وائٹ ہا ؤس کا نیا مکین

وائٹ ہا ؤس کا نیا مکین

جی اس مر تبہ وائٹ ہاؤس کا نیا مکین وہ شخص بنا ہے جو ایک کا روباری شخص ہے جس کو سرکا ری امو ر سے کوئی آشنا ئی نہیں ہے نہ کبھی کسی سرکاری عہدے پر فائز رہا ہے نہ پا رلیمنٹ کا رکن بنا ہے نہ کوئی سیا سی پس منظر رکھتا ہے نہ سیاسی عہد ید ار بنا ، نہ کسی ریا ست کا گورنر مقرر ہو ا یہ ہی وجہ تھی کہ جب ڈونلڈ ٹر مپ نے امر یکا کے صدر کاانتخاب لڑنے کا اعلا ن کیا تو اس کا تمسخر اڑایاگیا ، کیو ں کہ اس کا مقابلہ امریکا کی سا بق خاتون اول ، منجھی سیا ست دان ، عالمی امو ر پر دسترس کی حامل سے تھاجس کے تجر بے سے صدارتی امو ر کے شب وروز گزر ے ، جو حکومتی امورکی اچھی طرح پر کھ رکھتی ہے ، جس کا وزارت خارجہ کا چار سال کا تجر بہ بھی ساتھ تھا اور وہ امر یکا کی ہر حکومت کی پا لیسیو ں سے مکمل طورپر آگاہ تھی ، مگر یہ کھڑا ک کیا ہوا کہ امر یکی میڈیا جو پو لنگ سے چالیس گھنٹے پہلے تک یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ ہیلری کلنٹن کو بڑے فرق سے کا میا بی ہو گی سب اندازے اور تدبیر یں الٹ گئیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے پنتالیسویں صدر منتخب ہو گئے اور امر یکا کی سیا سی تاریخ میں سب سے بڑا اپ سیٹ ہوا ہے ۔

