نیا امریکی صدر اور خدشات

نیا امریکی صدر اور خدشات

سابق امریکی صدر رچرڈنکسن نے اپنی کتاب "In The Arena"میں انتخابات کے حوالے سے ایک دلچسپ بات لکھی ہے۔ روسی وزیر خارجہ سے ایک مغربی سفارت کار نے کہا کہ آپ لوگ انتخابات کا انعقاد کیوں نہیں کرتے ہیں؟ روسی وزیر خارجہ نے جواب دیا کہ وہ انتخابات کے خلاف نہیں ہیں بلکہ اس کو پسند کرتے ہیں لیکن انتخابات کے ساتھ ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ آپ کو پہلے سے اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ حالیہ امریکی انتخابات میں بھی یہی ہوا ہے۔ تمام سروے ہیلری کلنٹن کے حق میں تھے اور جیت ڈونلڈ ٹرمپ گئے۔ دنیا بھر کے ٹی وی چینلز ٹرمپ کی فتح کو حیران کن قرار دے رہے ہیں۔ امریکہ میں یہ عالم ہے کہ ٹرمپ کی فتح کا اعلان ہوتے ہی ٹرمپ ٹاور کے سامنے رات بھر مظاہرین جمع رہے اور اُن کا اصرار تھا کہ ہیلری کلنٹن الیکشن نتائج تسلیم کرنے کی بجائے انہیں سپریم کورٹ میںچیلنج کریں۔ یہ مطالبہ اس بنیاد پر ہے کہ ہیلری کلنٹن کے ووٹ ڈونلڈ ٹرمپ سے زیادہ ہیں لیکن الیکٹورل کالج کی وجہ سے الیکشن ہار گئی ہیں۔ ظاہر ہے ایسا ہونا ممکن نہیں ہے چونکہ امریکہ ایک فیڈریشن ہے اور فیڈریشن ہونے کے ناطے بعض اصول و ضابطے ابتداء میں طے کر لیے گئے تھے جن سے اب گریز ممکن نہیں۔ امریکہ کی سپریم کورٹ نے انیسویں صدی کے آغاز میں فیڈریشن کو مضبوط کرنے کے لیے ریاستوں کے مقابلے میں وفاق کے حق میں فیصلے دیے تاہم سپریم کورٹ سے یہ توقع کرنا کہ وہ ایسے معاملے میں اُلجھے گی جو فیڈریشن کے ڈھانچے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی لانے کا باعث بنے بعید ازقیاس ہے۔ ہیلری کلنٹن ڈونلڈ ٹرمپ کو فتح کی مبارک باد دے چکی ہیں جب کہ صدر باراک اوباما نے بھی انہیں فون کرکے وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دے دی ہے۔ اس کے بعد یہ بات خارج از امکان ہے کہ ہیلری کلنٹن ٹرمپ کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گی۔ درحقیقت یہ اقتدار کی ہموار منتقلی ہی ہوتی ہے جو کسی جمہوری نظام کا پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔ امریکی عوام کی پریشانی یہ ہے کہ ٹرمپ سرکار کے اقدامات سے امریکی معاشرہ وہ خصوصیات کھو دے گا جو امریکی ریاست کا خاصہ ہیں اور جن کو امریکی ریاست کا نصب العین قرار دیا جاتا رہاہے۔ وہ چار بنیادی انسانی حقوق ہیں جن پر امریکی ریاست کھڑی ہے۔جس پر نہ ماضی میں سمجھوتہ ہوا ہے اور نہ ہی مستقبل میں ان حقوق کو امریکی عوام نظر انداز ہونے دیں گے۔ زندہ رہنے کا حق ' آزادی ' مساوات اور خوشی کا حصول وہ بنیادی حقوق ہیں جن کی ضمانت امریکی آئین دیتا ہے اور معاشرہ اپنے تئیں ان حقوق پر کوئی سمجھوتہ کرنے پر تیار نہیں ہے۔ جان لاک کے فلسفے سے مستعار شدہ یہ حقوق امریکی ریاست کی بنیاد بنے اور ان حقوق کی بلا تفریق رنگ ' نسل اور مذہب فراہمی یقینی بنانے کے لیے امریکی آئین سازوں نے فرانسیسی مفکرما نٹیسکو کے افکار سے اختیارات کی تجدید و توازن (Check & Balance)کا نظریہ کشید کیا۔ انتظامیہ ' عدلیہ اور مقننہ کا وجود اور ان کے اختیارات ایک دوسرے کو ممتاز کُل بننے سے روکنے کے لیے ہیں چنانچہ امریکی عوام کے بنیادی حقوق کُلی طور پر محفوظ ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح مسلمانوں اور مسلمان دنیا کے لیے خاص طور پر نہایت تشویش کا باعث ہے۔ ٹرمپ کے خیالات مسلمانوں کے بارے میں عیاں ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ ری پبلکن صدور کی اُس روایت کو کہاں تک لے کر جاتے ہیں جو ماضی قریب میں مسلمان دنیا میں جارحیت کے ضمن میں دیکھنے کو ملی۔ جارج بش اسی کی دہائی کے آخر میں برسراقتدار آئے تو انہوں نے 1991ء میں عراق وار چھیڑ لی۔ بِل کلنٹن کے آٹھ سالہ دور کے اختتام پر جارج بش کے بیٹے جارج ڈبلیو بش نے امریکی صدارت سنبھالنے کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر دنیا میں وہ خونی کھیل کھیلا جو آج تک ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ باراک اوبامہ نے اپنے دور میں عراق و افغانستان سے امریکی فوجیں واپس بلائیں اور امریکی جنگ کو بڑی حد تک محدود کر دیا۔ شام پر وہ فوج کشی کا ارادہ رکھتے تھے لیکن روس کی زبردست مخالفت کے بعد انہوں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔ اب داعش کے خلاف بڑی کارروائی کرنے کے عزم کا نئے امریکی صدر نے جو اظہار کیا ہے اس کے تناظر میں یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ مسلمان دنیا کے خلاف ایک بڑی مہم دوبارہ برپا ہونے جا رہی ہے۔ باراک اوباما نے عرب بہار کے نام پر مسلمان ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کی تھی۔ اب اس سے دو قدم آگے کچھ ہونے کی توقع رکھنی چاہیے۔ ٹرمپ کے اسلاموفوبیا کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ دنیا اب نئے خطرات سے دوچار ہونے جا رہی ہے اور یہ رہنے کے لیے زیادہ غیر محفوظ ہو جائے گی چونکہ ماضی میں لیے گئے اسلام مخالف اقدامات کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے مسلمان ممالک میںآگ لگی جس کا شکار بعد ازاں مغربی ممالک بھی ہو گئے۔ مسلمان ممالک کے رہنما اگر نئے چیلنج کیلئے تیار نہ ہوئے تو وہ تباہی کا ایک نیا دور دیکھیں گے۔ ایک مسلمان ملک ہونے کے ناطے پاکستان کی فکرمندی اس سے بھی زیادہ ہے چونکہ مودی سرکار کے ساتھ ٹرمپ کا یارانہ ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ امریکہ اور بھارت پہلے ہی سٹریٹجک پارٹنر شپ کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں، اب یہ تعلقات دوستی کی نئی حدوں کو چھوئیں گے۔ چنانچہ باہمی اتفاق سے پاکستان کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ موجودہ عہد میں سفارتی محاذ پر ناکامی کی جو داستان رقم ہوئی ہے اس کو مدِنظررکھتے ہوئے تشویش پائی جاتی ہے کہ خدانخواستہ آنے والے کل میںپاکستان مزید عالمی تنہائی کا شکار نہ ہو جائے۔ 

متعلقہ خبریں