''ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا ''

''ہائے اُس زود پشیماں کا پشیماں ہونا ''

جناب نواز شریف کو اب یاد آیا کہ یوسف رضا گیلانی کا معاملہ نااہلی تک نہیں جانا چاہیئے تھا ، وہ تکرار کے ساتھ ''سازش '' کا ذکر کر رہے ہیں مگر سازش کے کردار وں اور مقام سازش بارے بات نہیں کرتے البتہ ان کے متوالے اور مریم نواز کی سوشل میڈیا ٹیم یہ '' ثابت'' کرنے میں مصروف ہے کہ فوج نے سازش کی سپریم کورٹ ہراول دستہ بنی ۔ یہ ارشاد بھی تکرار کے ساتھ جاری ہے کہ فیصلہ پی سی او ججز نے کیا ۔ پی سی او ججز کے حوالے سے نون لیگ کے موقف اور محترمہ عاصمہ جہانگیر کے ذریں خیالات بارے ان کالموں میں تفصیل کے ساتھ معروضات پیش کر چکا ۔ بنیادی سوال جس کا جواب نون لیگ اور خود نواز شریف پر قرض ہے اپنی جگہ موجود ہے ۔ یعنی جب میثاق جمہوریت میں ہمہ قسم کے پی سی او ججز کو عدلیہ سے نکالنے کا فیصلہ ہو گیا تھا تو آزاد عدلیہ کا ٹوپی ڈرامہ کرنے کی ضرورت کیا تھی ؟ ۔ اس کالم کے قارئین کو یا د ہوگا کہ 2007کے سال میں مشرف افتخار چودھری تنازعہ کے دنوں میں تو اتر کے ساتھ عرض کرتا رہا کہ افتخار چودھری جنرل کیانی کے منصوبے کا حصہ ہیں ۔ پھر وقت نے اس عاجز کی باتوں کی حرف بہ حرف تصدیق کی لیکن جن دنوں یہ عرض کر رہا تھا میرے جمہوریت پسند اور آزاد عدلیہ کے حامی دوست شدید ناراض ہوئے ۔ خوشی اور ناراضگی لکھنے والوں کا مسئلہ ہے نہ ضرورت ۔ طالب علم دستیاب معلومات پر عرض کرتا ہے ۔ اساتذہ کی تربیت اور فرمان یہ ہے کہ جو معلوم ہے بروقت لکھ دیا جائے۔ صحافی معلومات پر حرف جوڑ تے ہیں۔ ولی ہوتے ہیں نہ خدائی فوجدار ۔ کیسی عجیب بات ہے پچھلے پانچ برسوں کے دوران گیلانی کے خلاف چودھری کورٹ کا فیصلہ ''سونے کے پانی سے لکھے جانے کا حق رکھتا تھا '' اور اب خود اپنے بارے فیصلہ آیا تو پی سی او ججز یاد آئے اور پھر یہ بھی کہ گیلانی کی نااہلی کا فیصلہ نہیں آنا چاہیئے تھا۔ میاں صاحب بھولے بہت بنتے ہیں، ہیں ہر گز نہیں ۔ مطلب کے پکے ہیں ۔ یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ آج بھی اگر وزیر اعظم گیلانی ہوتے اور پانامہ کیس کا فیصلہ ان کے خلاف آیا ہوتا تو میاںنواز شریف نے یہی کہنا تھا ''جرم بڑا تھا سزا بہت کم ملی ''۔ سوال یہ ہے کہ اگر فوج بارے جاری مہم میں دس فیصد صداقت ہے تو ارشاد کیجئے ۔ کون کون سازش میںملوث ہے ، فیصلہ کس نے پیشگی لکھا اور ججوں نے محض پڑھ کر سنایا ؟ وہ سیاسی و صحافتی دوست جو میاں نواز شریف کو مہا بلی آف جمہوریت کے طور پر پیش کرتے پھررہے ہیں وہ خدا جانے یہ حقیقت کیوں سمجھنے پر تیار نہیں کہ نواز شریف کے نزدیک جمہوریت کا مطلب ان کا خاندانی اقتدار ہے ۔جمہور خاندان شریف کانام ہے باقی کے 22کروڑ عوام بندہ بے دام رعایاہیں ۔ یہاں ایک بات اور عرض کیئے دیتا ہوں ۔ جناب نواز شریف کا احتجاج اور ٹکرائو کی پالیسی محبت ،جمہورو جمہوریت کے لئے نہیں بلکہ ان کی پریشانی ان چند چینی کمپنیوں کے ذمہ دار ان کا وہ اعترافی بیان ہے کہ انہوں نے سی پیک کے ٹھیکوں میں کمیشن ادا کیا ۔ چند دن صبر کیجئے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔ غیر جذباتی انداز میں یہ عرض کروں کہ پنجاب والوں کو شکر ادا کرنا چاہیئے ۔ بات سمجھنے کے لئے آپ کوئی 1985ء کے ان دنوں میں لئے چلتا ہوں جب غیر جماعتی اسمبلی نے محمد خان جو نیجو کو وزیر اعظم منتخب کیا اور پیر پگاڑا سید علی مردان شاہ مرحوم نے جنرل ضیا ء الحق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا '' جنرل صاحب زندہ جونیجو وزیراعظم بننے کے لئے دیا ہے سندھ کو جو نیجو زندہ ہی واپس چاہیئے ''۔ گو اب ویسے حالات نہیں پھر بھی جان بچی لاکھوں پائے ہے۔ اپنے احتجاج ، پتھر ائو برانڈ گفتگو اور جی ٹی روڈ ریلی سے جناب نواز شریف وہی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں جو انہوں نے مشرف کے خلاف بنے اے آر ڈی نامی اتحاد میں شامل ہو کر حاصل کئے تھے ۔چوالیس برسوں سے صحافت کے شعبہ میں طالب علم کے طور پر فرائض ادا کرتے ہوئے ریاستی اداروں یا کسی سیاسی ود یندار جماعت کی میڈیا منیجری کا شرف حاصل نہیں کیا آزاد منش انسان اور لکھنے والے کے طور پر تجزیہ کرتا ہوں ۔ ان لمحوں تجزیہ یہ ہے کہ شریف فیملی اداروں سے اپنی نفرت کی آڑ کا ایندھن اپنے کارکنوں کو بنانے کافیصلہ کر چکی ۔ اصولی طور پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر تحفظات اور اپیل کا انہیں حق حاصل ہے مگر سوال یہ ہے کہ جب وہ اپیل کریں گے تو پورے فیصلے کو چیلنج کریں گے یا فقط اقامہ والے نکتے کو ؟ وضاحت کے ساتھ عرض کیئے دیتا ہوںمیاں نواز شریف اثاثے چھپانے اور جھوٹا بیان حلفی دینے پر نااہل ہوئے وہ اور ان کے متوالوں کے لشکر نااہلی کے فیصلے کے صرف ایک نکتہ کو لے کر ہا ہا کاری میں مصروف ہیں ۔ میرے لائق احترام ترقی پسند اور قوم پرست دوست محفوظ جان شکوہ کرتے ہیں کہ جمہوریت پر اس حملے بارے آپ خاموش ہیں ۔ کیا عرض کرو ں ، جمہوریت تھی نہ ہے ۔ پاکستان کے چاروں صوبوں اور پانچوں قومیتوں کے لوگ اپنی اپنی حدمیں خاندانی سیاست اور طبقاتی مفادات کے محافظوں کی غلامی میں مصروف ہیں ۔ ہمیں غلامی بھی راس ہے ۔ کیا میاں نواز شریف کی حمایت محض اس لئے کی جائے کہ وہ دبائو بڑھائیں اور کرپشن کے کیسز نیب سے احتساب عدالتوں کا سفر نہ کرنے پائیں ؟ ۔ احتساب کی شروعات کا کہیں سے تو آغاز ہونا ہے نواز شریف ''پاک دامن '' ہیں تو عدالتوں سے بری ہو جائیں گے ۔ ان دنوں ایک عجیب بات یہ ہورہی ہے کہ شریف خاندان کو ذوالفقار علی بھٹو شدت سے یاد آرہے ہیں۔ چند دن قبل تک نواز شریف بھٹو پر بہت سارے الزامات لگا رہے تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ انہوں نے ہمارے کاروبار پر قبضہ کیا ۔ پچھلے دو دن سے وہ کہہ رہے ہیں کہ 1971ء کے سقوط مشرقی پاکستان کے بعد بھٹو نے پاکستان کو سنبھالا ۔بھٹو کیس کا فیصلہ درست نہیں تھا ۔ کیا ہم اتنے سادہ ہیں کہ یہ نہ سمجھ سکیں کہ یہ سب کہہ کرو ہ خود کو بھٹو ثانی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ معاف کیجئے گا جناب میاں نواز شریف آپ بھٹو کبھی نہیں بن سکتے بھٹو پر ایک دمڑی کی کرپشن کا الزام نہیں تھا وہ مرد آزاد تھے ۔

متعلقہ خبریں