حامد کرزئی کے تلخ انکشافات

حامد کرزئی کے تلخ انکشافات

اسے تری آواز مکے اور مدینے کہیں یا پھر گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے والے محاورے سے تشبیہہ دی جائے کیونکہ امریکہ کا جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے کے مصداق اپنے سابق ''مربی'' یعنی افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے ہی امریکی دوغلی پالیسی کی ہنڈیا بیچ چوراہے کے پھوڑتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ امریکہ افغانستان میں داعش کو مدد اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ گویا بقول حامد کرزئی امریکہ چور سے کہتا ہے چوری کرو اور ملک سے کہتا ہے ہوشیار رہو۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ امریکہ کی اس دوہری چال کو خطے کے ممالک سمجھنے سے یا تو قاصر ہیں یا پھر جان بوجھ کرآنکھیں کبوتر کی مانند بند کرکے یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان پر افتاد نہیں پڑے گی اور اس قسم کی پالیسیوں سے وہ صرف اور صرف اپنے مقاصد کی تکمیل کرنا چاہتا ہے۔ یہ نہ کرے تو اس کے ملک کی اسلحہ ساز فیکٹریاں کہاں سے چلیں گی۔ دوسری جانب وہ اگر ایک طرف افغانستان میں اپنی فوجوں کو لا بٹھانے اور وعدے کے باوجود انخلاء سے گریز کر رہا ہے تو یوں دراصل وہ افغانستان کے بے پناہ قدرتی وسائل پر قابض رہنا چاہتا ہے۔ تیسری جانب وہ سی پیک کے توسط سے چین کو یورپی' وسط ایشیائی' خلیجی اور مشرق بعید کے ممالک کے ساتھ روابط کے آگے بند باندھنے کی کوشش میں پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو ہلا شیری دے رہا ہے اور اس کے ذریعے دراصل اپنی پراکسی وار کو مہمیز دیکر بلوچستان میں شورش کو ہوا دینے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے جبکہ چوتھی جانب وہ پاکستان پر براہ راست الزامات لگانے سے اسے دبائو میں لانا چاہتا ہے اور سی پیک کے حوالے سے وہ بھارت کی زبان بول رہاہے تویہ تمام اقدامات دراصل وہ اس خوف کے تحت کر رہا ہے کہ کہیں چین اس کے مقابلے میں عالمی اقتصادی قوت کے طور پر ابھر کر اس کیلئے بہت بڑا چیلنج نہ بن جائے۔ یوں وہ اس خطے میں ایک گریٹ گیم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے چومکھی لڑائی لڑنے کا تہیہ کر چکا ہے۔ تاہم اس پر سابق افغان صدر حامد کرزئی نے الزام لگا کر کسی اور کو نہیں تو کم از کم موجودہ افغان حکومت کو ضرور خواب غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ افغانستان کی موجودہ انتظامیہ جاگنے کی زحمت نہ کرے کیونکہ بزرگوں نے یہ بھی تو کہا ہے نا کہ سوئے ہوئے کو جگانا آسان ہے مگر جاگتے ہوئے کو کون جگائے؟

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کروہو کہ کرامات کروہو
حامد کرزئی نے بڑے چشم کشا انکشافات کئے ہیں اور روس کے ٹی وی چینل ''آر ٹی'' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں داعش کو مدد اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے جبکہ دہشت گرد تنظیم امریکی فوج کے اڈے بھی استعمال کرتی ہے۔ بغیر کسی نشانی اور فوجی رنگ کے امریکی ہیلی کاپٹرز ملک کے مختلف حصوں میں داعش کو سپلائی پہنچاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں بلکہ یقین ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ بہت سے لوگ ان کے پاس آئے اور انہوں نے ایسی ہی بات بتائی جبکہ حکومتی ذرائع سے بھی ایسی ہی اطلاعات مل رہی ہیں۔
لہٰذا مجھے یقین ہے کہ امریکہ کی اس سیاست میں خطے کے خلاف کوئی سازش یا حکمت عملی ہے۔ ہم افغانستان میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا استعمال نہیں چاہتے۔ امریکہ یہاں شدت پسندی کے خاتمے کیلئے آیا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا جو ہمارے لئے باعث تشویش ہے۔ ہمیں حق پہنچتا ہے امریکہ سے پوچھیں کہ اس کی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی کڑی نگرانی اور موجودگی کے باوجود داعش نے کس طرح افغانستان میں اپنی جڑیں مضبوط کیں۔ سودا نے کہا تھا
سودا جو بے خبر ہے کوئی وہ کرے ہے عیش
مشکل بہت ہے ان کو جو رکھتے ہیں آگہی
افغان رہنمائوں کی بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے یعنی وہ ''عیش'' کرنے کیلئے خود کو جان بوجھ کر بے خبر رکھتے ہیں اور ان کی آنکھیں اس وقت کھلتی ہیں جب وہ اقتدار سے الگ ہو جاتے ہیں۔ تاہم تب تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ کر نکل چکا ہوتا ہے چونکہ داعش کے بارے میں اب یہ بات دنیا پر عیاں ہو چکی ہے کہ اس کی''پیدائش'' کا سہرہ امریکہ ہی کے سر بندھتا ہے، اسلئے اگر امریکی افغانستان میں اپنے اس بغل بچے کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کر رہا ہے تو حامد کرزئی کے ان دعوئوں میں کوئی شک نہیں ہوسکتا۔ اس سے پہلے دیگر جنگجو گروپوں کی بھی جس طرح امریکی ہی سر پرستی کرتے رہے ہیں اس حوالے سے پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اپنے حالیہ دورہ امریکہ میں واضح کردیا ہے کہ آج امریکہ پاکستان کو جن لوگوں کے خلاف سخت اقدامات پر مجبور کر رہا ہے یہ وہی لوگ ہیں جو کل تک امریکی آنکھوں کے تارے اور وائٹ ہائوس کے خاص مہمان ہوا کرتے تھے۔ بہر حال اگر حامد کرزئی یہی تلخ باتیں اپنے دور اقتدار میں کرتے تو اگرچہ بہت سوں خصوصاً افغان عوام کا اس سے بھلا ضرور ہوتا لیکن خود کرزئی کا کیا ''حال'' ہوتا اس حوالے سے صرف تصور ہی کیا جاسکتا ہے تاہم اب دیکھتے ہیں کہ موجودہ صدر اشرف غنی اور اس کے شریک اقتدار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اس بیان پر کیا رد عمل دیتے ہیں۔ اس کو سچ مانتے ہیں یا پھر حامد کرزئی غصے سے بھرے ہوئے اقتدار سے محروم ایک شخص کی ''ہرزہ سرائی'' قرار دے کر خود بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست کے مقولے پر عمل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اس شعر کی تفسیر بن کر رہتے ہیں کہ
تم سے پہلے وہ جو شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

متعلقہ خبریں