مشرقیات

مشرقیات

علامہ دمیری نے حیات الحیوان میں لکھا ہے کہ حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ مجھے محمد بن وہب نے اپنے بعض رفقاء کا حال سنا یا کہ ایک مرتبہ وہ ایوب جمال کے ساتھ حج کرنے گئے ۔ جب ہم صحرا میں داخل ہوئے اور چند منزل طے کر چکے تو ایک چڑیا کو د یکھا کہ وہ ہمارے سروں پر گھوم رہی ہے ۔ ایوب نے سراٹھا کر دیکھا تو کہنے لگے کہ یہاں بھی پیچھا نہ چھوڑا ۔ پھر انہوںنے روٹی کا ایک ٹکڑا مل کر اپنی ہتھیلی پر رکھا ۔ چڑیا ہتھیلی پر آبیٹھی اور کھانے لگی ۔ پھر انہوں نے چلو میں پانی لے کر اس کو پلایا ۔ جب پانی پی چکی تو اس سے کہا اڑجا ۔ چنانچہ وہ اڑگئی ۔ اگلے دن وہ پھر آئی ۔ آپ نے اس کو اس طرح کھلا یا اور پلایا ۔ الغرض وہ چڑیا آخر سفر تک روزانہ اسی طرح آتی رہی تو ایوب جمال نے کہا کیاتم کو اس چڑیا کا قصہ معلوم ہے ؟
روای کہتے ہیں کہ میں نے اس کا جواب نفی میں دیا ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ چڑیا روز میرے گھر میرے پاس آیا کرتی تھی اور میں اس کو کھلایا کرتا تھا ۔اب جب میں سفر میں چلا تو یہ بھی میرے ساتھ ہولی ۔
بیہقی اور ابن عسا کرنے ابو مالک کی سند سے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان کا گزر ایک چڑے کے پاس سے ہوا ایک چڑیا کے ارد گرد چکر لگا رہا تھا ۔ حضرت سلیما ن نے ہمراہیوں سے کہا کہ معلوم ہے یہ چڑا کیا کہہ رہا ہے ؟ ہمراہیوں نے عرض کیا کہ یا نبی اللہ ! آپ ہی فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ اس چڑیا کو شادی کا پیغام دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ تو مجھ سے نکاح کر لے اور پھر تو دمشق کے جس محل میں چاہے گی ، تجھ کو بسادوں گا ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اس چڑے کو معلوم ہے کہ دمشق کے محلات سنگین ہیں اور ان میں کہیں بھی گھونسلہ رکھنے کی جگہ نہیں ہے ، مگر پھر بھی یہ جھوٹ بول رہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شادی کے پیغام دینے والے اکثر جھوٹ بولنے کے عادی ہوتے ہیں ۔ تاریخ ابن خلکان ودیگر کتب تو اریخ میں مذکورہے کہ مشہور مفسر اور قرآنی اور عربی علوم کے ماہر ، علامہ زمخشری مقطوع الرجل تھے ۔ یعنی ان کی ایک ٹانگ کٹی ہوئی تھی ۔ لوگوں نے ان سے اس کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ میری والدہ کی بد دعا کا نتیجہ ہے ۔ میں نے بچپن میں ایک چڑیا پکڑی اور اس کی ٹانگ میں ایک ڈورا باند ھ دیا ۔ اتفاقاً وہ میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور اڑتے اڑتے ایک دیوار کے شگاف میں گھس گئی ۔ میں نے ڈورا پکڑکر ( جو شگاف کے باہر لٹکا ہوا تھا ، کافی لمبا ہونے کی وجہ سے ) زور سے کھینچا تو اس شگاف سے نکل آئی ، مگر ڈورے سے اس کی ٹانگ کٹ گئی ۔ والد ہ کو اس کا بڑا صدمہ ہوا اور مجھے یہ کہہ کر بد دعا دی کہ جس طرح تو نے اس کی ٹانگ کاٹ دی ، خدا تیری بھی ٹانگ ایسے ہی توڑ دے ۔ چنانچہ جب میں طالب علمی کی عمر کو پہنچا اور تحصیل علوم کی غرض سے بخارا کے لئے چلا تو دوران سفر سواری سے گر پڑا ۔ بخار ا جا کر میں نے بہت علاج کرایا مگر ٹانگ کٹائے بغیر بات نہ بنی اور انجام کار ٹانگ کٹوانی پڑی ۔
(حیات الحیوان ، جلد دوم )

متعلقہ خبریں