کھوٹا سکہ

کھوٹا سکہ

مال کے بدلے مال کی تجارت کے بعد جب اشیاء کی قیمتیں مقرر کی گئیں تو لین دین کیلئے سکہ رائج کیا گیا ۔ابتداء میں یہ سکہ مختلف دھاتوں سے بناہوتا تھا ۔جس میں تانبا،کانسی ،چاندی اور سونے کے دھات شامل تھے۔سکے کا وزن اور سکے کی مالیت برابر تھی۔جب چاندی کا سکہ رائج ہوا تو خالص چاندی کے سکہ میں کھوٹ کا استعمال شروع ہوا۔خالص چاندی یا سونے میں ملاوٹ کو کھوٹ کا نام دیا گیا اور اس ملاوٹ اور کھوٹ کی مناسبت سے سکے میں ملاٹ اور غیر دھات سے بنے ہوئے سکے کو کھوٹاسکہ کا نام دیا گیا ۔پرانے زمانے میں جب کاغذ کا نوٹ ایجاد نہیں ہوا تھا تو خالص چاندی کے سکے میں المونیم یا کسی او ر کم قیمت دھات کی ملاوٹ کی جاتی تھی۔اکثردکانداراس ملاوٹی کرنسی یا کھوٹے سکے کو پہچاننے کیلئے مقناطیس سے جانچ کرتے تھے۔ہر دکاندار کی کرنسی کے ٹوکرے میں ایک مقناطیس رکھا ہوتا تھا اور جس کرنسی پر شک گزرتا۔ وہ فوراً اُٹھا کر اُس میں کھوٹ کا پتہ لگا تے ۔مقناطیس کا کما ل یہ تھا کہ خالص چاندی سے مقناطیس چپک جاتا تھا۔ لیکن اگر کسی سکے میں کوئی کم قیمت والی دھات کا استعمال ہوتا تو مقناطیس اُس سے نہیں چپکتا تھا۔ جس سے سکے میں کھوٹ کا پتہ چلتا اور یہ کھوٹا سکہ حکومت وقت کو قبول نہیں ہوتا تھا۔اس لئے لوگ بھی اس کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔جوں جوں زمانہ ترقی کرتا گیا تو کھوٹے سکے آہستہ آہستہ جعلی نوٹوں میں تبدیل ہوگئے۔پہلے ٹکسال میں سکے بنائے جاتے تھے اور کھوٹے سکے کاریگر اور لوہار بناتے تھے۔اب سرکاری خزانے یا اسٹیٹ بینک میں نوٹ چھاپے جاتے ہیں۔جبکہ جعلی کرنسی کیلئے جعل سازوں نے گھروں اور خفیہ مکانوں میں چھاپہ خانے لگا رکھے ہیںاور جعلی نوٹ بنانے میں مہارت حاصل کی ہے۔ اصلی اور جعلی نوٹ کی پہچان مشکل ہوگئی ہے۔دیہات میں اب بھی ناخواندہ خواتین اور بوڑھوں کیلئے اصلی اور جعلی نوٹ میں فرق کرنا نا ممکن ہے۔اس وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں جعلی نوٹ گردش میں ہیں۔جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملاوٹ اور جعلی کرنسی کا رواج کافی پرانا ہے۔جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جعل سازی ہمار ے خمیر میں سرایت کر چکی ہے۔جعلی اشیاء کی پیداوار ،فروخت اور ان کا لین دین ایک کاروبار کی شکل اختیار کرگیا ہے۔پرانے زمانے میں صرف کرنسی میں ملاوٹ کی جاتی تھی۔ اب تو یہ ملاوٹ ہمارے کردار ،گفتاراور افکار میں پائی جاتی ہے۔ کاروبار میں دھوکے اور فراڈ کو صحیح ثابت کرنے کیلئے اسے مختلف نام دے کر لوگوں کو لوٹا جاتا ہے۔آج کل '' انڈر پولئی '' کے نام سے ایک کاروبار چل رہا ہے۔جس میں موٹرکاروں کی خرید و فروخت کے ذریعے دھندا کیا جاتا ہے۔اس کاروبار سے سینکڑوں لوگ قرض کی دلدل میں پھنس کر معاشی طور پر کنگال ہو گئے ہیں۔ زمینوں کی خرید و فروخت میں ایک لفظ '' پیکج '' کا استعمال کیا جاتا ہے۔ سرکاری طور پر مارکیٹ ریٹ کے علاوہ کمیشن یا رشوت کے طور پر جو رقم لی جاتی ہے اُس کو پیکج کا نام دیا گیا ہے۔زمینوں کی خرید وفروخت اکثر پیکج کے لالچ میں آکر جھگڑوں کا باعث بنتی ہے ۔اس کاروبار میں بھی کئی افراد مالی طور پردیوالیہ ہو چکے ہیں۔یا عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔جو کاروبار بھی عام روش سے ہٹ کر زبانی جمع خرچ پر کیا جارہا ہووہ نقصان کا باعث بنتا ہے۔ منافع میں بھی اگر پانچ سے دس فیصد سے زیادہ دینے کا وعدہ کیا جاتا ہے تو یقینا یہ غلط ہوتا ہے۔اسی منافع کے لالچ میں آکر بڑی کثیر تعداد میں لوگوں نے نام نہادمفتیان کے کہنے پر لاکھوں روپے ڈبوئے ہیں۔اس میں رقم دینے والوں کا بھی قصور ہے کہ اُنہوں نے زیادہ منافع کی لالچ میں سرمایہ کاری کی۔جس کے نتائج اب اُنہیں بھگتنے پڑ رہے ہیں۔یہ سارا کاروبار کھوٹے سکے کی طر ح ہے ۔ کھوٹے سکہ کی اصطلاح صرف کرنسی تک محدود نہیں رہی۔یہ اتنی مشہور ہوگئی ہے کہ سیاست میں بھی استعمال ہونے لگی ہے اور اکثر پارٹیوں کے سربراہ اس کی شکایت کرتے رہتے ہیں کہ ان کی جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اُن پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا اور وہ فصلی بٹیر وں کی طرح جگہ تبدیل کرتے رہتے ہیں۔کوئی پتہ نہیں کہ آج جو سبز جھنڈے کے نیچے سیاست کررہا ہے ۔کل وہ سبز،ہرے بھرے اور سرخ جھنڈوں کے نیچے نظر آتا ہے۔اکثر سیاست دانوںکے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو تقریباً سیاسی لیڈروں نے کئی کوٹ تبدیل کئے ہیں۔سبز سے سرخ اور سرخ سے رنگدار کوٹوں کی صف میں کھڑے ہو گئے ہیں۔یہ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ نظریے کی سیاست ختم ہوگئی ہے اور کھوٹے سکہ کی طرح ملاوٹی نظریات پر مبنی دوغلی سیاست عام ہے ۔جب بنیاد ہی دوغلے پن پر ہو تو اُس سے سچائی ،امانت اور دیانت کی کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ یہی ہمارا المیہ ہے کہ زندگی کے تمام شعبوں میں ہم سچائی ،اُصولوں اور امانت کو بھول گئے ہیں۔عبادت میں ریا کاری ،سیاست میں مکاری اور کاروبار میں عیاری دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ہم ترقی بھی کررہے ہیں۔لیکن اخلاق اور سکون کو کھو رہے ہیں۔اُس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہر قدم میں اخلاص نہیں ہے ۔ ملاوٹی اور بناوٹی قدم کا یہی حشر ہوتا ہے۔جس پر کوئی اعتبار نہیں کیا جاسکتا اور کھوٹے سکے کی طرح ہر آدمی اُس کو شک کی نگا ہ سے دیکھتا ہے۔جب تک خالص سکے کی طرح ہمارے اعمال صحیح نہ ہوں تو ہمارا ہر قدم مشکوک نظر آئے گا۔لہٰذا ہم کھوٹے سکے کو اُٹھا کر پھینک دیں اور صاف و شفاف ،اور مخلص بن کر ہر کام کی ابتداء کریں۔