افغانستان میں قیامِ امن کا حصول

افغانستان میں قیامِ امن کا حصول

اس وقت دنیا کی واحد سپر پاور کی تاریخ میں لڑی جانے والی سب سے طویل جنگ امریکی منصوبوں کے مطابق پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ پارہی جس کی وجہ سے امریکہ کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ لیکن دوسری جانب امریکی فوج اس حقیقت کا ادراک نہیں کررہی اور کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے سوچ رہی ہے کہ بلی اس کو نہیں دیکھ پارہی۔ ان حالات میں دنیا کی واحد سپر پاور اور خود کو دنیا کی نمبر ون کہنے والی فوج کے لئے افغانستان میں شکست کو تسلیم کرنا اور دنیا میں اپنی رسوائی برداشت کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ وہ امریکی اہداف جو 150000 امریکی اور اتحادی افواج کی افغانستان میں تعیناتی سے حاصل نہیں کئے جاسکے کیا وہ اہداف 'آپریشن ریزولیٹ سپورٹ' کے تحت صرف 13500 فوجیوں کی مدد سے حاصل کئے جاسکتے ہیں ؟ ان 13500امریکی فوجیوں کی تقریبا ً آدھی تعداد میدانِ جنگ میں حصہ لینے کی بجائے افغان سیکورٹی فورسز کی تربیت میں مصروف ہے۔ کیا افغانستان میں مزید 3000 امریکی فوجیوں کی تعیناتی سے کوئی فرق پڑے گا ؟ اپنی کتاب 'دا ایروگینس آف پاور' میں جے۔ولیم فل برائٹ لکھتے ہیں ''امریکی خارجہ پالیسی پر کالے جادو کے اثرات ہیں جس کے لئے باقاعدگی سے ڈھول بجائے جاتے ہیں تاکہ کالے جادو کے ان اثرات سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے''۔ امریکہ سے پہلے روس افغانستان کی جنگ میں بہت زیادہ الجھا رہا تھا اور جنگ کے نو سالوں کے دوران افغانستان میں روس کے 15000 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ روس کو افغانستان سے بھاگنا پڑا لیکن امریکہ اس مثا ل سے کوئی سبق حاصل نہیں کررہا اور وہی غلطیاں دہرا رہا ہے جو اس وقت کی سپرپاور سوویت یونین نے کی تھیں۔یہ سچ ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں جانی کی بجائے مالی نقصان زیادہ اٹھایا ہے لیکن امریکی معیشت کے لئے یہ مالی نقصان زیادہ بڑا جھٹکا نہیں ہے ۔ ابھی تک ایک عام امریکی شہری مسلم ممالک کے خلاف جنگ اور اس کے ہونے والے نقصانات کا اندازہ نہیں لگا سکا یہی وجہ ہے کہ ان جنگوں کے خلاف امریکہ میں کوئی احتجاج دیکھنے میں نہیں آتا اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ کو افغانستان جیسے ممالک میں 'بموں کی ماں' گرانے کے تجربات کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ کیا امریکہ کی جانب سے بموں کی ماں گرانے کے بعد افغان طالبان کے امریکہ کے خلاف لڑنے کے عزم میں کوئی کمی آئی ہے ؟ اس کا جواب ہے ، نہیں۔ افغانستان میں اپنی تاریخ کی سب سے طویل جنگ لڑنے کے باوجود بھی امریکہ اپنے مفادات حاصل کرنے کے قریب بھی نہیں پہنچا لیکن امریکہ افغانستان میں امن چاہتا ہے وہ بھی اپنی شرائط پر۔امریکی مفادات میں سے سب سے بڑا مفاد افغانستان میں اپنی اجارہ داری قائم کرکے یہاں سے پورے خطے کو کنٹرول کرنا تھا۔امریکہ اپنے مفادات کے حصول کی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے بار بار 'ڈو مور' کا مطالبہ دہرایا جاتا ہے۔ اکثر و بیشتر یہ بات سننے میں آتی ہے کہ افغانستان میں امن کا راستہ اسلام آباد سے ہو کر گزرتا ہے ۔ افغانستان ہماری بین الاقوامی اور علاقائی خارجہ پالیسی کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور افغا نستا ن کو ہماری خارجہ پالیسی میں ہمیشہ انتہائی اہم مقام حاصل رہے گا۔ پاکستان افغانستان کے معاملات میں اتنا ہی ملوث ہے جتنا کہ بھارت لیکن امریکہ کی طرف سے کبھی یہ سننے میں نہیں آیا کہ افغانستان میں امن کا راستہ نیودہلی سے شروع ہوتا ہے اور اسلام آباد سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر پاکستان اور بھارت آج افغانستان کے معاملات میں مداخلت بند کردیں تب بھی امریکہ افغانستان میںاپنے مفادات حاصل نہیں کرسکتا ۔ امریکہ کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ افغانستان میں امن قائم کرنے کی ذمہ داری مکمل طور پر اس پر عائد ہوتی ہے ۔ اسامہ بن لادن ہلاک ہو چکا ہے اور طالبان اس بات کا عہد کرچکے ہیں کہ وہ ایسے کسی شخص کو پناہ نہیں دیں گے جو کسی بھی دوسرے ملک کے لئے خطرہ ہوگا ۔ اس کے علاوہ طالبان یہ بھی اعلان کرچکے ہیں کہ امریکی افواج کے افغانستان سے مکمل انخلاء کے بغیر وہ کسی بھی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔جہاں تک امریکی نقطہ نظر کی بات کی جائے تو افغانستان میں مکمل سرنڈر امریکہ کا سب سے بڑا ہدف ہے حالانکہ امریکہ کو طالبان اور دیگر افغان عسکریت پسندوں کے سرنڈر کی بجائے افغانستان میں قیام ِ امن کو اپنا سب سے بڑا ہدف بنانا چاہیے۔ یہ وہ رویہ ہے جو امریکہ نے دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے پر بھی اپنایا تھا اور 1943ء میں ہونے والی کاسا بلانکا کانفرنس کے بعد امریکی صدر روزویلٹ نے ہٹلر سے 'غیر مشروط سرنڈر' کا مطالبہ کیا تھا حالانکہ اس کانفرنس کے دوران غیر مشروط سرنڈر کی بات نہیں کی گئی تھی۔ تاریخ دانوں کے مطابق روز ویلٹ کا یہ مطالبہ ایک بہت بڑی غلطی تھی جس کی وجہ سے ہٹلر کے خلاف جرمنی کے اندر ہونے والی بغاوت کی کوششوں کو نقصان پہنچا تھا۔ امریکہ کی طرف سے اسی طرح کا رویہ جاپان کے خلاف بھی اپنایا گیا تھا اور جنگ کے اختتامی دنوں میں جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گرائے گئے تھے جو غیر ضروری تھے۔ امریکہ کو اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے افغانستان میں غیر مشروط سرنڈر کی بجائے ایک طویل المیعاد امن کے قیام پر توجہ دینی چاہیے تاکہ نہ صرف افغانستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکے بلکہ پورے خطے میں بھی امن و خوشحالی لائی جاسکے۔ 

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں