ماں کی لافانی محبت

ماں کی لافانی محبت

آج کل کرکٹ ، کرپشن، مہنگائی،سیاست اور سیاستدان کے حوالے سے بہت کچھ سننے کو ملتا ہے لوگ مہنگائی کے ہاتھوں نالاں ہوتے ہیں تو کرکٹ میچ دیکھ کر دل بہلالیتے ہیں اور اگر پاکستانی ٹیم میچ ہا ر جائے تو موڈ مزید بگڑ جاتا ہے۔ اسی طرح جب لوگوں کے پاس کچھ کہنے کے لیے نہ ہو تو کرپشن ان کا پسندیدہ موضوع ہوتا ہے سرکاری اہل کاروں کی کرپشن، ارباب اقتدار کے حوالے سے کرپشن کی لمبی لمبی داستانیں ایک دوسرے کو سنا کر اپنے دل کا غبار نکالتے رہتے ہیں۔ ہمارے ایک مہربان غیبت سے پرہیز تو نہیں کرسکتے لیکن پرہیز کرنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں وہ جب کسی کی کرپشن کی داستان شروع کرتے ہیں تو پہلے تمہید باندھتے ہوئے کہتے ہیں کہ یار موضوع ایسا ہے کہ غیبت میں آتا ہے لیکن بات یہ ہے کہ اور پھر اس کے بعد وہ خوب جی بھر کر معاشرے میں موجود کرپٹ عناصر پر روشنی ڈالتے رہتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست ہیں پروفیسر ہدایت اللہ وہ کچھ عرصہ ہوا ملازمت سے سبکدوش ہوچکے ہیں وہ ہمیں جب بھی ملتے ہیں معاشرے کی زبوں حالی پر تبصرہ ضرور کرتے ہیں۔ لوگوں کی بددیانتی ، کام چوری پرکڑھتے رہتے ہیں ہمارے کالموں پر بڑے جاندار تبصرے بھی کرتے ہیں ۔دوچار دن پہلے ہمارے ساتھ ملنے آئے تو اپنی لکھی ہوئی کتاب''زما مورے'' (میری ماں) ہمیں بطور تحفہ عنایت کر گئے مضامین کی فہرست پر نظر ڈالی تو بڑے شگفتہ انداز میں لکھے ہوئے ہلکے پھلکے مضامین تھے ان کے موضوعات دیکھے تو وہ کرکٹ، کرپشن ، مہنگائی وغیرہ تھے ۔کرپشن وہ ناسور ہے جو ہمیں دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے پروفیسر صاحب کرپشن پر ہلکا پھلکا تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آج کل کرپشن کا لفظ بہت عام ہوچکا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کا عام و خاص سب کے ساتھ بڑا مضبوط اور قریبی تعلق ہے لوگوں کی کرپشن کے ساتھ ایسی دوستی ہے کہ وہ اس کی خاطر نہ مذہب کو خاطر میں لاتے ہیں اور نہ بھائی کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں اپنی سرکاری ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے۔ فلاں کا بیٹا واپڈا میں بابو ہے لیکن اس نے ایسا گھر بنایا ہوا ہے کہ بالکل شیش محل ہے شیش محل۔ جب انگریزی لغت میں کرپشن کے معنی دیکھے تو لرز اٹھا! رشوت لینا، فساد، خرابی ، بدعنوانی مگر دوستو اب اس کا کیا علاج کہ اس نے ایسی خطرناک صورت اختیار کر لی ہے کہ شروع سے آخر تک ہمارا سارا معاشرہ اس مصیبت میں گرفتا ر ہے۔ بیچارے سیاستدانوں کی یہ مجبور ی ہے کہ انہوں نے ووٹ لینا ہوتا ہے اور ووٹ بغیر پیسوں یا لوگوں کے ساتھ ان کے غلط کاموں میں تعاون کیے بغیر کب ملتا ہے؟ اسی لیے تو اسے horse tradingکہاجاتا ہے یعنی گھوڑوں کی تجارت ! اور گھوڑوں کی تجارت بغیر پیسوں کے تو نہیں ہوتی ۔اس کے لیے اتنی رقم کی ضرورت پڑتی ہے جو گھوڑا ہی اپنی پشت پر اٹھا سکتا ہے۔ پولیس ، پٹواری جسے دیکھو بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہا ہے ۔ کرکٹ پر بڑا خوبصورت تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دنیا میں طرح طرح کی بیماریاں موجود ہیںمثلاً بخار، کھانسی، زکام، ٹی بی، کینسر، ایڈز، ڈیپریشن، بلڈ پریشر، پولیو، جذام وغیرہ لیکن یہ ایسی بیماریاں ہیں کہ ان سب کی وجوہات بھی موجود ہیں علاج بھی لیکن کرکٹ ایک ایسی بیماری ہے جو لاعلاج ہے۔ اگر کسی دفتر چلے جائیںتو بابو کرسی پر اپنی چادرچھوڑ کر جا چکا ہوتا ہے پوچھنے پر پتہ چلتا ہے کہ کسی ضروری کام کے لیے گیا ہوا ہے لیکن وہ کینٹین میں ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر کرکٹ میچ دیکھ رہا ہوتا ہے ۔اس کتاب کا سب سے خوبصورت اور دلوں کو چھو لینے والا مضمون ''زما مورے ''ہے جس میں ایک فرمانبردار بیٹے نے ماں کی لافانی محبت کا نقشہ کھینچ کر اسے خراج تحسین پیش کیا ہے بیٹے کے جذبات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے ۔ مضمون کا آغاز کچھ اس طرح ہوتا ہے میری ماں! تیرا وجود میرے لیے باعث رحمت ہے میری زبان نے دنیا میں سب سے پہلے جس چیز کا ذائقہ محسوس کیا ہے وہ تیر ے وجود کا حصہ تھا یعنی تیرا دودھ!تمام دنیا کی وہ خالص چیز جس کی لوگ مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ فلاں چیز اتنی خالص ہے جتنا کہ ماں کا دودھ۔ میری پیاری ماں مجھے تو رونے کے سوا کچھ نہیں آتا تھا تو نے مجھے سب سے پہلے ہنسنا سکھایا اور وہ ایسے کہ جب میں جھولے میں لیٹا ہوتا تو تو اپنی انگلی سے میرے ہونٹوں پر گد گدی کرتی اور مجھے ہنسی آجاتی۔ میری میٹھی ماں! میں تیرے وجود کی کس کس نعمت کو یاد کروں مجھے کھانے کا طریقہ تو نے سکھایا تو میرے اعضاء کی زبان بھی سمجھتی تھی جب میں اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ اپنے کان تک پہنچانے کی کوشش کرتا اور تجھے پتہ چل جاتا کہ میرے کان میں درد ہے جب میں روتا اور بار بار کروٹیں بدلتا تو تجھے پتہ چل جاتا کہ میرے پیٹ میں درد ہے۔ میری پیاری ماں تو نے مجھے بیٹھنا سکھایاپھر مجھے چلنا سکھایا۔ اے ماں! میں تیرے کس کس احسان کو یاد کروں میں جب کھیلتے کھیلتے تھک جاتا میرا لباس گندہ ہوجاتا چہرہ دھول سے اٹ جاتا تو میں تیری طرف دوڑ کر آتا تو اپنے ہاتھ کھول کر مجھے اپنے ساتھ چمٹا لیتی مجھے اپنے وجود کا حصہ بنالیتی۔ میری میٹھی ماں!میں سچ کہتا ہوں مجھے جو سکون تیرے ساتھ چپک کر ملتا مجھے ویسا سکون آج تک پھر کسی اور جگہ سے نہیں ملا میں آج تک ان پرسکون لمحات کو ترس رہا ہوں ۔ واقعی دل کی گہرائیوں سے لکھا ہوا مضمون ہے۔ ماں کا مقام و مرتبہ ہی ایسا ہے کہ اس پر جتنا کچھ بھی لکھا جائے وہ کم ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنے ماں باپ کا احترام کرتے ہیں ان کی خدمت کرکے دعائیں لیتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں