فلک پہ بیٹھ کے دنیا کو دیکھنے والے

فلک پہ بیٹھ کے دنیا کو دیکھنے والے

صوبائی حکومت نے پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ2016ء کے نام سے ایک بل پیش کرنے کا جو پروگرام بنایا ہے اس پر نجی تعلیمی اداروں کی تنظیم پیما (PEIMA) نے بعض تحفظات کا اظہار کیاہے جو ہمارے خیال میں قابل غور اور توجہ ہیں اور حکومت کو محولہ ایکٹ صوبائی اسمبلی سے منظور کرانے سے پہلے ان تحفظات کو ضرور نظر میں رکھنا چاہئے۔ اس سے پہلے کہ ہم ان تحفظات کو زیر بحث لائیں پہلے اس پس منظر پر توجہ دینے کی کوشش کرتے ہیں جو ملک بھر میں نجی تعلیمی اداروں کی ضرورت اور اہمیت واضح کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر کسی بھی دور میں حکومتی سطح پر تعلیم کو فروغ دینے اور ملکی ضروریات کے مطابق تعلیمی اداروں کی کمی پور ی کرنے کے حوالے سے وسائل مہیا کرنا ممکن نہیں رہا۔ یہاں تک کہ ماضی میں تو تعلیم کے لئے کبھی حکومت نے بجٹ میں اتنی رقم کبھی مہیا ہی نہیں کی کہ تعلیمی ضروریات اس سے پوری کی جاسکیں۔ بد قسمتی سے درس و تدریس کے سٹینڈرڈ پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی توقع اور ضرورت تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خود ان سرکاری سکولوں کے اپنے اساتذہ کے بچے سرکاری سکولوں کی بجائے نجی تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ کیونکہ جس طرح نجی تعلیمی اداروں نے ایک جانب ملک بھر میں آبادی کے بڑھتے ہوئے دبائو کا مقابلہ کرنے میں اپنا کردار ادا کیا وہاں سرکاری تعلیمی اداروں کی کمی کو پورا کرنے میں مدد دی جبکہ معیار کے لحاظ سے یہ نجی تعلیمی ادارے حکومتی اداروں کے مقابلے میں زیادہ بہتر نتائج فراہم کرتے آرہے ہیں اور یہی وہ پس منظر ہے جس میں نجی تعلیمی اداروں کی تنظیم پیما نے حکومت کے مجوزہ بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جن مسائل کی نشاندہی کی ہے ' ہماری نظر میں وہ بہت حد تک درست بھی ہیں اور ان پر توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔

فلک پہ بیٹھ کے دنیا کو دیکھنے والے
مرے جہاں کے مسائل کو کیا سمجھتے ہیں
پیما کے ذمہ داروں نے اس حوالے سے جو مراسلہ محکمہ تعلیم کے سپیشل سیکرٹری کے نام بھیجا ہے اس میں اس خدشے کا اظہار کیاگیا ہے کہ صوبائی حکومت نے نجی تعلیمی اداروں کو ریگولیٹری اتھارٹی کے تحت لانے کے لئے جو ایکٹ ڈیزائن کیا ہے اس کا بنیادی مقصد ان اداروں کو ''قومی تحویل'' میں لینے کے سوا کچھ بھی نہیں تاکہ ان کو حکومتی کنٹرول میں لا کر ان اداروں میں سرمایہ لگانے والوں کے حقوق سلب کئے جاسکیں اور اگر یہ ایکٹ نافذ ہو جاتا ہے تو تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والے ان اداروں میں سرمایہ کاری کو بتدریج کم کرتے ہوئے تقریباً ختم کردیا جائے گا۔ یوں یہ ایکٹ تعلیم کے شعبے کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
پیما نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر نجی تعلیمی اداروں میں تعلیمی اور امتحانی نظام میں حد درجہ کمزوریاں ہیں تو خود سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ اپنے بچوں کو سرکاری اداروں کی بجائے کیوں انہی نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجتے ہیں؟ پیما نے استفسار کیا ہے کہ بہتر تو یہی ہوگا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم کے معیار کی جانب توجہ دی جائے اور اس سلسلے میں اصلاحی پروگرام شروع کرکے ان سرکاری تعلیمی اداروں کو اس مقام پر پہنچا دیا جائے جہاں ملک کا ہر شہری خوش دلی سے اپنے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں کی بجائے انہی سرکاری اداروں میں داخل کرانے کی سوچ اپنا سکیں اور اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو پھر مجوزہ بل میں سے ایسی شقیں حذف کردی جائیں جن کی وجہ سے نجی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو تحفظات ہیں اور جن کی وجہ سے ان حلقوں میں اس ایکٹ کے حوالے سے منفی سوچ ابھر رہی ہے۔ پیما نے جن شقوں پر اپنے تحفظات کااظہار کیاہے ان پر نظر دوڑانے سے بڑی حیرت ہوتی ہے کیونکہ ان میں بعض شرائط ایسی ہیں جن پر پورا نہ اترنے کی صورت میں نجی تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں پر بھاری جرمانے اور قید کی سزا کا اطلاق کیاگیا ہے اور حیرت کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ جو لوگ قوم کو تعلیم دینے کی ذمہ داریاں اٹھائے ہوئے ہیں ان پر بھاری جرمانے تو ایک طرف قید و بند کی سزائیں دینے کا تو یہی مطلب ہے کہ شاید ہم نازی جرمنی کے دور میں پہنچ گئے ہیں۔ جہاں بات بات پر سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ اس سے حکومت کیا تعلیم کے شعبے میں خوف کا عنصر داخل کرنا چاہتی ہے اور نجی تعلیمی اداروں کے مالکان اور اساتذہ کے سروں پر خوف کی تلوار لٹکا کر زور زبردستی اپنے ایکٹ کی تعمیل کرانا چاہتی ہے؟ اگر ان تعلیمی اداروں پر اس قسم کا خوف طاری رہا تو وہاں کے تعلیمی ماحول کا شدید طور پر متاثر ہونا کس قسم کے نتائج مرتب کرسکے گا ۔ صوبائی حکومت کو تعلیم کے شعبے میں اصلاحات ضرور کرنی چاہئیں مگر کسی بھی ایکٹ کو نافذ کرنے سے پہلے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کرکے انہیں اعتماد میں لینا بھی اہم قدم ہوگا۔ یکطرفہ طور پر کوئی بھی قانون مثبت نتائج مہیا نہیں کرتا۔
سودا جو بے خبر ہے کوئی وہ کرے ہے عیش
مشکل بہت ہے ان کو جو رکھتے ہیں آگہی

متعلقہ خبریں