اداروں کے درمیان ڈائیلاگ

اداروں کے درمیان ڈائیلاگ

چیئر مین سینیٹ رضا ربانی نے حکومت ، ملٹری ، بیوروکریسی اور عدلیہ کے درمیان ڈائیلاگ کرانے کا اعلان کردیا ہے ۔ایوان بالا میں پارلیمنٹ کی بالادستی پر بحث ہوئی جس میں وزراء غیر حاضر رہے ، پاناما کیس کے فیصلے کے بعد پیدا صورتحال سے متعلق تحریک پر بحث کے دوران ملک کے تین سب سے طاقتور اداروں کی اعلیٰ قیادت کو سینیٹ میں مدعو کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے لہٰذا اس حوالے سے بین الادارہ جاتی مکالمہ ہونا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ آئینی اداروں میں پارلیمنٹ سب سے کمزور ترین ادارہ ہے جس کی 9وجوہات ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کی طرف سے پارلیمنٹ کو سنجید گی سے نہ لینا ، اہم فیصلوں کا اعلان پارلیمنٹ سے باہر ہونا ، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بجائے کل جماعتی کانفرنسوں جیسے فورمز کو اہمیت دینا ، سیاسی معاملات کو سپریم کورٹ میں لے جانا ، اہم امور پر پارلیمانی عمل کو نظر انداز کرنا ، بالخصوص خارجہ و داخلی سلامتی کے عالمی معاہدوں کو پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنا ، قرضوں کی معافی ، مالیاتی معاہدوں سے پارلیمنٹ کو آگاہ نہ کرنا ، پارلیمانی نگرانی کی اہمیت کو تسلیم نہ کرنا ، ہائو س میں وزیر اعظم اور وزراء کی عدم موجودگی ، پارلیمنٹ کے سوالات کا بروقت جواب نہ آنا ، وزیراعظم کی طرف سے اہم بیانات کیلئے پارلیمنٹ کے بجائے پریس کانفرنس ، قوم سے خطاب اور عوامی اجتماعات کوا ہمیت دینا ، ہائوس میں دی جانے والی رولنگ پر عمل در آمد نہ ہونا ، عوام اور پارلیمنٹ میں عدم رابطہ ، پارلیمانی کمیٹیوں کو نظر انداز کرناجیسے معاملات شامل ہیں۔ بحث کے دوران چیئرمین سینیٹ رضار بانی کا کہنا تھا کہ عدلیہ اور انتظامیہ کے مقابلے میں آج پارلیمنٹ اختیارات کی کمزور ترین سطح پر ہے۔ کبھی عدلیہ ، کبھی آمریت اور کبھی ایگزیکٹو کی طرف سے پارلیمنٹ پر یلغار کی گئی لہٰذا پاناما کیس فیصلے کے بعدسیاسی صورتحال پر بحث میں ان تمام معاملات کو مد نظر رکھتے ہوئے بات کی جائے ۔امر واقعہ یہ ہے کہ اصولی طور پر ملک کو درپیش مسائل اور خصوصاً گزشتہ 70سال سے زائد عرصے کے دوران جہاں طالع آزما ئوں نے پارلیمنٹ کی بساط لپیٹ کر ملک میں آمریت قائم کی وہاں عدلیہ نے بھی نظریہ ضرورت ایجاد کر کے مارشل لائوں کو جواز عطا کیا ، اور نہ صرف فوجی حکمرانی کو جائز قرار دیا بلکہ خود اپنے ہی مینڈیٹ کی سرحدوں کو پامال کرتے ہوئے ان ڈکٹیٹروں کو آئین جیسی مقدس دستاویز میں مرضی کی ترامیم کرنے کی اجازت دی ، جس سے پارلیمنٹ کی کمزوری کی بنیادیں فراہم کر دی گئیں ، تاہم معاملات اس حد تک بگڑ نے کی ذمہ داری صرف عدلیہ اور فوج پر عاید کرنے سے صورتحال میں سدھار نہیں آسکتا بلکہ سیاسی رہنماء بھی اس میں برابر کے شریک رہے ہیں ، جن کے ذاتی مفادات نے معاملات اس حد تک پہنچا نے میں اہم کردار ادا کیا ، جن نو نکات کی نشاندہی چیئر مین سینیٹ نے کی ہے ان میں بیشتر ایسے ہیں جن کے ساتھ عدم اتفاق کا بھی جواز نہیں ہے اور ان خرابیوں کو یقینا دور ہونا چاہیے ، تاہم ایک اہم سوال یہاں ضرور ابھرتا ہے اور وہ ہے کہ ایک جانب تو چیئر مین سینیٹ اداروں کو اپنی حدوود میں رہنے اور رکھنے کی وکالت کرتے نظر آرہے ہیں جبکہ دوسری جانب اداروں کو بحث میں شامل کرنے کے لئے ڈائیلاگ بھی ایوان بالا میں کرنے کے خواہشمند ہیں ، جس سے کیا یہ تاثر پیدا ہونے کا احتمال نہیں ہوگا کہ چیئر مین صاحب عدلیہ اور انتظامیہ کو ان کے آئینی مینڈیٹ سے ماوراء اختیار ات دے کر پارلیمنٹ کا حصہ بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں جس کے بعد ایک ایسا پنڈورا باکس کھل جائے گا جس سے برآمد ہونے والی'' بلائو ں ''کو روکنے میں آنے والے ادوار میں کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکے گا ۔ یعنی ان اداروں کو اگر آج پارلیمنٹ کے معاملات میں یوں حصہ لینے کی اجازت دیدی گئی تو آئندہ سے تمام ادارے اپنے لئے آئینی کردار کی موجودہ حدود سے آگے کے اختیارات طلب کریں گے اور چیئر مین سینیٹ آج پارلیمنٹ کی جس کمزوری کا تذکرہ کر رہے ہیں کیا اداروں کے سربراہان کو اجلاس میں بلوا کر وہ خود اس ''کمزوری '' پر مہر تصدیق ثبت نہیں کر رہے ہیں ۔ چاہیئے تو یہ کہ اگر بین الا دارتی ڈائیلاگ ضرور ی ہے جس کا مقصد ہر ادارے کو آئینی حدود میں رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور دوسرے اداروں کے معاملات میں دخیل ہونے سے باز رکھنا مقصود ہو تو اس کے لئے بہتر طریقہ یہ ہے کہ ایوان کے باہر ہی اس قسم کے ڈائیلاگ کا ڈول ڈالا جائے اور تجاویز لے کر ضروری ہو تو آئین میں ترمیم کر کے معاملات کو حل کرنے کی سبیل کی جائے ۔ ہماری دانست میں چیئر مین سینیٹ کی تجویز سے پارلیمنٹ کے ''مزید کمزور '' ہونے کی راہ ہموار ہوگی اور ملک میں جب بھی کوئی بحران پیدا ہوگا تو دیگر ادارے زیادہ مضبوط نظر آئیں گے ، تاہم سب سے اہم کردار خود سیاستدانوں کا ہے جو بوقت ضرورت نہ صرف خاموش رہتے ہیں بلکہ پارلیمنٹ پر پڑنے والی کسی بھی افتاد کے وقت اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں ۔ ذاتی مفادات اور اغراض کی موجودگی میں ان کی زبانیں گنگ رہتی ہیں جبھی تو وہ ہر دور میں جبر برداشت کرتے رہے ہیں ۔ اس لئے خود انہیں اپنے رویئے تبدیل کرنے پر غور کر لینا چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں