ورنر سندھ کی تبدیلی' احتساب بھی ہوگا؟

ورنر سندھ کی تبدیلی' احتساب بھی ہوگا؟

صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان مشاورت کے بعد سابق چیف جسٹس آف پاکستان سعید الزماں صدیقی کی تقرری کے پس منظر میں مصلحت جو بھی ہو اس سے قطع نظر جس پیرانہ سالی اور ضعف کے عالم سے نئے گورنر سندھ گزر رہے ہیں اور ان کی صحت کا جو عالم ہے اس کے تناظر میں کسی طور یہ فیصلہ موزوں نہیں جبکہ اس عمر میں ان کی جانب سے گورنر کا عہدہ قبول کرنا بھی موزوں امرنہیں ہیں۔ اگرچہ گورنر کا عہدہ رسمی ہی سہی لیکن اس کے باوجود اس قدر پیرانہ سالی اور ضعف میں کہ انسان خود دوسروں کی مدد اور نگہداشت کا محتاج ہو عہدے پر تقرری اور عہدہ قبول کرنا دونوں موزوں عمل نہیں۔ سندھ کے حالات کے تناظر میں گورنر ہائوس کے مکین کو فعال اور متحرک ہونا چاہئے تھا اور زیادہ موزوں ہوتا کہ صدر اور وزیر اعظم کسی ریٹائرڈ جنرل کی تقرری کا فیصلہ کرتے۔ بہر حال صوبہ سندھ میں گورنر جیسے اہم عہدے پر چودہ سال بعد تبدیلی کی گئی ہے۔ریٹائرڈ چیف جسٹس سعید الزاماں سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بعد چیف جسٹس بنے تھے جب نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں سجاد علی شاہ کی طرف سے میاںنواز شریف کے خلاف مقدمہ ایک عدالتی بحران کی صورت اختیار کر گیا تھا اور ملک میں ایک دن میں دو سپریم کورٹ بن گئی تھیں۔سعید الزماں صدیق مسلم لیگ ن کے صدارتی امیدوار بھی رہے ۔نئے گورنر سندھ سعید الزماں صدیقی نے کہاہے کہ صوبے میں امن و امان بحال کرنا ان کی اولین ترجح ہو گی۔سبکدوش ہونے والے گورنر عشرت العباد نے 1990ء میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حق پرست کے امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی تھی ۔1992ء میں فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد وہ روپوش ہو گئے اور ایک سال بعد لندن میں نمودار ہوئے جہاںانہوں نے سیاسی پناہ حاصل کی۔ہمارے ہاں تقرری کے وقت محاسن ہی کا تذکرہ ہوتا ہے اور کمزوریوں بلکہ جرائم پر کسی کی نظر نہیں جاتی۔ سب سے کم عمر اور زیادہ طویل مدت گزارنے والے گورنر عشرت العباد پر کئی سنگین مقدمات درج ہیں۔ علاوہ ازیں ان پر پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ نے حال ہی میں الزمات لگا کر نہلے پر دہلا مارنے کا جو عمل کیا ہے اس کے بعد ان کے عہدے پر رہنے کا جواز ہی ختم نہیں ہوا تھا بلکہ ان کو قانون کی گرفت میں لا کر پرانے مقدمات اور مصطفی کمال کے الزامات کے علاوہ بدعنوانیوں کی تحقیقات کی بھی ضرورت تھی۔ بعض اطلاعات کے مطابق دوہری شہریت کے حامل سبکدوش گورنر سندھ کسی بھی وقت دبئی روانہ ہوسکتے ہیں۔ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال کر بیرون ملک جانے سے نہ روکا گیا تو ان کے پھر ہاتھ آنے کا امکان کم ہی ہوگا۔دیکھنا یہ ہے کہ عشرت العباد کے حوالے سے حکومت اور ملکی ادارے حسب دستور مصلحت کی ردا اوڑھ لیتے ہیں یا پھر ان سے حساب لیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں