوں میں الجھ کر زندگی گزارتے رہے جن چیزوں کو وہ زندگی کا اہم ترین اثاثہ سمجھتے تھے ان کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں تھی مگر یہ راز اس وقت کھلتا ہے جب آنکھیں بند ہونے لگتی ہیں اقبال نے کیا خوب کہا تھا 

ہو دید کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کر
ہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئی
زندگی کے سفر کے ساتھ ساتھ سیکھنے کا عمل بھی جاری رہتا ہے اور انسان سیکھنا چاہے تو ہر لمحہ کچھ نہ کچھ سیکھ سکتا ہے۔زندگی کے نشیب وفراز انسان کے تجربات میں نت نئے اضافے کرتے رہتے ہیں ۔انسان اپنی غلطیوں سے بھی بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔کہتے ہیں سیکھنے کے لیے مشاہدہ بہت ضروری ہے دوسروں کے تجربات سے بھی سیکھا جاتا ہے اور دوسرے جن غلطیوں کا ارتکاب کرتے ہیں ان غلطیوں سے بچا بھی جا سکتاہے اسی آنکھ مچولی میں زندگی کی شام ہو جاتی ہے اور اگر بامقصد زندگی گزاری ہو تو پیچھے مڑ کر دیکھنے کے بعد پچھتاوا نہیں ہوتاجس نے اپنی زندگی میں قدم قدم پر پودے لگائیں ہوں وہ اپنے پیچھے ایک سر سبز و شاداب باغ پاتا ہے اسے اپنی زندگی کی مقصدیت پر فخر ہوتا ہے اور جو زندگی بھر کوئلوں کی سوداگری کرتا رہا ہو وہ جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اس کے ہاتھ سوائے پچھتاوے اور پشیمانی کے کچھ نہیں آتا اس کی زندگی اس کے سامنے ایک مشکل سوال کی صورت آ کھڑی ہوتی ہے ہم ساری زندگی کچھ نہ کچھ پانے کی تمنا میں گزار دیتے ہیں خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو ساری زندگی دوسروں کو کچھ نہ کچھ دیتے ہی رہتے ہیں اپنے حصے کی خوشیاں بانٹتے رہنا ان کی زندگی کا مقصد ہوتا ہے اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ خوشیاں تقسیم کرنے سے بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں۔ ہمیں بہت پہلے ایک سوال پڑھنے کو ملا تھا جس نے ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا تھابعض سوال کتنے عجیب ہوتے ہیں ان کی گرفت کتنی مضبوط ہوا کرتی ہے اس سوال کے اندر کتنے سوال و جواب موجود تھے اس سوال نے فکر کی کتنی راہیں ہم پر کھول دی تھیں اس نے ہمیں خالق کے ایسے کتنے ہی انعامات سے با خبر کردیا تھا جنہیں ہم بھلائے بیٹھے تھے اس نے ہمیں زندگی کے کتنے قیمتی راز سے آشنا کردیا تھاہمارے سامنے کتنے دریچے کھل گئے تھے تازہ ہوا کے کتنے جھونکوں سے ہماری شناسائی ہوئی تھی آپ کے پاس وہ کیا ہے جس کے لیے آپ سب سے زیادہ شکر گزار ہیں ؟ اس سوال کو پڑھتے ہی ہم حیرتوں کے سمندر میں غوطہ زن ہو گئے تھے سب سے پہلے اس سوال کا جواب جو ہمارے ذہن میں آیا وہ یہی تھا کہ ہم اپنے رب کی کس کس نعمت کا شکر ادا کریںان نعمتوں کا شمار تو ہمارے بس سے باہر تھابچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی جس میں ایک اندھا فقیر بار بار ایک ہی صدا بلند کرتا ہے بابا آنکھیں بڑی نعمت ہیں دنیا کی رنگینیاں سر سبز و شاداب باغات بلند و بالا پہاڑ حد نظر تک پھیلے ہوئے وسیع سمندر پھلوں سے لدے ہوئے درخت اللہ پاک کی صنعت اس کی کاریگری کو دیکھنا آنکھوں کی بصارت سے ہی ممکن ہے بینائی نہ ہو تو دنیا کتنی تاریک ہو جاتی ہے انسان کی سب سے اولین ضرورت آکسیجن ہے جس کے بغیر چند لمحے زندہ رہنا بھی نا ممکن ہے خالق کون ومکاں نے اسے ہمارے چاروں طرف پھیلا کر ہمارے لیے سانس لینے کا ایک ذریعہ بنا دیا ہے کیا اس کا شکر ادا کرنا ممکن ہے ؟ پانی ہماری دوسری بڑی ضرورت کتنی وافر مقدار میں موجود ہے لیکن ہم عقل کے اندھے اپنی کوتاہ بینی کی بدولت اس نعمت کو محفوظ کرنے سے قاصر ہیں اسے کس بے دردی سے رات دن ضائع کیا جاتا ہے دریائوں پر بند باندھ کر اسے محفوظ کر سکتے ہیں اپنی ضروریات سے بڑھکر بجلی پیدا کر سکتے ہیں لیکن کتنے عاقبت نا اندیش ہیں ہم کہ اللہ کی دی ہوئی نعمت کو اپنی نالائقی کی وجہ سے ضائع کررہے ہیںاللہ پاک کی عطا کردہ نعمتوں کا شمار ممکن ہی نہیں ہے صرف ذائقے کو دیکھ لیجیے یہ کتنی بڑی نعمت ہے کھانے پینے کی اتنی اشیاء ہیں کہ جن کا شمار ہمارے لیے ممکن ہی نہیں ہے اور پھر سب کا اپنا اپنا ذائقہ ہے ہمارے اندر ذائقے کو محسوس کرنے کی حس رکھ کر ہم پر کتنا بڑا احسان کیاگیا ہے ۔ہمارے کچھ دوست سوچ رہے ہوں گے کہ اتنی بڑی بڑی نعمتیں خالق نے مخلوق کے لیے پیدا کی ہیں ان کا ذکر ہی نہیں کیا جا رہا؟آپ نے ٹھیک سوچا ان نعمتوں کو بیان کرنا ان کا ذکر کرنا کسی بھی انسان کے لیے ممکن ہی نہیں ہے ! آئیے پھر آج سے ایک کام کرتے ہیں صبح اٹھتے ہی اللہ پاک کی نعمتوں کو شمار کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ ممکن تو نہیں ہے بس شمار کرتے جائیے شکر ادا کرتے رہیے تو ان میں اضافہ ہوتا چلا جائے گاکیا یہ فائدے کی بات نہیں ہے؟۔

متعلقہ خبریں