ٹرمپ اورہلیر ی کی انتخابی مہم امریکی تاریخ کی سب سے مہنگی ترین انتخابی مہم تھی۔ ہلیر ی نے کوئی ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر اور ٹرمپ نے آٹھ سو ملین ڈالراپنی مہم پر خرچے ہیں ۔دوبلین ڈالر کا خرچہ ہو ا ہے ،مختصراًیہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ نے امریکی عوام کی کمزوری کو پکڑ لیا تھا اوریہ ہی کامیا بی کا سبب بنی اس وقت دو ہی افراد امر یکا میں ہیں جو امریکی خواہش کو بھانپ سکتے تھے۔ ایک تھے ڈیمو کریٹک پا رٹی کے بنی سنڈرس ، اگر ہلیر ی کی جگہ وہ امید وار ہو تے تو اس بات کا امکا ن تھا کہ وہ ٹرمپ کو شکست دے جا تے ، گزشتہ سترہ اٹھا رہ سال سے دنیا کے امیر ترین ملک کے عوام کی آمد نی گری ہے۔ اس عرصہ میں امیر لوگ امیر ترین بنے مگر عام آدمی غریب ہو ا ہے اوریہ احساس امریکی عوام میں کو ٹ کوٹ بھر ا ہو ا تھا ، جہا ں تک ہیلری کا تعلق ہے اس کے بار ے میں عوام کو یہ گمان تھا کہ ہیلری جو آٹھ سال تک اوباما کے ساتھ کا م کر تی رہی ہیں۔وہ اسی پا لیسی پر گامزن رہیں گی اورکوئی تبدیلی نہیں آئے گی ، دوم ڈیمو کریٹک پا رٹی کا ہلیر ی کو ٹکٹ دینے کا ایک یہ مقصد تھا کہ امر یکا کی تاریخ میں آج تک کوئی خاتو ن حکمر ان نہیں بنی ہے چنا نچہ تاریخ میں ایک نئی رقم اس طر ح درج ہو جا ئے گی کہ امر یکا کی پہلی خاتون کو حکمر ان بننے کا اعزاز حاصل ہو جائے گا جو نہ ہو سکا البتہ ہیلری کو یہ اعزاز ملا کہ وہ پہلی صدارتی امید وار کی خاتون کی حیثیت سے تاریخ میں نام درج کر اگئیں ، عام گما ن یہ بھی تھا کہ امریکی خواتین کی بھاری اکثریت ہیلری کو ووٹ ڈالے گی جب کہ ہیلر ی کو خواتین کی چوّن فی صد تعداد نے ووٹ دیئے مگر ٹرمپ کو بھی ترپن فی صد خواتین کے ووٹ پڑے گویا یہ نسبت برابر برابر رہی یہاں یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ اٹھا رہ سال سے چالیس سال تک عمر کی اکثریت نے ہلیر ی کو اور چالیس سال سے زیا دہ عمر کے ووٹرو ں نے ٹرمپ کو ووٹ دیئے ہیں۔ امر یکا کی آبادی کی اکثریت ادھیڑ عمر کے لو گو ں پر مشتمل ہے۔ اسی طر ح سفید فام نسل کے امریکیو ں نے اس مرتبہ اقلیتو ں کی طر ح ووٹ کا استعما ل کیا اور سفید فام ووٹروں کی اٹھا ون فی صد تعدا دنے ٹرمپ کو اورہیلری کو سینتیس فی صد نے ووٹ دیئے ،جب کہ سیا ہ فام ووٹ میں سے اٹھاسی فی صد ووٹ ہیلر ی اور باقی بارہ فی صد ٹرمپ کو ملے یا یو ں کہہ لیں کہ سارے سیا ہ فام ووٹ ہیلر ی کو ملے لا طینی باشند و ںکے ون فی صدہیلر ی کو اور تینتس فی صد ٹرمپ کو ملے ،اسی طر ح ایشیا ئی باشند وں کی اٹھا ون فی صد تعدا د نے ہیلر ی کو اور پینتیس فی صد نے ٹرمپ کو ووٹ دیا ، جن ووٹر کی تعلیم ہا ئی اسکول تک ہے ان کی اٹھا ون فی تعدا د نے ٹرمپ کو اور اکتیس فی صد نے ہیلر ی کو ووٹ دیئے گریجو یشن کر نے والو ں کی انچاس فی صد تعدا د نے ہیلر ی کو اور انتیس فی صد نے ٹرمپ کو اسی طر ح یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر نے والو ں کی انچا س فی صد تعداد نے ہیلر ی کو ووٹ دیئے اور انتیس فی صد نے ٹرمپ کو جس سے اند ازہ ہو تا ہے کہ پڑھے لکھے طبقہ نے ہیلر ی کو چنا ،ایک لا کھ ڈالر آمد نی والے طبقہ نے ٹرمپ کو ووٹ ڈالا جبکہ چالیس ہز ار ڈالر تک کما ئی کر نے والے طبقہ نے ہیلر ی کو ووٹ دئیے ۔امریکی انتخابات کے اعداد وشما ر کو پر کھ کر اند ازہ ہو تا ہے کہ امریکا میں سماجی فر ق بہت واضح ہو گیا ہے ، چنا نچہ وائٹ ہا ؤس کے نئے مکین کو اب اس تقسیم کو پا ٹنے کے لیے پا لیسی سا ز کا کر دار ادا کر نا ہو گا ورنہ مستقبل میں امر یکا اند رونی طور پر ایک نئی تقسیم کا شکا ر ہو جا ئے گا ۔کیو ں کہ یہ تقسیم نہ صرف نسلی بنیا د پر بلکہ اقتصادی ، معاشی ، اور معیا ر تعلیم کی بنیا د پر بھی نما یا ں نظر آرہی ہے۔ بات بھی واضح ہے کہ امر یکا کے غریب طبقہ اور اقلیت نے ٹرمپ کو منتخب کر انے میں اہم کر دار ادا کیا ہے چنا نچہ ان تما م عوامل کے اثرات امریکا کی خارجہ پالیسی پر بھی مر تب ہو ں گے۔ اس فرق کا احسا س ٹرمپ کو بھی ہے۔ چنا نچہ انہو ں نے اپنی کا میا بی کی تقریر میں اس کا بر ملا ذکر کیا ہے اور ان کو اب یہ احساس ہو چلا ہے کہ انتخاب جیتنے کے لیے بیا ن بازی میں اور ایک اہم ترین عہد ے کے امین بن جانے کی بیا ن بازی میںفر ق ہے۔ان کی سیا سی بیا ن بازی سے جو خدشات بعض حلقوں میںجنم لیے ہو ئے تھے ان کو انہوں نے اپنی پہلی تقریر میںختم کر دیا ہے جبکہ ان کی تقریر کا لب ولہجہ بھی بلا ہو اتھا۔ ویسے بھی امریکا میںکسی پا رٹی کی حکومت ہو کوئی بھی سربراہ ہو خارجی حالا ت وہی رہتے ہیں جو وہا ںکی صیہونی برادری کی خواہش ہوتی ہے۔ جو سی آئی اے کی پا لیسی ہو تی ہے جو پینٹاگان کی تمنا ہو تی ہے ، اوبا ما بھی بڑے تام جھا م سے آئے تھے کہ وہ جنگ ختم کر یں گے امر یکا کو جنگ سے نکالیں گے دنیا میں امن قائم کر یں گے مگر ان کے دور میں جنگ کا دائرہ وسیع تر ہوتا چلا گیا ، اور جنگی جنو ن وحشیانہ انداز اختیار کرتا چلا گیا ، اب ٹرمپ کی ٹرم ہے۔ انتظار کیجئے دیکھئے آگے آگے ہوتا کیا ہے ۔

متعلقہ خبریں