ئی فورس سے وابستہ توقعات

ئی فورس سے وابستہ توقعات

صوبائی دارالحکومت پشاور میں سٹریٹ کرائمزپر قابو پانے اور امن و امان کی صورتحال پر نظر رکھنے کیلئے خصوصی تربیت یافتہ فورس کا قیام خوش آئند امر ہے جس سے بجا طور پر توقع وابستہ کی جا سکتی ہے کہ یہ فور س شہریوں کو تحفظ دینے میں ممد و معاون ثابت ہو گی امر واقع یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں سٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ان وارداتوں کے تسلسل سے صوبائی دارالحکومت کراچی جیسا بنتا جارہا ہے جہاںدن دیہاڑے لوگوں کو لوٹنا معمول بن چکا ہے کراچی بہت بڑا بین الاقوامی شہر ہے جہاں گنجان آبادی میں اس قسم کے عناصر کی شناخت اور گرفتاری مشکلات کا باعث ہوگا لیکن صوبائی دارالحکومت پشاور کراچی کے ایک چھوٹے حصے کے برابر بھی نہیں ۔یہ ایک چھوٹا سا شہر ہے مگر اس کے باوجود یہاں پر کراچی طرز کی وارداتیں تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہیں ۔ پشاور میں عموماًلوگ اس قسم کے واقعات کی پولیس میں رپورٹ درج کرانا ہی لا حاصل سمجھتے ہیں۔جو لوگ پولیس سے رجوع کرتے ہیں ان کو بھی پولیس ریلیف اور تحفظ دینے میں ناکام رہتی ہے ۔ رہزنوں کو اس امر کا اگر خوف ہوتا کہ کوئی پولیس اہلکار ان کاتعاقب کرکے گرفتار بھی کر سکتا ہے تو وہ دن دیہاڑے واردات کرنے نہ نکل آئیں ۔ صوبے میں جو نئی فورس قائم کی گئی ہے اس کو دیگر امور کے ساتھ ساتھ سڑیٹ کرائمز کی وارداتوں کی روک تھا م کی ذمہ داری نبھانے کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ خود کو روایتی پولیس فور س سے مختلف ثابت کرے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ اگر نئی فورس مستعدی کے ساتھ کام کرے تو اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام ناممکن کام نہیں بلکہ اگر رہزنوں کو اس امر کا یقین ہو کہ وہ آسانی سے واردات کے بعد فرار نہیں ہو سکیں گے تو خود بخود وارداتوں سے اجتناب کرنے لگیں گے اسٹریٹ کرائمز کی روک تھا م کیلئے تھانوں کی حدود میں ہونے والی رہزنی کی وارداتوں پر متعلقہ ایس ایچ او کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے اور پولیس کو متحرک کر کے دن دیہاڑے دیدہ دلیری سے لوگوں کو لوٹنے والے رہزنوں سے عوام کو تحفظ دیا جائے ۔

متعلقہ خبریں